ہے شور ساحلوں پر سیلاب آ رہا ہے آنکھوں کو غرق کرنے پھروں خواب آ رہا ہے ب سے ایک جسم دے کر رخصت کیا تھا ا سے نے اور یہ کہا تھا باقی اسباب آ رہا ہے خاک وصال کیا کیا صورت بدل رہی ہے سورج گزر چکا ہے مہتاب آ رہا ہے پانی کے آئینے ہے وہ ہے وہ کیا آنکھ پڑ گئی ہے دریا ہے وہ ہے وہ کیسا کیسا گرداب آ رہا ہے آنکھوں کی پیالیوں ہے وہ ہے وہ بارش مچی ہوئی ہے صحرا ہے وہ ہے وہ کوئی منظر شاداب آ رہا ہے
Related Ghazal
ب سے اک اسی پہ تو پوری طرح ایاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت کہ رہا ہے مجھے رایگاں تو ہاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جسے دکھائی دوں مری طرف اشارہ کرے مجھے دکھائی نہیں دے رہا روویج ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ادھر ادھر سے نمی کا رساؤ رہتا ہے سڑک سے نیچے بنایا گیا تو مکان ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی نے پوچھا کہ جاناں کون ہوں تو بھول گیا تو ابھی کسی نے بتایا تو تھا شہر خاموشاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو تجھ سے مٹاؤں گا احتیاط کے ساتھ تو ب سے نشان لگا دے ج ہاں ج ہاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے سے پوچھوں یہ رستہ درست ہے کہ غلط ج ہاں سے کوئی گزرتا نہیں و ہاں ہوں ہے وہ ہے وہ
Umair Najmi
55 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر
Anwar Shaoor
95 likes
آئینے آنکھ ہے وہ ہے وہ چبھتے تھے بستر سے بدن کترا تا تھا ایک یاد بسر کرتی تھی مجھے ہے وہ ہے وہ سان سے نہیں لے پاتا تھا ایک شخص کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ تھا سب کچھ میرا کھلنا بھی مرجھانا بھی روتا تھا تو رات اجڑ جاتی ہنستا تھا تو دن بن جاتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ رب سے رابطے ہے وہ ہے وہ رہتا ممکن ہے کی ا سے سے رابطہ ہوں مجھے ہاتھ اٹھانا پڑتے تھے تب جا کر حقیقت فون اٹھاتا تھا مجھے آج بھی یاد ہے بچپن ہے وہ ہے وہ کبھی ا سے پر نظر ا گر پڑتی مری گدا سے پھول برستے تھے مری تختی پہ دل بن جاتا تھا ہم ایک زندان ہے وہ ہے وہ زندہ تھے ہم ایک زنجیر ہے وہ ہے وہ بڑھے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ کر ہم کبھی زار تھے تو رونا آتا تھا حقیقت جسم دلائیں نہیں ہوں پاتا تھا ان آنکھوں سے مجرم ٹھہراتا تھا اپنا کہنے کو تو گھر ٹھہراتا تھا
Tehzeeb Hafi
129 likes
More from Farhat Ehsaas
ہے وہ ہے وہ رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور ا سے کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری ہونٹوں کے صحرا ہے وہ ہے وہ تیری آنکھوں کے جنگل ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو اب تک پا چکا ہوں ا سے کو کھونا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ساحل یہ کچی مٹیوں کے ڈھیر اپنے چاک پر رکھ لے تیری رفتار کا ہم رقص ہونا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیرا ساحل نظر آنے سے پہلے ا سے سمندر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں سے کے سب سفینوں کو ڈبونا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوریاں کبھی تو توڑے آوےگی عشق دل ج ہاں ہے وہ ہے وہ مری ہونے کی تیری واجب ہے وہ ہے وہ خود کو بنا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری سارے بدن پر دوریوں کی خاک بکھری ہے تمہارے ساتھ مل کر خود کو دھونا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ
Farhat Ehsaas
3 likes
تمہیں ا سے سے محبت ہے تو ہمت کیوں نہیں کرتے کسی دن ا سے کے در پہ رقص وحشت کیوں نہیں کرتے علاج اپنا کراتے پھروں رہے ہوں جانے ک سے ک سے سے محبت کر کے دیکھو نا محبت کیوں نہیں کرتے تمہارے دل پہ اپنا نام لکھا ہم نے دیکھا ہے ہماری چیز پھروں ہم کو عنایت کیوں نہیں کرتے مری دل کی تباہی کی شکایت پر کہا ا سے نے جاناں اپنے گھر کی چیزوں کی حفاظت کیوں نہیں کرتے بدن بیٹھا ہے کب سے کاسا امید کی صورت سو دے کر وصل کی خیرات رخصت کیوں نہیں کرتے خوشگوار دیکھنے کے شوق ہے وہ ہے وہ ہم مر مٹے جاناں پر خوشگوار کرنے والو اب خوشگوار کیوں نہیں کرتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ساتھ جذبوں کی جماعت لے کے آیا ہوں جب اتنے مقت گرا ہیں تو طلسم یار کیوں نہیں کرتے جاناں اپنے ہونٹ آئینے ہے وہ ہے وہ دیکھو اور پھروں سوچو کہ ہم صرف ایک بوسے پر قناعت کیوں نہیں کرتے بے حد ناراض ہے حقیقت اور اسے ہم سے شکایت ہے کہ ا سے ناراضگی کی بھی شکایت کیوں نہیں کرتے کبھی اللہ میاں پوچھیں گے تب ان کو بتائیں گے کسی کو کیوں بتائیں ہم عبادت کیوں نہیں کرتے <
Farhat Ehsaas
23 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Farhat Ehsaas.
Similar Moods
More moods that pair well with Farhat Ehsaas's ghazal.







