ghazalKuch Alfaaz

main ye kis ke naam likkhun jo alam guzar rahe hain mire shahr jal rahe hain mire log mar rahe hain koi ghhuncha ho ki gul ho koi shakh ho shajar ho vo hava-e-gulsitan hai ki sabhi bikhar rahe hain kabhi rahmaten thiin nazil isi khitta-e-zamin par vahi khitta-e-zamin hai ki 'azab utar rahe hain vahi taeron ke jhurmut jo hava men jhulte the vo faza ko dekhte hain to ab aah bhar rahe hain badi aarzu thi ham ko nae khvab dekhne ki so ab apni zindagi men nae khvab bhar rahe hain koi aur to nahin hai pas-e-khanjar-azmai hamin qatl ho rahe hain hamin qatl kar rahe hain main ye kis ke nam likkhun jo alam guzar rahe hain mere shahr jal rahe hain mere log mar rahe hain koi ghuncha ho ki gul ho koi shakh ho shajar ho wo hawa-e-gulsitan hai ki sabhi bikhar rahe hain kabhi rahmaten thin nazil isi khitta-e-zamin par wahi khitta-e-zamin hai ki 'azab utar rahe hain wahi taeron ke jhurmut jo hawa mein jhulte the wo faza ko dekhte hain to ab aah bhar rahe hain badi aarzu thi hum ko nae khwab dekhne ki so ab apni zindagi mein nae khwab bhar rahe hain koi aur to nahin hai pas-e-khanjar-azmai hamin qatl ho rahe hain hamin qatl kar rahe hain

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

More from Obaidullah Aleem

کوئی دھن ہوں ہے وہ ہے وہ تری گیت ہی گائے جاؤں درد سینے ہے وہ ہے وہ اٹھے شور مچائے جاؤں خواب بن کر تو برستا رہے شبنم شبنم اور بس ہے وہ ہے وہ اسی موسم ہے وہ ہے وہ نہائے جاؤں تیرے ہی رنگ اترتے چلے جائیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو لکھوں تری تصویر بنائے جاؤں جس کو ملنا نہیں پھروں اس کا سے محبت کیسی سوچتا جاؤں مگر دل ہے وہ ہے وہ اتاریں جاؤں اب تو اس کا کی ہوئی جس پہ مجھے پیار آتا ہے زندگی آ تجھے سینے سے لگائے جاؤں یہی چہرے مری ہونے کی گواہی دیں گے ہر نئے حرف ہے وہ ہے وہ جاں اپنی سمائے جاؤں جان تو چیز ہے کیا رشتہ جاں سے آگے کوئی آواز دیے جائے ہے وہ ہے وہ آئی جاؤں شاید اس کا راہ پہ کچھ اور بھی راہی آئیں دھوپ ہے وہ ہے وہ چلتا رہوں سائے بچھائے جاؤں اہل دل ہوں گے تو بھلاکر سخن کو میرے بزم ہے وہ ہے وہ آ ہی گیا تو ہوں تو سنائے جاؤں

Obaidullah Aleem

1 likes

ذکر وفا سا حرص و ہوا سا لگتا ہے یہ شہر دل سے زیادہ دکھا سا لگتا ہے ہر اک کے ساتھ کوئی واقعہ سا لگتا ہے جسے بھی دیکھو حقیقت کھویا ہوا سا لگتا ہے زمین ہے سو حقیقت اپنی گردشوں ہے وہ ہے وہ کہی جو چاند ہے سو حقیقت ٹوٹا ہوا سا لگتا ہے مری وطن پہ اترتے ہوئے اندھیروں کو جو جاناں کہو مجھے قہر خدا سا لگتا ہے جو شام آئی تو پھروں شام کا لگا دربار جو دن ہوا تو حقیقت دن کربلا سا لگتا ہے یہ رات کھا گئی اک ایک کر کے سارے چراغ جو رہ گیا تو ہے حقیقت شورش ہوا سا لگتا ہے دعا کروں کہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے لیے دعا ہوں جاؤں حقیقت ایک بے وجہ جو دل کو دعا سا لگتا ہے تو دل ہے وہ ہے وہ بجھنے سی لگتی ہے کائنات تمام کبھی کبھی جو مجھے تو بجھا سا لگتا ہے جو آ رہی ہے صدا غور سے سنو ا سے کو کہ ا سے صدا ہے وہ ہے وہ خدا بولتا سا لگتا ہے ابھی خرید لیں دنیا ک ہاں کی مہنگی ہے م گر ضمیر کا سودا برا سا لگتا ہے یہ موت ہے یا کوئی آخری وصال کے بعد غضب سکون ہے وہ ہے وہ سویا ہوا سا لگتا ہے ہوا رنگ دو عالم ہے وہ ہے وہ جاگتی

Obaidullah Aleem

0 likes

ہجر کرتے یا کوئی وصل گزارا کرتے ہم بہر حال بسر خواب تمہارا کرتے ایک ایسی بھی گھڑی عشق ہے وہ ہے وہ آئی تھی کہ ہم خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارہ کرتے اب تو مل جاؤ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کہ تمہاری خاطر اتنی دور آ گئے دنیا سے کنارہ کرتے محو آرائش رکھ ہے حقیقت خوشگوار سر بام آنکھ ا گر آئی لگ ہوتی تو نظارہ کرتے ایک چہرے ہے وہ ہے وہ تو ممکن نہیں اتنے چہرے ک سے سے کرتے جو کوئی عشق دوبارہ کرتے جب ہے یہ خا لگ دل آپ کی خلوت کے لیے پھروں کوئی آئی ی ہاں کیسے بے شرط کرتے کون رکھتا ہے اندھیرے ہے وہ ہے وہ دیا آنکھ ہے وہ ہے وہ خواب تیری جانب ہی تری لوگ اشارہ کرتے ظرف آئی لگ ک ہاں اور ترا حسن ک ہاں ہم تری چہرے سے آئی لگ سنوارا کرتے

Obaidullah Aleem

1 likes

چہرہ ہوا ہے وہ ہے وہ اور مری تصویر ہوئے سب ہے وہ ہے وہ ہے وہ لفظ ہوا مجھ ہے وہ ہے وہ ہی زنجیر ہوئے سب بنیاد بھی مری در و دیوار بھی مری تعمیر ہوا ہے وہ ہے وہ کہ یہ تعمیر ہوئے سب ویسے ہی لکھوگے تو میرا نام بھی ہوگا جو لفظ لکھے حقیقت مری جاگیر ہوئے سب مرتے ہیں م گر موت سے پہلے نہیں مرتے یہ واقعہ ایسا ہے کہ کانپتا ہوئے سب حقیقت اہل سایہ رحمت کی طرح تھے ہم اتنے گھٹے اپنی ہی تعزیر ہوئے سب ا سے لفظ کی مانند جو کھلتا ہی چلا جائے یہ ذات و زماں مجھ سے ہی تحریر ہوئے سب اتنا سخن میر نہیں سہل خدا خیر چار چھے بھی اب معتقد میر ہوئے سب

Obaidullah Aleem

1 likes

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے اب ا سے دودمان بھی لگ چاہو کہ دم نکل جائے ملے ہیں یوں تو بے حد آؤ اب ملیں یوں بھی کہ روح گرمی انف سے سے پگھل جائے محبتوں ہے وہ ہے وہ غضب ہے دلوں کو دھڑکا سا کہ جانے کون ک ہاں راستہ بدل جائے زہے حقیقت دل جو تمنا تازہ تر ہے وہ ہے وہ رہے خوشا حقیقت عمر جو خوابوں ہی ہے وہ ہے وہ بہل جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت چراغ سر رہ گزاری دنیا ہوں جو اپنی ذات کی تنہائیوں ہے وہ ہے وہ جل جائے ہر ایک لہجہ یہی آرزو یہی حسرت جو آگ دل ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت شعر ہے وہ ہے وہ بھی ڈھل جائے

Obaidullah Aleem

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Obaidullah Aleem.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Obaidullah Aleem's ghazal.