ghazalKuch Alfaaz

مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں جینے کی تمنا کون کرے یہ دنیا ہوں یا حقیقت دنیا اب بھڑکائی کون کرے جب کشتی جذبی تھی ساحل کی تمنا ک سے کو تھی اب ایسی شکستہ کشتی پر ساحل کی تمنا کون کرے جو آگ لگائی تھی جاناں نے ا سے کو تو بجھایا اشکوں نے جو اشکوں نے بھڑکائی ہے ا سے آگ کو ٹھنڈا کون کرے دنیا نے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھوڑا کیوںدنیا ہم چھوڑ لگ دیں کیوں دنیا کو دنیا کو سمجھ کر بیٹھے ہیں اب دنیا دنیا کون کرے

Related Ghazal

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

याद तब करते हो करने को न हो जब कुछ भी और कहते हो तुम्हें इश्क़ है मतलब कुछ भी अब जो आ आ के बताते हो वो शख़्स ऐसा था जब मेरे साथ था वो क्यूँँ न कहा तब कुछ भी वक्फ़े-वक्फ़े से मुझे देखने आते रहना हिज्र की शब है सो हो सकता है इस शब कुछ भी

Umair Najmi

68 likes

تمہیں ا سے سے محبت ہے تو ہمت کیوں نہیں کرتے کسی دن ا سے کے در پہ رقص وحشت کیوں نہیں کرتے علاج اپنا کراتے پھروں رہے ہوں جانے ک سے ک سے سے محبت کر کے دیکھو نا محبت کیوں نہیں کرتے تمہارے دل پہ اپنا نام لکھا ہم نے دیکھا ہے ہماری چیز پھروں ہم کو عنایت کیوں نہیں کرتے مری دل کی تباہی کی شکایت پر کہا ا سے نے جاناں اپنے گھر کی چیزوں کی حفاظت کیوں نہیں کرتے بدن بیٹھا ہے کب سے کاسا امید کی صورت سو دے کر وصل کی خیرات رخصت کیوں نہیں کرتے خوشگوار دیکھنے کے شوق ہے وہ ہے وہ ہم مر مٹے جاناں پر خوشگوار کرنے والو اب خوشگوار کیوں نہیں کرتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ساتھ جذبوں کی جماعت لے کے آیا ہوں جب اتنے مقت گرا ہیں تو طلسم یار کیوں نہیں کرتے جاناں اپنے ہونٹ آئینے ہے وہ ہے وہ دیکھو اور پھروں سوچو کہ ہم صرف ایک بوسے پر قناعت کیوں نہیں کرتے بے حد ناراض ہے حقیقت اور اسے ہم سے شکایت ہے کہ ا سے ناراضگی کی بھی شکایت کیوں نہیں کرتے کبھی اللہ میاں پوچھیں گے تب ان کو بتائیں گے کسی کو کیوں بتائیں ہم عبادت کیوں نہیں کرتے <

Farhat Ehsaas

23 likes

آپ چنو کے لیے ا سے ہے وہ ہے وہ رکھا کچھ بھی نہیں لیکن ایسا تو لگ کہیے کہ وفا کچھ بھی نہیں آپ کہیے تو نبھاتے چلے جائیں گے م گر ا سے تعلق ہے وہ ہے وہ اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی طرح بھی سمجھوتا نہیں کر سکتا یا تو سب کچھ ہی مجھے چاہیے یا کچھ بھی نہیں کیسے جانا ہے ک ہاں جانا ہے کیوں جانا ہے ہم کہ چلتے چلے جاتے ہیں پتا کچھ بھی نہیں ہاں یہ ا سے شہر کی رونق کے ہے وہ ہے وہ صدقے جاؤں ایسی بھرپور ہے چنو کہ ہوا کچھ بھی نہیں پھروں کوئی تازہ سخن دل ہے وہ ہے وہ جگہ کرتا ہے جب بھی لگتا ہے کہ لکھنے کو بچا کچھ بھی نہیں اب ہے وہ ہے وہ کیا اپنی محبت کا بھرم بھی لگ رکھوں مان لیتا ہوں کہ ا سے بے وجہ ہے وہ ہے وہ تھا کچھ بھی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دنیا سے ا پیش رہ کے بھی دیکھا جواد ایسی منا زور اداسی کی دوا کچھ بھی نہیں

Jawwad Sheikh

50 likes

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم اندھیرا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم خموشی سے ادا ہوں رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں وفا داری کا دعویٰ کیوں کریں ہم وفا اخلاص قربانی محبت اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم ہماری ہی تمنا کیوں کروں جاناں تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم کیا تھا عہد جب لمحوں ہے وہ ہے وہ ہم نے تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم نہیں دنیا کو جب پروا ہماری تو پھروں دنیا کی پروا کیوں کریں ہم یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی ی ہاں کار مسیحا کیوں کریں ہم

Jaun Elia

67 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Moin Ahsan Jazbi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Moin Ahsan Jazbi's ghazal.