آپ چنو کے لیے ا سے ہے وہ ہے وہ رکھا کچھ بھی نہیں لیکن ایسا تو لگ کہیے کہ وفا کچھ بھی نہیں آپ کہیے تو نبھاتے چلے جائیں گے م گر ا سے تعلق ہے وہ ہے وہ اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی طرح بھی سمجھوتا نہیں کر سکتا یا تو سب کچھ ہی مجھے چاہیے یا کچھ بھی نہیں کیسے جانا ہے ک ہاں جانا ہے کیوں جانا ہے ہم کہ چلتے چلے جاتے ہیں پتا کچھ بھی نہیں ہاں یہ ا سے شہر کی رونق کے ہے وہ ہے وہ صدقے جاؤں ایسی بھرپور ہے چنو کہ ہوا کچھ بھی نہیں پھروں کوئی تازہ سخن دل ہے وہ ہے وہ جگہ کرتا ہے جب بھی لگتا ہے کہ لکھنے کو بچا کچھ بھی نہیں اب ہے وہ ہے وہ کیا اپنی محبت کا بھرم بھی لگ رکھوں مان لیتا ہوں کہ ا سے بے وجہ ہے وہ ہے وہ تھا کچھ بھی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دنیا سے ا پیش رہ کے بھی دیکھا جواد ایسی منا زور اداسی کی دوا کچھ بھی نہیں
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
More from Jawwad Sheikh
سب کو بچاؤ خود بھی بچو فاصلہ رکھو اب اور کچھ کروں لگ کروں فاصلہ رکھو خطرہ تو مفت ہے وہ ہے وہ بھی نہیں لینا چاہیے گھر سے نکل کے مول لگ لو فاصلہ رکھو فیلحال ا سے سے بچنے کا ہے ایک راستہ حقیقت یہ کہ ا سے سے بچ کے رہو فاصلہ رکھو دشمن ہے اور طرح کا جنگ اور طرح کی آگے بڑھو لگ پیچھے ہٹو فاصلہ رکھو
Jawwad Sheikh
7 likes
غم ج ہاں سے ہے وہ ہے وہ اکتا گیا تو تو کیا ہوگا خود اپنی فکر ہے وہ ہے وہ گھلنے لگا تو کیا ہوگا یہ ناگزیر ہے امید کی نمو کے لیے گزرتا سمے کہی تھم گیا تو تو کیا ہوگا یہی بے حد ہے کہ ہم کو سکون سے جینے دے کسی کے ہاتھوں ہمارا بھلا تو کیا ہوگا یہ لوگ مری خموشی پہ مجھ سے نالاں ہیں کوئی یہ پوچھے ہے وہ ہے وہ گویا ہوا تو کیا ہوگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے لیے بھی بے حد مختلف ہوں لوگوں سے حقیقت سوچتے ہیں کہ ایسا ہوا تو کیا ہوگا جنوں کی راہ غضب ہے کہ پاؤں دھرنے کو زمین تک بھی نہیں نقش پا تو کیا ہوگا یہ ایک خوف بھی مری خوشی ہے وہ ہے وہ شامل ہے ترا بھی دھیان ا گر ہٹ گیا تو تو کیا ہوگا جو ہوں رہا ہے حقیقت ہوتا چلا گیا تو تو پھروں جو ہونے کو ہے وہی ہوں گیا تو تو کیا ہوگا
Jawwad Sheikh
9 likes
दाद तो बा'द में कमाएँगे पहले हम सोचना सिखाएँगे मैं कहीं जा नहीं रहा लेकिन आप क्या मेरे साथ आएँगे कोई खिड़की खुलेगी रात गए कई अपनी मुराद पाएँगे खुल के रोने पे इख़्तियार नहीं हम कोई जश्न क्या मनाएँगे हँसेंगे तेरी बद-हवा सेी पर लोग रस्ता नहीं बताएँगे तुम उठाओगे कोई रंज मिरा दोस्त अहबाब हज़ उठाएँगे हमें अपनी तलाश में मत भेज खड़ी फ़सलें उजाड़ आएँगे
Jawwad Sheikh
16 likes
میرا خزانہ زمانے کے ہاتھ جا نہ لگے تجھے کسی کی کسی کو تیری ہوا نہ لگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک جسم کو چکھنا تو چاہتا ہوں مگر کچھ ا سے طرح کہ میرے منہ کو ذائقہ نہ لگے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگا سو لگا خود عذیتی کا نشہ دعا کروں کہ تمہیں بد دعا دعا نہ لگے دعا کروں کہ کسی کا نہ دل لگے جاناں سے لگے تو اور کسی سے لگا ہوا نہ لگے حسد کیا ہوں تیرے رزق سے کبھی ہے وہ ہے وہ نے تو مجھ کو اپنی کمائی ہوئی غذا نہ لگے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی عشق کی تشہیر چاہیے ورنا پتا نہ لگنے دیا جائے تو پتا نہ لگے پڑا رہا ہے وہ ہے وہ کسی اور ہی بہلائیں گے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بہت سے قیمتی جذبے کسی دشا نہ لگے بنا رہا ہوں تصور ہے وہ ہے وہ ایک مدت سے ایک ایسا شہر جسے کوئی راستہ نہ لگے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو ا سے سے محبت ہے اور بے حد ہے اگر اسے نہیں لگتا تو کیا ہوا نہ لگے کسے خوشی نہیں ہوتی سراہا جانے کی مگر حقیقت دوست ہی کیا ہے جو آئینہ نہ لگے کبھی کبھیار جو رکھنے لگے زبان کا بھرم حقیقت اب بھی کیا نہیں لگتا مزید کیا نہ
Jawwad Sheikh
21 likes
ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں کہ دل ہے وہ ہے وہ ترا خیال لگ ہوں غضب نہیں کہ مری زندگی وبال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں تو یک دم ہی چھوڑ جائے مجھے یہ ہر گھڑی تری جانے کا احتمال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں محبت پہ اب کی بار آئی زوال ایسا کہ ج سے کو کبھی زوال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں محبت سرے سے مٹ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں اسے سوچنا محال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں محبت مجھے فنا کر دے فنا بھی ایسا کہ ج سے کی کوئی مثال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں محبت میرا حقیقت حال کرے کہ خواب ہے وہ ہے وہ بھی دوبارہ کبھی مجال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں کہ اتنا ہی ربط رہ جائے حقیقت یاد آئی م گر بھول لگ محال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں مری آنکھیں نوچ لی جائیں ترا خیال کسی طور پائمال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں کہ ہے وہ ہے وہ زخم زخم ہوں جاؤں اور ا سے طرح کہ کبھی خوف اندمال لگ ہوں مری مثال ہوں سب کی نگاہ ہے وہ ہے وہ جواد ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں کسی اور ک
Jawwad Sheikh
20 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Jawwad Sheikh.
Similar Moods
More moods that pair well with Jawwad Sheikh's ghazal.







