ghazalKuch Alfaaz

میرا خزانہ زمانے کے ہاتھ جا نہ لگے تجھے کسی کی کسی کو تیری ہوا نہ لگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک جسم کو چکھنا تو چاہتا ہوں مگر کچھ ا سے طرح کہ میرے منہ کو ذائقہ نہ لگے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگا سو لگا خود عذیتی کا نشہ دعا کروں کہ تمہیں بد دعا دعا نہ لگے دعا کروں کہ کسی کا نہ دل لگے جاناں سے لگے تو اور کسی سے لگا ہوا نہ لگے حسد کیا ہوں تیرے رزق سے کبھی ہے وہ ہے وہ نے تو مجھ کو اپنی کمائی ہوئی غذا نہ لگے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی عشق کی تشہیر چاہیے ورنا پتا نہ لگنے دیا جائے تو پتا نہ لگے پڑا رہا ہے وہ ہے وہ کسی اور ہی بہلائیں گے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بہت سے قیمتی جذبے کسی دشا نہ لگے بنا رہا ہوں تصور ہے وہ ہے وہ ایک مدت سے ایک ایسا شہر جسے کوئی راستہ نہ لگے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو ا سے سے محبت ہے اور بے حد ہے اگر اسے نہیں لگتا تو کیا ہوا نہ لگے کسے خوشی نہیں ہوتی سراہا جانے کی مگر حقیقت دوست ہی کیا ہے جو آئینہ نہ لگے کبھی کبھیار جو رکھنے لگے زبان کا بھرم حقیقت اب بھی کیا نہیں لگتا مزید کیا نہ

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

More from Jawwad Sheikh

दाद तो बा'द में कमाएँगे पहले हम सोचना सिखाएँगे मैं कहीं जा नहीं रहा लेकिन आप क्या मेरे साथ आएँगे कोई खिड़की खुलेगी रात गए कई अपनी मुराद पाएँगे खुल के रोने पे इख़्तियार नहीं हम कोई जश्न क्या मनाएँगे हँसेंगे तेरी बद-हवा सेी पर लोग रस्ता नहीं बताएँगे तुम उठाओगे कोई रंज मिरा दोस्त अहबाब हज़ उठाएँगे हमें अपनी तलाश में मत भेज खड़ी फ़सलें उजाड़ आएँगे

Jawwad Sheikh

16 likes

درگزر جتنا کیا ہے وہی کافی ہے مجھے اب تجھے قتل بھی کر دوں تو سندلی ہے مجھے مسئلہ ایسے کوئی حل تو لگ ہوگا شاید شعر کہنا ہی مری غم کی تلافی ہے مجھے مرثیہ اک نئے احسا سے نے چونکا سا دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سمجھا تھا کہ ہر سان سے اضافی ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ کہتا تھا دوائیں نہیں کام آئیںگی جانتا تھا تری آواز ہی شافی ہے مجھے ا سے سے اندازہ لگاؤ کہ ہے وہ ہے وہ ک سے حال ہے وہ ہے وہ ہوں غیر کا دھیان بھی اب وعدہ خلافی ہے مجھے حقیقت کہی سامنے آ جائے تو کیا ہوں جواد یاد ہی ا سے کی ا گر سی لگ شگافی ہے مجھے

Jawwad Sheikh

28 likes

ا سے نے کوئی تو دم پڑھا ہوا ہے ج سے نے دیکھا حقیقت مبتلا ہوا ہے اب تری راستے سے بچ نکلوں اک یہی راستہ بچا ہوا ہے آؤ تقریب رو نمائی کریں پاؤں ہے وہ ہے وہ ایک آبلا ہوا ہے پھروں وہی بحث چھیڑ دیتے ہوں اتنی مشکل سے رابطہ ہوا ہے رات کی واردات مت پوچھو واقعی ایک واقعہ ہوا ہے لگ رہا ہے یہ نرم لہجے سے پھروں تجھے کوئی مسئلہ ہوا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک ہاں اور حقیقت فصیل ک ہاں فاصلے کا ہی فیصلہ ہوا ہے اتنا مصروف ہوں گیا تو ہوں کہ ب سے میر بھی اک طرف پڑا ہوا ہے آج کچھ بھی نہیں ہوا جواد ہاں م گر ایک سانحہ ہوا ہے

Jawwad Sheikh

7 likes

نہ صحیح عیش گزارا ہی صحیح زبان گر تو نہیں دنیا ہی صحیح چھوڑیے کچھ تو میرا بھی مجھ میں خون کا آخری اللہ ری ہی صحیح غور تو کیجے میری باتوں پر عمر میں آپ سے چھوٹا ہی صحیح رنج ہم نے بھی جدا پائے ہیں آپ دؤی ہیں تو دؤی ہی صحیح میں برا ہوں تو ہوں اب کیا کیجے کوئی اچھا ہے تو اچھا ہی صحیح کس کو سینے سے لگاؤں تیرے بعد جاتے جاتے کوئی دھوکہ ہی صحیح کر کچھ ایسا کہ تجھے یاد رکھوں بھول جانے کا تا کجا ہی صحیح تم پہ کب روک تھی چلتے جاتے میری سوچوں پہ تو پہرہ ہی صحیح وہ کسی طور نہ ہوگا میرا چلو ایسا ہے تو ایسا ہی صحیح سرخ کرنے لگی ہر شے جواد یاد کا رنگ سنہرا ہی صحیح

Jawwad Sheikh

16 likes

مری حوا سے پہ حاوی رہی کوئی کوئی بات کہ زندگی سے سوا خاص تھی کوئی کوئی بات یہ اور بات کہ محسو سے تک لگ ہونے دوں جکڑ سی لیتی ہے دل کو تری کوئی کوئی بات کوئی بھی تجھ سا مجھے ہوں بہو کہی لگ ملا کسی کسی ہے وہ ہے وہ اگرچہ ملی کوئی کوئی بات خوشی ہوئی کہ ملاقات رائےگاں لگ گئی اسے بھی مری طرح یاد تھی کوئی کوئی بات بدن ہے وہ ہے وہ زہر کے مانند پھیل جاتی ہے دلوں ہے وہ ہے وہ خوف سے سہمی ہوئی کوئی کوئی بات کبھی سمجھ نہیں پائے کہ ا سے ہے وہ ہے وہ کیا ہے م گر چلی تو ایسے کہ ب سے چل پڑی کوئی کوئی بات وضاحتوں ہے وہ ہے وہ الجھ کر یہی کھلا جواد ضروری ہے کہ رہے ان کہی کوئی کوئی بات

Jawwad Sheikh

23 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Jawwad Sheikh.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Jawwad Sheikh's ghazal.