ghazalKuch Alfaaz

مری حوا سے پہ حاوی رہی کوئی کوئی بات کہ زندگی سے سوا خاص تھی کوئی کوئی بات یہ اور بات کہ محسو سے تک لگ ہونے دوں جکڑ سی لیتی ہے دل کو تری کوئی کوئی بات کوئی بھی تجھ سا مجھے ہوں بہو کہی لگ ملا کسی کسی ہے وہ ہے وہ اگرچہ ملی کوئی کوئی بات خوشی ہوئی کہ ملاقات رائےگاں لگ گئی اسے بھی مری طرح یاد تھی کوئی کوئی بات بدن ہے وہ ہے وہ زہر کے مانند پھیل جاتی ہے دلوں ہے وہ ہے وہ خوف سے سہمی ہوئی کوئی کوئی بات کبھی سمجھ نہیں پائے کہ ا سے ہے وہ ہے وہ کیا ہے م گر چلی تو ایسے کہ ب سے چل پڑی کوئی کوئی بات وضاحتوں ہے وہ ہے وہ الجھ کر یہی کھلا جواد ضروری ہے کہ رہے ان کہی کوئی کوئی بات

Related Ghazal

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

یہ سات آٹھ پڑوسی ک ہاں سے آئی مری تمہارے دل ہے وہ ہے وہ تو کوئی لگ تھا سوائے مری کسی نے پا سے بٹھایا ب سے آگے یاد نہیں مجھے تو دوست و ہاں سے اٹھا کے لائے مری یہ سوچ کر لگ کیے اپنے درد ا سے کے سپرد حقیقت لالچی ہے اساسے لگ بیچ کھائے مری ادھر کدھر تو نیا ہے ی ہاں کہ پاگل ہے کسی نے کیا تجھے قصے نہیں سنائے مری حقیقت آزمائے مری دوست کو ضرور م گر اسے کہو کہ طریقے لگ آزمائے مری

Umair Najmi

59 likes

غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی

Zubair Ali Tabish

80 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

More from Jawwad Sheikh

سب کو بچاؤ خود بھی بچو فاصلہ رکھو اب اور کچھ کروں لگ کروں فاصلہ رکھو خطرہ تو مفت ہے وہ ہے وہ بھی نہیں لینا چاہیے گھر سے نکل کے مول لگ لو فاصلہ رکھو فیلحال ا سے سے بچنے کا ہے ایک راستہ حقیقت یہ کہ ا سے سے بچ کے رہو فاصلہ رکھو دشمن ہے اور طرح کا جنگ اور طرح کی آگے بڑھو لگ پیچھے ہٹو فاصلہ رکھو

Jawwad Sheikh

7 likes

نہیں ایسا بھی کہ یکسر نہیں رہنے والا دل میں یہ شور برابر نہیں رہنے والا جس طرح خاموشی لفظوں میں ڈھلی جاتی ہے اس میں تاثیر کا عنصر نہیں رہنے والا اب یہ کس شکل میں ظاہر ہو خدا ہی جانے رنج ایسا ہے کہ اندر نہیں رہنے والا میں اسے چھوڑنا چاہوں بھی تو کیسے چھوڑوں وہ کسی اور کا ہو کر نہیں رہنے والا غور سے دیکھ ان آنکھوں میں نظر آتا ہے وہ سمندر جو سمندر نہیں رہنے والا جرم وہ کرنے کا سوچا ہے کہ بس اب کی بار کوئی الزام مری سر نہیں رہنے والا میں نے حالانکہ بہت وقت گزارا ہے یہاں اب میں اس شہر میں پل بھر نہیں رہنے والا مصلحت لفظ پہ دو حرف نہ بھیجوں جواد جب مری ساتھ مقدر نہیں رہنے والا

Jawwad Sheikh

15 likes

غم ج ہاں سے ہے وہ ہے وہ اکتا گیا تو تو کیا ہوگا خود اپنی فکر ہے وہ ہے وہ گھلنے لگا تو کیا ہوگا یہ ناگزیر ہے امید کی نمو کے لیے گزرتا سمے کہی تھم گیا تو تو کیا ہوگا یہی بے حد ہے کہ ہم کو سکون سے جینے دے کسی کے ہاتھوں ہمارا بھلا تو کیا ہوگا یہ لوگ مری خموشی پہ مجھ سے نالاں ہیں کوئی یہ پوچھے ہے وہ ہے وہ گویا ہوا تو کیا ہوگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے لیے بھی بے حد مختلف ہوں لوگوں سے حقیقت سوچتے ہیں کہ ایسا ہوا تو کیا ہوگا جنوں کی راہ غضب ہے کہ پاؤں دھرنے کو زمین تک بھی نہیں نقش پا تو کیا ہوگا یہ ایک خوف بھی مری خوشی ہے وہ ہے وہ شامل ہے ترا بھی دھیان ا گر ہٹ گیا تو تو کیا ہوگا جو ہوں رہا ہے حقیقت ہوتا چلا گیا تو تو پھروں جو ہونے کو ہے وہی ہوں گیا تو تو کیا ہوگا

Jawwad Sheikh

9 likes

ا سے نے کوئی تو دم پڑھا ہوا ہے ج سے نے دیکھا حقیقت مبتلا ہوا ہے اب تری راستے سے بچ نکلوں اک یہی راستہ بچا ہوا ہے آؤ تقریب رو نمائی کریں پاؤں ہے وہ ہے وہ ایک آبلا ہوا ہے پھروں وہی بحث چھیڑ دیتے ہوں اتنی مشکل سے رابطہ ہوا ہے رات کی واردات مت پوچھو واقعی ایک واقعہ ہوا ہے لگ رہا ہے یہ نرم لہجے سے پھروں تجھے کوئی مسئلہ ہوا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک ہاں اور حقیقت فصیل ک ہاں فاصلے کا ہی فیصلہ ہوا ہے اتنا مصروف ہوں گیا تو ہوں کہ ب سے میر بھی اک طرف پڑا ہوا ہے آج کچھ بھی نہیں ہوا جواد ہاں م گر ایک سانحہ ہوا ہے

Jawwad Sheikh

7 likes

درگزر جتنا کیا ہے وہی کافی ہے مجھے اب تجھے قتل بھی کر دوں تو سندلی ہے مجھے مسئلہ ایسے کوئی حل تو لگ ہوگا شاید شعر کہنا ہی مری غم کی تلافی ہے مجھے مرثیہ اک نئے احسا سے نے چونکا سا دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سمجھا تھا کہ ہر سان سے اضافی ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ کہتا تھا دوائیں نہیں کام آئیںگی جانتا تھا تری آواز ہی شافی ہے مجھے ا سے سے اندازہ لگاؤ کہ ہے وہ ہے وہ ک سے حال ہے وہ ہے وہ ہوں غیر کا دھیان بھی اب وعدہ خلافی ہے مجھے حقیقت کہی سامنے آ جائے تو کیا ہوں جواد یاد ہی ا سے کی ا گر سی لگ شگافی ہے مجھے

Jawwad Sheikh

28 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Jawwad Sheikh.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Jawwad Sheikh's ghazal.