ghazalKuch Alfaaz

ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں کہ دل ہے وہ ہے وہ ترا خیال لگ ہوں غضب نہیں کہ مری زندگی وبال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں تو یک دم ہی چھوڑ جائے مجھے یہ ہر گھڑی تری جانے کا احتمال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں محبت پہ اب کی بار آئی زوال ایسا کہ ج سے کو کبھی زوال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں محبت سرے سے مٹ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں اسے سوچنا محال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں محبت مجھے فنا کر دے فنا بھی ایسا کہ ج سے کی کوئی مثال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں محبت میرا حقیقت حال کرے کہ خواب ہے وہ ہے وہ بھی دوبارہ کبھی مجال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں کہ اتنا ہی ربط رہ جائے حقیقت یاد آئی م گر بھول لگ محال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں مری آنکھیں نوچ لی جائیں ترا خیال کسی طور پائمال لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں کہ ہے وہ ہے وہ زخم زخم ہوں جاؤں اور ا سے طرح کہ کبھی خوف اندمال لگ ہوں مری مثال ہوں سب کی نگاہ ہے وہ ہے وہ جواد ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں کسی اور ک

Related Ghazal

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے

Tehzeeb Hafi

220 likes

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے

Jaun Elia

88 likes

More from Jawwad Sheikh

غم ج ہاں سے ہے وہ ہے وہ اکتا گیا تو تو کیا ہوگا خود اپنی فکر ہے وہ ہے وہ گھلنے لگا تو کیا ہوگا یہ ناگزیر ہے امید کی نمو کے لیے گزرتا سمے کہی تھم گیا تو تو کیا ہوگا یہی بے حد ہے کہ ہم کو سکون سے جینے دے کسی کے ہاتھوں ہمارا بھلا تو کیا ہوگا یہ لوگ مری خموشی پہ مجھ سے نالاں ہیں کوئی یہ پوچھے ہے وہ ہے وہ گویا ہوا تو کیا ہوگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے لیے بھی بے حد مختلف ہوں لوگوں سے حقیقت سوچتے ہیں کہ ایسا ہوا تو کیا ہوگا جنوں کی راہ غضب ہے کہ پاؤں دھرنے کو زمین تک بھی نہیں نقش پا تو کیا ہوگا یہ ایک خوف بھی مری خوشی ہے وہ ہے وہ شامل ہے ترا بھی دھیان ا گر ہٹ گیا تو تو کیا ہوگا جو ہوں رہا ہے حقیقت ہوتا چلا گیا تو تو پھروں جو ہونے کو ہے وہی ہوں گیا تو تو کیا ہوگا

Jawwad Sheikh

9 likes

نہیں ایسا بھی کہ یکسر نہیں رہنے والا دل میں یہ شور برابر نہیں رہنے والا جس طرح خاموشی لفظوں میں ڈھلی جاتی ہے اس میں تاثیر کا عنصر نہیں رہنے والا اب یہ کس شکل میں ظاہر ہو خدا ہی جانے رنج ایسا ہے کہ اندر نہیں رہنے والا میں اسے چھوڑنا چاہوں بھی تو کیسے چھوڑوں وہ کسی اور کا ہو کر نہیں رہنے والا غور سے دیکھ ان آنکھوں میں نظر آتا ہے وہ سمندر جو سمندر نہیں رہنے والا جرم وہ کرنے کا سوچا ہے کہ بس اب کی بار کوئی الزام مری سر نہیں رہنے والا میں نے حالانکہ بہت وقت گزارا ہے یہاں اب میں اس شہر میں پل بھر نہیں رہنے والا مصلحت لفظ پہ دو حرف نہ بھیجوں جواد جب مری ساتھ مقدر نہیں رہنے والا

Jawwad Sheikh

15 likes

ہزار صحرا تھے رستے ہے وہ ہے وہ یار کیا کرتا جو چل پڑا تھا تو فکر غبار کیا کرتا کبھی جو ٹھیک سے خود کو سمجھ نہیں پایا حقیقت دوسروں پہ بھلا اعتبار کیا کرتا چلو یہ مانا کہ اظہار بھی ضروری ہے سو ایک بار کیا بار بار کیا کرتا اسی لیے تو در آئی لگ بھی وا لگ کیا جو سو رہے ہیں ا نہیں ہوشیار کیا کرتا حقیقت اپنے خواب کی تفسیر خود لگ کر پایا جہان بھر پہ اسے آشکار کیا کرتا ا گر حقیقت کرنے پہ آتا تو کچھ بھی کر جاتا یہ سوچ مت کہ اکیلا جاں گسل کیا کرتا سوائے یہ کہ حقیقت اپنے بھی زخم تازہ کرے مری غموں پہ میرا غم گسار کیا کرتا ب سے ایک پھول کی خاطر بہار مانگی تھی رتوں سے ور لگ ہے وہ ہے وہ قول و قرار کیا کرتا میرا لہو ہی کہانی کا رنگ تھا جواد کہانی کار اسے رنگ دار کیا کرتا

Jawwad Sheikh

10 likes

दाद तो बा'द में कमाएँगे पहले हम सोचना सिखाएँगे मैं कहीं जा नहीं रहा लेकिन आप क्या मेरे साथ आएँगे कोई खिड़की खुलेगी रात गए कई अपनी मुराद पाएँगे खुल के रोने पे इख़्तियार नहीं हम कोई जश्न क्या मनाएँगे हँसेंगे तेरी बद-हवा सेी पर लोग रस्ता नहीं बताएँगे तुम उठाओगे कोई रंज मिरा दोस्त अहबाब हज़ उठाएँगे हमें अपनी तलाश में मत भेज खड़ी फ़सलें उजाड़ आएँगे

Jawwad Sheikh

16 likes

درگزر جتنا کیا ہے وہی کافی ہے مجھے اب تجھے قتل بھی کر دوں تو سندلی ہے مجھے مسئلہ ایسے کوئی حل تو لگ ہوگا شاید شعر کہنا ہی مری غم کی تلافی ہے مجھے مرثیہ اک نئے احسا سے نے چونکا سا دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سمجھا تھا کہ ہر سان سے اضافی ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ کہتا تھا دوائیں نہیں کام آئیںگی جانتا تھا تری آواز ہی شافی ہے مجھے ا سے سے اندازہ لگاؤ کہ ہے وہ ہے وہ ک سے حال ہے وہ ہے وہ ہوں غیر کا دھیان بھی اب وعدہ خلافی ہے مجھے حقیقت کہی سامنے آ جائے تو کیا ہوں جواد یاد ہی ا سے کی ا گر سی لگ شگافی ہے مجھے

Jawwad Sheikh

28 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Jawwad Sheikh.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Jawwad Sheikh's ghazal.