ghazalKuch Alfaaz

میرا محبوب سب کا من ہرن ہے نظر کر دیکھ حقیقت آہو نین ہے نہیں اب جگ ہے وہ ہے وہ ویسا اور ساجن مجھے صورت شناسی بیچ فن ہے سبی دیوانے ہیں ا سے معنی دل کے م گر حقیقت دلربا جادو نہین ہے کرے رشک گلستاں دل کو فائز میرا ساجن بہار انجمن ہے

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

آئینے آنکھ ہے وہ ہے وہ چبھتے تھے بستر سے بدن کترا تا تھا ایک یاد بسر کرتی تھی مجھے ہے وہ ہے وہ سان سے نہیں لے پاتا تھا ایک شخص کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ تھا سب کچھ میرا کھلنا بھی مرجھانا بھی روتا تھا تو رات اجڑ جاتی ہنستا تھا تو دن بن جاتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ رب سے رابطے ہے وہ ہے وہ رہتا ممکن ہے کی ا سے سے رابطہ ہوں مجھے ہاتھ اٹھانا پڑتے تھے تب جا کر حقیقت فون اٹھاتا تھا مجھے آج بھی یاد ہے بچپن ہے وہ ہے وہ کبھی ا سے پر نظر ا گر پڑتی مری گدا سے پھول برستے تھے مری تختی پہ دل بن جاتا تھا ہم ایک زندان ہے وہ ہے وہ زندہ تھے ہم ایک زنجیر ہے وہ ہے وہ بڑھے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ کر ہم کبھی زار تھے تو رونا آتا تھا حقیقت جسم دلائیں نہیں ہوں پاتا تھا ان آنکھوں سے مجرم ٹھہراتا تھا اپنا کہنے کو تو گھر ٹھہراتا تھا

Tehzeeb Hafi

129 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

More from Faez Dehlvi

مجھ پا سے کبھی حقیقت قد شمشاد لگ آیا ا سے گھر منا حقیقت دل بر استاد لگ آیا گلشن مری اکھیاں ہے وہ ہے وہ لگے گلخن دوزخ جو سیر کو مجھ ساتھ پری زاد لگ آیا سانجھ آئی د یوں دن لڑکھڑاتے ہوا فکر ہے وہ ہے وہ آخر حقیقت دل بر جادو گر و صیاد لگ آیا آیا لگ ہم لگ پا سے کیا وعدہ خلافی فائز کا کچھ احوال م گر یاد لگ آیا

Faez Dehlvi

0 likes

بے سبب ہم سے جدائی لگ کروں مجھ سے عاشق سے برائی لگ کروں خاکساراں کو لگ کریے پامال جگ ہے وہ ہے وہ فرعون سی خدائی لگ کروں بے گنا ہاں کوں لگ کر ڈالو قتل آہ کوں تیر ہوائی لگ کروں ایک دل جاناں سے نہیں ہے رازی جگ ہے وہ ہے وہ ہر اک سوں برائی لگ کروں محو ہے فائز شیدا جاناں پر ا سے سے ہر لہجہ بخائی لگ کروں

Faez Dehlvi

0 likes

गुफ़्तम कि मुख तिरा क्या गुफ़्ता सूरज सूँ बेहतर गुफ़्तम कि कान का दर गुफ़्ता कि बह ज़ अख़्तर गुफ़्तम दहान-ओ-रूयत गुफ़्ता कि ग़ुंचा-ओ-गुल गुफ़्तम कपोल का ख़ाल गुफ़्ता कि क़ुर्स-ए-अम्बर गुफ़्तम कि चश्म-ए-जादू गुफ़्ता कि दोनों ख़ंजर गुफ़्तम धड़ी लबाँ की गुफ़्त अज़ अक़ीक़ बेहतर गुफ़्तम कपोल तेरे गुफ़्ता कि बर्ग-ए-लाला गुफ़्तम कि बोसा तुझ लब गुफ़्ता कि बह ज़ शक्कर गुफ़्तम कि भौंहा तेरी गुफ़्ता हिलाल दोनों गुफ़्तम कि ज़ुल्फ़ तेरी गुफ़्ता कि सुंबुल-ए-तर गुफ़्तम गदा हूँ तेरा गुफ़्ता सही मुनासिब गुफ़्तम असीर तुझ कूँ गुफ़्ता तमाम किश्वर गुफ़्तम कि क़द तुम्हारा गुफ़्ता कि सर्व-ए-तन्नाज़ गुफ़्तम कि दिल तिरा क्या गुफ़्ता कि सख़्त पत्थर गुफ़्तम अदा-ओ-ग़म्ज़ा गुफ़्ता बला-ए-जाँ-हा गुफ़्तम इताब-ओ-क़हरत गुफ़्ता कि हौल-ए-महशर गुफ़्तम कि 'फ़ाएज़' आया गुफ़्ता कि ख़ैर-मक़्दम गुफ़्तम कुजास्त जा-अश गुफ़्ता कि बर-सर-ए-दर

Faez Dehlvi

0 likes

یار میرا میان گلشن ہے غرق خوں پھول تا ب دامن ہے دل لبھاتا ہے سب کا حقیقت ساجن دل فریبی ہے وہ ہے وہ ا سے کو کیا فن ہے تارے جیوں در ہے ج سے کے حلقہ بگوش حقیقت بنا گوش صبح روشن ہے ا سے نظارے سے سب سلطان ہوئے حقیقت نہین کیا بلا رہ زن ہے کیا بیاں کر سکون ہے وہ ہے وہ گت ا سے کی فائز ات خوش ادا سریجن ہے

Faez Dehlvi

0 likes

میری جاں وہ بادہ خواری یاد ہے وقت مستی گریہ زاری یاد ہے موتیا کا ہار و چمپا کی چھڑی جوڑا دامن کناری یاد ہے سب ابھوکن تیرے تن پر خوشنما خوبی انگیا و ساری یاد ہے ابر کا سایہ و سبزہ راہ کا جان من رتھ کی سواری یاد ہے کوئلاں کے نالے امرائی کے بیچ اس سمے کی بے قراری یاد ہے میںہ لڑکھڑاتے تو تھمتا تھا بوند بوند فائز اس دن کی سواری یاد ہے

Faez Dehlvi

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Faez Dehlvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Faez Dehlvi's ghazal.