ghazalKuch Alfaaz

مری خدا مجھے حقیقت تاب نی نوائی دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ چپ ر ہوں بھی تو نغمہ میرا سنائی دے گدا کو سخن اور تجھ سے کیا مانگے یہی کہ مملکت شیر کی خدائی دے نگاہ دہر ہے وہ ہے وہ پسارنا ہم بھی ہوں جو لکھ رہے ہیں حقیقت دنیا ا گر دکھائی دے چھلک لگ جاؤں کہی ہے وہ ہے وہ وجود سے اپنے ہنر دیا ہے تو پھروں ظرف کبریائی دے مجھے غصہ سخن سے نوازنے والے سماعتوں کو بھی اب ذوق آشنائی دے نمو پذیر ہے یہ شعلہ نوا تو اسے ہر آنے والے زمانے کی پیشوائی دے کوئی کرے تو ک ہاں تک کرے مسیحائی کہ ایک زخم بھرے دوسرا دہائی دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک سے کسی موسم ہے وہ ہے وہ رہ نہیں سکتا کبھی وصال کبھی ہجر سے رہائی دے جو ایک خواب کا نشہ ہوں کم تو آنکھوں کو ہزار خواب دے اور جرأت رسائی دے

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

More from Obaidullah Aleem

کوئی دھن ہوں ہے وہ ہے وہ تری گیت ہی گائے جاؤں درد سینے ہے وہ ہے وہ اٹھے شور مچائے جاؤں خواب بن کر تو برستا رہے شبنم شبنم اور بس ہے وہ ہے وہ اسی موسم ہے وہ ہے وہ نہائے جاؤں تیرے ہی رنگ اترتے چلے جائیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو لکھوں تری تصویر بنائے جاؤں جس کو ملنا نہیں پھروں اس کا سے محبت کیسی سوچتا جاؤں مگر دل ہے وہ ہے وہ اتاریں جاؤں اب تو اس کا کی ہوئی جس پہ مجھے پیار آتا ہے زندگی آ تجھے سینے سے لگائے جاؤں یہی چہرے مری ہونے کی گواہی دیں گے ہر نئے حرف ہے وہ ہے وہ جاں اپنی سمائے جاؤں جان تو چیز ہے کیا رشتہ جاں سے آگے کوئی آواز دیے جائے ہے وہ ہے وہ آئی جاؤں شاید اس کا راہ پہ کچھ اور بھی راہی آئیں دھوپ ہے وہ ہے وہ چلتا رہوں سائے بچھائے جاؤں اہل دل ہوں گے تو بھلاکر سخن کو میرے بزم ہے وہ ہے وہ آ ہی گیا تو ہوں تو سنائے جاؤں

Obaidullah Aleem

1 likes

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے اب ا سے دودمان بھی لگ چاہو کہ دم نکل جائے ملے ہیں یوں تو بے حد آؤ اب ملیں یوں بھی کہ روح گرمی انف سے سے پگھل جائے محبتوں ہے وہ ہے وہ غضب ہے دلوں کو دھڑکا سا کہ جانے کون ک ہاں راستہ بدل جائے زہے حقیقت دل جو تمنا تازہ تر ہے وہ ہے وہ رہے خوشا حقیقت عمر جو خوابوں ہی ہے وہ ہے وہ بہل جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت چراغ سر رہ گزاری دنیا ہوں جو اپنی ذات کی تنہائیوں ہے وہ ہے وہ جل جائے ہر ایک لہجہ یہی آرزو یہی حسرت جو آگ دل ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت شعر ہے وہ ہے وہ بھی ڈھل جائے

Obaidullah Aleem

1 likes

گزرو لگ لگ ا سے طرح کہ تماشا نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمجھو کہ اب ہوں اور دوبارہ نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک طبع رنگ رنگ تھی سو نذر گل ہوئی اب یہ کہ اپنے ساتھ بھی رہتا نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں نے بھی مری ساتھ اٹھائے ہیں دکھ بے حد خوش ہوں کہ راہ شوق ہے وہ ہے وہ تنہا نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پیچھے لگ بھاگ سمے کی اے ناشنا سے دھوپ سائے کے درمیان ہوں سایہ نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو کچھ بھی ہوں ہے وہ ہے وہ اپنی ہی صورت ہے وہ ہے وہ ہوں علیم تاکتے نہیں ہوں میر و یگا لگ نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ

Obaidullah Aleem

1 likes

چہرہ ہوا ہے وہ ہے وہ اور مری تصویر ہوئے سب ہے وہ ہے وہ ہے وہ لفظ ہوا مجھ ہے وہ ہے وہ ہی زنجیر ہوئے سب بنیاد بھی مری در و دیوار بھی مری تعمیر ہوا ہے وہ ہے وہ کہ یہ تعمیر ہوئے سب ویسے ہی لکھوگے تو میرا نام بھی ہوگا جو لفظ لکھے حقیقت مری جاگیر ہوئے سب مرتے ہیں م گر موت سے پہلے نہیں مرتے یہ واقعہ ایسا ہے کہ کانپتا ہوئے سب حقیقت اہل سایہ رحمت کی طرح تھے ہم اتنے گھٹے اپنی ہی تعزیر ہوئے سب ا سے لفظ کی مانند جو کھلتا ہی چلا جائے یہ ذات و زماں مجھ سے ہی تحریر ہوئے سب اتنا سخن میر نہیں سہل خدا خیر چار چھے بھی اب معتقد میر ہوئے سب

Obaidullah Aleem

1 likes

صاحب مہر و وفا عرض و سما کیوں چپ ہے ہم پہ تو سمے کے پہرے ہیں خدا کیوں چپ ہے بے سبب غم ہے وہ ہے وہ سلگنا مری عادت ہی صحیح ساز خاموش ہے کیوں شعلہ نوا کیوں چپ ہے پھول تو سہم گئے دست کرم سے دم صبح خارج ہوئی آوارہ صبا کیوں چپ ہے ختم ہوگا لگ کبھی سلسلہ اہل وفا سوچ اے داور مقتل یہ فضا کیوں چپ ہے مجھ پہ تاری ہے رہ عشق کی آسودہ تھکن تجھ پہ کیا گزری مری چاند بتا کیوں چپ ہے جاننے والے تو سب جان گئے ہوں گے علیم ایک مدت سے ترا ذہن رسا کیوں چپ ہے

Obaidullah Aleem

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Obaidullah Aleem.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Obaidullah Aleem's ghazal.