ghazalKuch Alfaaz

مری لبوں پہ اسی آدمی کی پیا سے لگ ہوں جو چاہتا ہے مری سامنے گلا سے لگ ہوں یہ تشنہ لبی تو ملی ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وراثت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے واسطے دریا کوئی ادا سے لگ ہوں تمام دن کے دکھوں کا حساب کرنا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں کوئی مری آ سے پا سے لگ ہوں مجھے بھی دکھ ہے غلطیاں ہوں گیا تو نشا لگ ترا کمان کھینچ ہے وہ ہے وہ حاضر ہوں تو ادا سے لگ ہوں غزل ہی رہ گئی طاہر فراز اپنے لیے ج ہاں ہے وہ ہے وہ کوئی ایسا بھی بے اسا سے لگ ہوں

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

پھروں مری یاد آ رہی ہوں گی پھروں حقیقت دیپک بجھا رہی ہوں گی پھروں مری فی سے بک پہ آ کر حقیقت خود کو بینر بنا رہی ہوں گی اپنے بیٹے کا چوم کر ماتھا مجھ کو بتاشا لگا رہی ہوں گی پھروں اسی نے اسے چھوا ہوگا پھروں اسی سے نبھا رہی ہوں گی جسم چادر سا بچھ گیا تو ہوگا روح سلوٹ ہٹا رہی ہوں گی پھروں سے اک رات کٹ گئی ہوں گی پھروں سے اک رات آ رہی ہوں گی

Kumar Vishwas

53 likes

More from Tahir Faraz

اب کے بر سے ہونٹوں سے مری تش لگ لبی بھی ختم ہوئی تجھ سے ملنے کی اے دریا مجبوری بھی ختم ہوئی کیسا پیار ک ہاں کی الفت عشق کی بات تو جانے دو مری لیے اب ا سے کے دل سے ہمدر گرا بھی ختم ہوئی سامنے والی بلڈنگ ہے وہ ہے وہ اب کام ہے ب سے آرائش کا کل تک جو ملتی تھی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت مزدوری بھی ختم ہوئی جیل سے واپ سے آ کر ا سے نے پانچوں سمے نماز پڑھی منا بھی بند ہوئے سب کے اور بدنامی بھی ختم ہوئی ج سے کی جل دھارا سے بستی والے جیون پاتے تھے رستہ بدلتے ہی ن گرا کے حقیقت بستی بھی ختم ہوئی

Tahir Faraz

1 likes

جب مری ہونٹوں پہ میری تشنہ لبی رہ جائے گی تیری آنکھوں ہے وہ ہے وہ بھی تھوڑی سی نمی رہ جائے گی سر پھرہ جھونکا ہوا کا توڑ دےگا شاخ کو پھول بننے کی تمنا ہے وہ ہے وہ کلی رہ جائے گی ختم ہوں جائےگا جس دن بھی تمہارا انتظار گھر کے دروازے پہ دستک چیختی رہ جائے گی کیا خبر تھی آئےگا اک روز ایسا وقت بھی میری گویائی ترا منہ دیکھتی رہ جائے گی وقت رخصت آئےگا اور ختم ہوگا یہ سفر میرے دل کی بات میرے دل ہے وہ ہے وہ ہی رہ جائے گی

Tahir Faraz

1 likes

کوئی حسین منظر آنکھوں سے جب اوجھل ہوں جائےگا مجھ کو پاگل کہنے والا خود ہی پاگل ہوں جائےگا پلکوں پہ ا سے کی جلے بجھیں گے جگنو جب مری یادوں کے کمرے ہے وہ ہے وہ ہوںگی برساتیں گھر جنگل ہوں جائےگا ج سے دن ا سے کی زلفیں ا سے کے شانے پر کھل جائیں گی ا سے دن شرم سے پانی پانی خود بادل ہوں جائےگا جب بھی حقیقت پاکیزہ دامن آ جائےگا ہاتھ مری آنکھوں کا یہ میلا پانی گنگا جل ہوں جائےگا ا سے کی یادیں ا سے کی باتیں ا سے کی وفائیں ا سے کا پیار ک سے کو خبر تھی جینا مشکل ایک اک پل ہوں جائےگا مت نزدیک تر اے پیاسے دریا سورج آنے والا ہے برف پہاڑوں سے پگھلی تو جل ہی جل ہوں جائےگا

Tahir Faraz

0 likes

درد خاموش رہا ٹوٹتی آواز رہی میری ہر شام تری یاد کی ہمراز رہی شہر ہے وہ ہے وہ جب بھی چلے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے تپتے صحرا کی طبیعت بڑی سوز جگر رہی آئینے ٹوٹ گئے عکس کی سچائی پر اور سچائی ہمیشہ کی طرح راز رہی اک نئے موڑ پہ اس کا نے بھی مجھے چھوڑ دیا جس کی آواز ہے وہ ہے وہ شامل مری آواز رہی سنتا رہتا ہوں بزرگوں سے ہے وہ ہے وہ 9 طاہر حقیقت سماعت ہی رہی اور نہ حقیقت آواز رہی

Tahir Faraz

2 likes

ج سے نے تیری یاد ہے وہ ہے وہ سجدے کیے تھے خاک پر ا سے کے قدموں کے نشان پائے گئے افلاک پر واقعہ یہ کن فکاں سے بھی بے حد پہلے کا ہے اک بشر کا نور تھا قندیل ہے وہ ہے وہ افلاک پر دوستوں کی محفلوں سے دور ہم ہوتے گئے چنو چنو سلوٹیں پڑتی گئیں پوشاک پر والدین ہونٹوں پہ بوسوں شراب آرز کی نمی ٹھہری ہوئی سان سے الجھي زلف بکھری سلوٹیں پوشاک پر پانیوں کی سازشوں نے جب بھنور ڈالے فراز تبصرہ کرتے رہے سب ڈوبتے تیرک پر

Tahir Faraz

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Tahir Faraz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Tahir Faraz's ghazal.