مری صبح غم بلا سے کبھی شام تک لگ پہنچے مجھے ڈر یہ ہے برائی تری نام تک لگ پہنچے مری پا سے کیا حقیقت آتے میرا درد کیا مٹاتے میرا حال دیکھنے کو لب بام تک لگ پہنچے ہوں کسی کا مجھ پہ احسانے نہیں پسند مجھ کو تیری صبح کی تجلی مری شام تک لگ پہنچے تیری بے رخی پہ ظالم میرا جی یہ چاہتا ہے کہ وفا کا مری لب پر کبھی نام تک لگ پہنچے ہے وہ ہے وہ ہے وہ فغان بے اثر کا کبھی مترف نہیں ہوں حقیقت صدا ہی کیا جو ان کے در و بام تک لگ پہنچے حقیقت صنم بگڑ کے مجھ سے میرا کیا بگاڑ لےگا کبھی راز کھول دو ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سلام بخیر تک لگ پہنچے مجھے لذت اسیری کا سبق پڑھا رہے ہیں جو نکل کے آشیاںسے کبھی دام تک لگ پہنچے ا نہیں مہربانسمجھ لیں مجھے کیا غرض پڑی ہے حقیقت کرم کا ہاتھ ہی کیا جو عوام تک لگ پہنچے ہوئے فیض مے کدہ سے سبھی فیضیاب لیکن جو غریب تشنہ لبی لب تھے وہی جام تک لگ پہنچے جسے ہے وہ ہے وہ نے جگمگایا اسی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ ساقی میرا ذکر تک لگ آئی میرا نام تک لگ پہنچے تمہیں یاد ہی لگ آؤںے ہے اور بات ور لگ<b
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے
Ahmad Faraz
65 likes
More from Kaleem Aajiz
مری شاعری ہے وہ ہے وہ لگ رقص جام لگ مے کی رنگ فشانیوں وہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی اندھیرا یہ جو آہ و نالہ و درد ہیں کسی بےوفا کی نشانیاں یہی مری دن کے رفیق ہیں یہی مری رات کی رانیاں یہ مری زبان پہ غزل نہیں ہے وہ ہے وہ سنا رہا ہوں اندھیرا کہ کسی کے عہد شباب پر مٹیں کیسی کیسی جوانیاں کبھی آنسوؤں کو سوکھا گئیں مری سوز دل کی حرارتیں کبھی دل کی ناو ڈبو گئیں مری آنسوؤں کی روانیاں ابھی ا سے کو ا سے کی خبر ک ہاں کہ قدم ک ہاں ہے نظر ک ہاں ابھی مصلحت کا گزر ک ہاں کہ نئی نئی ہیں جوانیاں یہ بیان حال یہ گفتگو ہے میرا نچوڑا ہوا لہو ابھی سن لو مجھ سے کہ پھروں کبھو لگ سنو گے ایسی اندھیرا
Kaleem Aajiz
0 likes
منا فقیروں سے لگ پھیرا چاہیے یہ تو پوچھا چاہیے کیا چاہیے چاہ کا گاہے اونچا چاہیے جو لگ چاہیں ان کو چاہا چاہیے کون چاہے ہے کسی کو بے غرض چاہنے والوں سے بھاگا چاہیے ہم تو کچھ چاہے ہیں جاناں چاہو ہوں کچھ سمے کیا چاہے ہے دیکھا چاہیے چاہتے ہیں تری ہی دامن کی خیر ہم ہیں دیوانے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا چاہیے بے رکھ بھی ناز بھی انداز بھی چاہیے لیکن لگ اتنا چاہیے ہم جو کہنا چاہتے ہیں کیا کہی آپ کہ لیجے جو کہنا چاہیے بات چاہے بے سلیقہ ہوں کلیم بات کہنے کا سلیقہ چاہیے
Kaleem Aajiz
1 likes
مجھے ا سے کا کوئی گلہ نہیں کہ بہار نے مجھے کیا دیا تری آرزو تو نکال دی ترا حوصلہ تو بڑھا دیا گو ستم نے تری ہر اک طرح مجھے نا امید بنا دیا یہ مری وفا کا غصہ ہے کہ نباہ کر کے دکھا دیا کوئی بزم ہوں کوئی صورت آشنا یہ شعار اپنا اچھی اچھی ہے ج ہاں روشنی کی کمی ملی وہیں اک چراغ جلا دیا تجھے اب بھی مری خلوص کا لگ یقین آئی تو کیا کروں تری گیسوؤں کو سنوارت کر تجھے آئی لگ بھی دکھا دیا مری شاعری ہے وہ ہے وہ تری سوا کوئی ماجرا ہے لگ مدعا جو تری نظر کا فسا لگ تھا حقیقت مری غزل نے سنا دیا یہ غریب عاجز بے وطن یہ غبار خاطر انجمں یہ خراب ج سے کے لیے ہوا اسی بےوفا نے بھلا دیا
Kaleem Aajiz
0 likes
ک سے طرح کوئی دھوپ ہے وہ ہے وہ پگھلے ہے جلے ہے یہ بات حقیقت کیا جانے جو سائے ہے وہ ہے وہ پلے ہے دل درد کی بھٹی ہے وہ ہے وہ کئی بار جلے ہے تب ایک غزل حسن کے سانچے ہے وہ ہے وہ ڈھلے ہے کیا دل ہے کہ اک سان سے بھی آرام لگ لے ہے محفل سے جو نکلے ہے تو خلوت ہے وہ ہے وہ جلے ہے بھولی ہوئی یاد آ کے کلیجے کو ملے ہے جب شام گزر جائے ہے جب رات ڈھلے ہے ہاں دیکھ ذرا کیا تری قدموں کے تلے ہے ٹھوکر بھی حقیقت کھائے ہے جو اترا کے چلے ہے
Kaleem Aajiz
2 likes
کیا غم ہے اگر شکوہ غم آم ہے پیارے تو دل کو دکھا تیرا یہی کام ہے پیارے تیرے ہی تبسم کا سحر نام ہے پیارے تو کھول دے گیسو تو ابھی شام ہے پیارے اس وقت ترا جان جہاں نام ہے پیارے جو کام تو کر دے وہ بڑا کام ہے پیارے جب پیار کیا چین سے کیا کام ہے پیارے اس میں تو تڑپنے ہی میں آرام ہے پیارے چھوٹی ہے نہ چھوٹےگی کبھی پیار کی عادت میں خوب سمجھتا ہوں جو انجام ہے پیارے اے کاش مری بات سمجھ میں تری آئے میری جو غزل ہے میرا پیغام ہے پیارے میں ہوں جہاں سو فکر میں سو رنج میں سو درد تو ہے جہاں آرام ہی آرام ہے پیارے گو میں نے کبھی اپنی زبان پر نہیں لایا سب جان رہے ہیں ترا کیا نام ہے پیارے ہم دل کو لگا کر بھی کھٹکتے ہیں دلوں میں تو دل کو دکھا کر بھی دل آرام ہے پیارے کہتا ہوں غزل اور رہا کرتا ہوں مخمور میرا یہی شیشہ ہے یہی جام ہے پیارے
Kaleem Aajiz
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Kaleem Aajiz.
Similar Moods
More moods that pair well with Kaleem Aajiz's ghazal.







