ghazalKuch Alfaaz

مجھے ا سے کا کوئی گلہ نہیں کہ بہار نے مجھے کیا دیا تری آرزو تو نکال دی ترا حوصلہ تو بڑھا دیا گو ستم نے تری ہر اک طرح مجھے نا امید بنا دیا یہ مری وفا کا غصہ ہے کہ نباہ کر کے دکھا دیا کوئی بزم ہوں کوئی صورت آشنا یہ شعار اپنا اچھی اچھی ہے ج ہاں روشنی کی کمی ملی وہیں اک چراغ جلا دیا تجھے اب بھی مری خلوص کا لگ یقین آئی تو کیا کروں تری گیسوؤں کو سنوارت کر تجھے آئی لگ بھی دکھا دیا مری شاعری ہے وہ ہے وہ تری سوا کوئی ماجرا ہے لگ مدعا جو تری نظر کا فسا لگ تھا حقیقت مری غزل نے سنا دیا یہ غریب عاجز بے وطن یہ غبار خاطر انجمں یہ خراب ج سے کے لیے ہوا اسی بےوفا نے بھلا دیا

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

More from Kaleem Aajiz

شانے کا بے حد خون ج گر جائے ہے پیاری تب زلف کہی تا ب کمر جائے ہے پیاری ج سے دن کوئی غم مجھ پہ گزر جائے ہے پیاری چہرہ ترا ا سے روز نکھر جائے ہے پیاری اک گھر بھی سلامت نہیں اب شہر وفا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آگ لگانے کو کدھر جائے ہے پیاری رہنے دے جفاؤں کی کڑی دھوپ ہے وہ ہے وہ مجھ کو سائے ہے وہ ہے وہ تو ہر بے وجہ ٹھہر جائے ہے پیاری حقیقت بات ذرا سی جسے کہتے ہیں غم دل سمجھانے ہے وہ ہے وہ اک عمر گزر جائے ہے پیاری ہر چند کوئی نام نہیں مری غزل ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری ہی طرف سب کی نظر جائے پیاری

Kaleem Aajiz

0 likes

مری صبح غم بلا سے کبھی شام تک لگ پہنچے مجھے ڈر یہ ہے برائی تری نام تک لگ پہنچے مری پا سے کیا حقیقت آتے میرا درد کیا مٹاتے میرا حال دیکھنے کو لب بام تک لگ پہنچے ہوں کسی کا مجھ پہ احسانے نہیں پسند مجھ کو تیری صبح کی تجلی مری شام تک لگ پہنچے تیری بے رخی پہ ظالم میرا جی یہ چاہتا ہے کہ وفا کا مری لب پر کبھی نام تک لگ پہنچے ہے وہ ہے وہ ہے وہ فغان بے اثر کا کبھی مترف نہیں ہوں حقیقت صدا ہی کیا جو ان کے در و بام تک لگ پہنچے حقیقت صنم بگڑ کے مجھ سے میرا کیا بگاڑ لےگا کبھی راز کھول دو ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سلام بخیر تک لگ پہنچے مجھے لذت اسیری کا سبق پڑھا رہے ہیں جو نکل کے آشیاںسے کبھی دام تک لگ پہنچے ا نہیں مہربانسمجھ لیں مجھے کیا غرض پڑی ہے حقیقت کرم کا ہاتھ ہی کیا جو عوام تک لگ پہنچے ہوئے فیض مے کدہ سے سبھی فیضیاب لیکن جو غریب تشنہ لبی لب تھے وہی جام تک لگ پہنچے جسے ہے وہ ہے وہ نے جگمگایا اسی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ ساقی میرا ذکر تک لگ آئی میرا نام تک لگ پہنچے تمہیں یاد ہی لگ آؤںے ہے اور بات ور لگ<b

Kaleem Aajiz

1 likes

دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کا اٹھا نہیں ہے ابھی اعتبار نالوں کا یہ بڑھوا سی ہے روداد صبح مے خانہ زمیں پہ ڈھیر تھا ٹوٹے ہوئے پیالوں کا یہ خوف ہے کہ صبا لڑکھڑا کے گر نہ پڑے پیام لے کے چلی ہے شکستہ حالوں کا نہ آئیں اہل خرد وادی جنوں کی طرف یہاں گزر نہیں دامن بچانے والوں کا لپٹ لپٹ کے گلے مل رہے تھے خنجر سے بڑے غضب کا کلیجہ تھا مرنے والوں کا

Kaleem Aajiz

0 likes

ہر چند غم و درد کی قیمت بھی بے حد تھی لینا ہی پڑا دل کو ضرورت بھی بے حد تھی ظالم تھا حقیقت اور ظلم کی عادت بھی بے حد تھی مجبور تھے ہم ا سے سے محبت بھی بے حد تھی گو ترک تعلق ہے وہ ہے وہ سہولت بھی بے حد تھی لیکن لگ ہوا ہم سے کہ غیرت بھی بے حد تھی ا سے بت کے ستم سہ کے دکھا ہی دیا ہم نے گو اپنی طبیعت ہے وہ ہے وہ بغاوت بھی بے حد تھی واقف ہی لگ تھا رمز محبت سے حقیقت ور لگ دل کے لیے تھوڑی سی عنایت ہی بے حد تھی یوں ہی نہیں مشہور زما لگ میرا قاتل ا سے بے وجہ کو ا سے فن ہے وہ ہے وہ مہارت بھی بے حد تھی کیا دور غزل تھا کہ لہو دل ہے وہ ہے وہ بے حد تھا اور دل کو لہو کرنے کے فرصت بھی بے حد تھی ہر شام سناتے تھے حسینوں کو غزل ہم جب مال بے حد تھا تو سخاوت بھی بے حد تھی بلوا کے ہم عاجز کو پشیمان بھی بے حد ہیں کیا کیجیے کم بخت کی شہرت بھی بے حد تھی

Kaleem Aajiz

1 likes

یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤ عشق ہر بے وجہ کے ب سے کا نہیں پیاری جاؤ یوں تو مقتل ہے وہ ہے وہ تماشائی بے حد آتے ہیں آؤ ا سے سمے کہ ج سے سمے پکارے جاؤ دل کی بازی لگے پھروں جان کی بازی لگ جائے عشق ہے وہ ہے وہ ہار کے بیٹھو نہیں ہارے جاؤ کام بن جائے ا گر زلف جنوں بن جائے ا سے لیے ا سے کو سنوارو کہ سنواردے جاؤ کوئی رستہ کوئی منزل اسے دشوار نہیں ج سے جگہ چاہو محبت کے سہارے جاؤ ہم تو مٹی سے اگائیں گے محبت کے گلاب جاناں ا گر توڑنے جاتے ہوں ستارے تم جاؤ ڈوبنا ہوگا ا گر ڈوبنا تقدیر ہے وہ ہے وہ ہے چاہے کشتی پہ رہو چاہے کنارے جاؤ جاناں ہی سوچو بھلا یہ شوق کوئی شوق ہوا آج اونچائی پہ بیٹھو کل اتارے جاؤ موت سے کھیل کے کرتے ہوں محبت عاجز مجھ کو ڈر ہے کہی بے موت لگ مارے جاؤ

Kaleem Aajiz

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Kaleem Aajiz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Kaleem Aajiz's ghazal.