یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤ عشق ہر بے وجہ کے ب سے کا نہیں پیاری جاؤ یوں تو مقتل ہے وہ ہے وہ تماشائی بے حد آتے ہیں آؤ ا سے سمے کہ ج سے سمے پکارے جاؤ دل کی بازی لگے پھروں جان کی بازی لگ جائے عشق ہے وہ ہے وہ ہار کے بیٹھو نہیں ہارے جاؤ کام بن جائے ا گر زلف جنوں بن جائے ا سے لیے ا سے کو سنوارو کہ سنواردے جاؤ کوئی رستہ کوئی منزل اسے دشوار نہیں ج سے جگہ چاہو محبت کے سہارے جاؤ ہم تو مٹی سے اگائیں گے محبت کے گلاب جاناں ا گر توڑنے جاتے ہوں ستارے تم جاؤ ڈوبنا ہوگا ا گر ڈوبنا تقدیر ہے وہ ہے وہ ہے چاہے کشتی پہ رہو چاہے کنارے جاؤ جاناں ہی سوچو بھلا یہ شوق کوئی شوق ہوا آج اونچائی پہ بیٹھو کل اتارے جاؤ موت سے کھیل کے کرتے ہوں محبت عاجز مجھ کو ڈر ہے کہی بے موت لگ مارے جاؤ
Related Ghazal
کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
70 likes
تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
Dagh Dehlvi
84 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
More from Kaleem Aajiz
دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کا اٹھا نہیں ہے ابھی اعتبار نالوں کا یہ بڑھوا سی ہے روداد صبح مے خانہ زمیں پہ ڈھیر تھا ٹوٹے ہوئے پیالوں کا یہ خوف ہے کہ صبا لڑکھڑا کے گر نہ پڑے پیام لے کے چلی ہے شکستہ حالوں کا نہ آئیں اہل خرد وادی جنوں کی طرف یہاں گزر نہیں دامن بچانے والوں کا لپٹ لپٹ کے گلے مل رہے تھے خنجر سے بڑے غضب کا کلیجہ تھا مرنے والوں کا
Kaleem Aajiz
0 likes
منا فقیروں سے لگ پھیرا چاہیے یہ تو پوچھا چاہیے کیا چاہیے چاہ کا گاہے اونچا چاہیے جو لگ چاہیں ان کو چاہا چاہیے کون چاہے ہے کسی کو بے غرض چاہنے والوں سے بھاگا چاہیے ہم تو کچھ چاہے ہیں جاناں چاہو ہوں کچھ سمے کیا چاہے ہے دیکھا چاہیے چاہتے ہیں تری ہی دامن کی خیر ہم ہیں دیوانے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا چاہیے بے رکھ بھی ناز بھی انداز بھی چاہیے لیکن لگ اتنا چاہیے ہم جو کہنا چاہتے ہیں کیا کہی آپ کہ لیجے جو کہنا چاہیے بات چاہے بے سلیقہ ہوں کلیم بات کہنے کا سلیقہ چاہیے
Kaleem Aajiz
1 likes
مری صبح غم بلا سے کبھی شام تک لگ پہنچے مجھے ڈر یہ ہے برائی تری نام تک لگ پہنچے مری پا سے کیا حقیقت آتے میرا درد کیا مٹاتے میرا حال دیکھنے کو لب بام تک لگ پہنچے ہوں کسی کا مجھ پہ احسانے نہیں پسند مجھ کو تیری صبح کی تجلی مری شام تک لگ پہنچے تیری بے رخی پہ ظالم میرا جی یہ چاہتا ہے کہ وفا کا مری لب پر کبھی نام تک لگ پہنچے ہے وہ ہے وہ ہے وہ فغان بے اثر کا کبھی مترف نہیں ہوں حقیقت صدا ہی کیا جو ان کے در و بام تک لگ پہنچے حقیقت صنم بگڑ کے مجھ سے میرا کیا بگاڑ لےگا کبھی راز کھول دو ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سلام بخیر تک لگ پہنچے مجھے لذت اسیری کا سبق پڑھا رہے ہیں جو نکل کے آشیاںسے کبھی دام تک لگ پہنچے ا نہیں مہربانسمجھ لیں مجھے کیا غرض پڑی ہے حقیقت کرم کا ہاتھ ہی کیا جو عوام تک لگ پہنچے ہوئے فیض مے کدہ سے سبھی فیضیاب لیکن جو غریب تشنہ لبی لب تھے وہی جام تک لگ پہنچے جسے ہے وہ ہے وہ نے جگمگایا اسی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ ساقی میرا ذکر تک لگ آئی میرا نام تک لگ پہنچے تمہیں یاد ہی لگ آؤںے ہے اور بات ور لگ<b
Kaleem Aajiz
1 likes
مجھے ا سے کا کوئی گلہ نہیں کہ بہار نے مجھے کیا دیا تری آرزو تو نکال دی ترا حوصلہ تو بڑھا دیا گو ستم نے تری ہر اک طرح مجھے نا امید بنا دیا یہ مری وفا کا غصہ ہے کہ نباہ کر کے دکھا دیا کوئی بزم ہوں کوئی صورت آشنا یہ شعار اپنا اچھی اچھی ہے ج ہاں روشنی کی کمی ملی وہیں اک چراغ جلا دیا تجھے اب بھی مری خلوص کا لگ یقین آئی تو کیا کروں تری گیسوؤں کو سنوارت کر تجھے آئی لگ بھی دکھا دیا مری شاعری ہے وہ ہے وہ تری سوا کوئی ماجرا ہے لگ مدعا جو تری نظر کا فسا لگ تھا حقیقت مری غزل نے سنا دیا یہ غریب عاجز بے وطن یہ غبار خاطر انجمں یہ خراب ج سے کے لیے ہوا اسی بےوفا نے بھلا دیا
Kaleem Aajiz
0 likes
مری شاعری ہے وہ ہے وہ لگ رقص جام لگ مے کی رنگ فشانیوں وہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی اندھیرا یہ جو آہ و نالہ و درد ہیں کسی بےوفا کی نشانیاں یہی مری دن کے رفیق ہیں یہی مری رات کی رانیاں یہ مری زبان پہ غزل نہیں ہے وہ ہے وہ سنا رہا ہوں اندھیرا کہ کسی کے عہد شباب پر مٹیں کیسی کیسی جوانیاں کبھی آنسوؤں کو سوکھا گئیں مری سوز دل کی حرارتیں کبھی دل کی ناو ڈبو گئیں مری آنسوؤں کی روانیاں ابھی ا سے کو ا سے کی خبر ک ہاں کہ قدم ک ہاں ہے نظر ک ہاں ابھی مصلحت کا گزر ک ہاں کہ نئی نئی ہیں جوانیاں یہ بیان حال یہ گفتگو ہے میرا نچوڑا ہوا لہو ابھی سن لو مجھ سے کہ پھروں کبھو لگ سنو گے ایسی اندھیرا
Kaleem Aajiz
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Kaleem Aajiz.
Similar Moods
More moods that pair well with Kaleem Aajiz's ghazal.







