دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کا اٹھا نہیں ہے ابھی اعتبار نالوں کا یہ بڑھوا سی ہے روداد صبح مے خانہ زمیں پہ ڈھیر تھا ٹوٹے ہوئے پیالوں کا یہ خوف ہے کہ صبا لڑکھڑا کے گر نہ پڑے پیام لے کے چلی ہے شکستہ حالوں کا نہ آئیں اہل خرد وادی جنوں کی طرف یہاں گزر نہیں دامن بچانے والوں کا لپٹ لپٹ کے گلے مل رہے تھے خنجر سے بڑے غضب کا کلیجہ تھا مرنے والوں کا
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا
Tehzeeb Hafi
241 likes
More from Kaleem Aajiz
مری صبح غم بلا سے کبھی شام تک لگ پہنچے مجھے ڈر یہ ہے برائی تری نام تک لگ پہنچے مری پا سے کیا حقیقت آتے میرا درد کیا مٹاتے میرا حال دیکھنے کو لب بام تک لگ پہنچے ہوں کسی کا مجھ پہ احسانے نہیں پسند مجھ کو تیری صبح کی تجلی مری شام تک لگ پہنچے تیری بے رخی پہ ظالم میرا جی یہ چاہتا ہے کہ وفا کا مری لب پر کبھی نام تک لگ پہنچے ہے وہ ہے وہ ہے وہ فغان بے اثر کا کبھی مترف نہیں ہوں حقیقت صدا ہی کیا جو ان کے در و بام تک لگ پہنچے حقیقت صنم بگڑ کے مجھ سے میرا کیا بگاڑ لےگا کبھی راز کھول دو ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سلام بخیر تک لگ پہنچے مجھے لذت اسیری کا سبق پڑھا رہے ہیں جو نکل کے آشیاںسے کبھی دام تک لگ پہنچے ا نہیں مہربانسمجھ لیں مجھے کیا غرض پڑی ہے حقیقت کرم کا ہاتھ ہی کیا جو عوام تک لگ پہنچے ہوئے فیض مے کدہ سے سبھی فیضیاب لیکن جو غریب تشنہ لبی لب تھے وہی جام تک لگ پہنچے جسے ہے وہ ہے وہ نے جگمگایا اسی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ ساقی میرا ذکر تک لگ آئی میرا نام تک لگ پہنچے تمہیں یاد ہی لگ آؤںے ہے اور بات ور لگ<b
Kaleem Aajiz
1 likes
شانے کا بے حد خون ج گر جائے ہے پیاری تب زلف کہی تا ب کمر جائے ہے پیاری ج سے دن کوئی غم مجھ پہ گزر جائے ہے پیاری چہرہ ترا ا سے روز نکھر جائے ہے پیاری اک گھر بھی سلامت نہیں اب شہر وفا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آگ لگانے کو کدھر جائے ہے پیاری رہنے دے جفاؤں کی کڑی دھوپ ہے وہ ہے وہ مجھ کو سائے ہے وہ ہے وہ تو ہر بے وجہ ٹھہر جائے ہے پیاری حقیقت بات ذرا سی جسے کہتے ہیں غم دل سمجھانے ہے وہ ہے وہ اک عمر گزر جائے ہے پیاری ہر چند کوئی نام نہیں مری غزل ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری ہی طرف سب کی نظر جائے پیاری
Kaleem Aajiz
0 likes
ہے وہ ہے وہ روؤں ہوں رونا مجھے بھائے ہے کسی کا بھلا ا سے ہے وہ ہے وہ کیا جائے ہے دل آئی ہے پھروں دل ہے وہ ہے وہ درد آئی ہے یوں ہی بات ہے وہ ہے وہ بات بڑھ جائے ہے کوئی دیر سے ہاتھ پھیلائے ہے حقیقت نامہرباں آئی ہے جائے ہے محبت ہے وہ ہے وہ دل جائے گر جائے ہے جو شاعر فطرت نہیں ہے حقیقت کیا پائے ہے جنوں سب اشارے ہے وہ ہے وہ کہ جائے ہے م گر عقل کو کب سمجھ آئی ہے پکاروں ہوں لیکن لگ باز آئی ہے یہ دنیا ک ہاں ڈوبنے جائے ہے خموشی ہے وہ ہے وہ ہر بات بن جائے ہے جو بولے ہے دیوا لگ کہلائے ہے خوشگوار ج ہاں آوےگی عشق دل آوےگی عشق دل ی ہاں صبح آئی ہے شام آئی ہے جنوں ختم دار و رسن پر نہیں یہ رستہ بے حد دور تک جائے ہے
Kaleem Aajiz
0 likes
ہر چند غم و درد کی قیمت بھی بے حد تھی لینا ہی پڑا دل کو ضرورت بھی بے حد تھی ظالم تھا حقیقت اور ظلم کی عادت بھی بے حد تھی مجبور تھے ہم ا سے سے محبت بھی بے حد تھی گو ترک تعلق ہے وہ ہے وہ سہولت بھی بے حد تھی لیکن لگ ہوا ہم سے کہ غیرت بھی بے حد تھی ا سے بت کے ستم سہ کے دکھا ہی دیا ہم نے گو اپنی طبیعت ہے وہ ہے وہ بغاوت بھی بے حد تھی واقف ہی لگ تھا رمز محبت سے حقیقت ور لگ دل کے لیے تھوڑی سی عنایت ہی بے حد تھی یوں ہی نہیں مشہور زما لگ میرا قاتل ا سے بے وجہ کو ا سے فن ہے وہ ہے وہ مہارت بھی بے حد تھی کیا دور غزل تھا کہ لہو دل ہے وہ ہے وہ بے حد تھا اور دل کو لہو کرنے کے فرصت بھی بے حد تھی ہر شام سناتے تھے حسینوں کو غزل ہم جب مال بے حد تھا تو سخاوت بھی بے حد تھی بلوا کے ہم عاجز کو پشیمان بھی بے حد ہیں کیا کیجیے کم بخت کی شہرت بھی بے حد تھی
Kaleem Aajiz
1 likes
ک سے طرح کوئی دھوپ ہے وہ ہے وہ پگھلے ہے جلے ہے یہ بات حقیقت کیا جانے جو سائے ہے وہ ہے وہ پلے ہے دل درد کی بھٹی ہے وہ ہے وہ کئی بار جلے ہے تب ایک غزل حسن کے سانچے ہے وہ ہے وہ ڈھلے ہے کیا دل ہے کہ اک سان سے بھی آرام لگ لے ہے محفل سے جو نکلے ہے تو خلوت ہے وہ ہے وہ جلے ہے بھولی ہوئی یاد آ کے کلیجے کو ملے ہے جب شام گزر جائے ہے جب رات ڈھلے ہے ہاں دیکھ ذرا کیا تری قدموں کے تلے ہے ٹھوکر بھی حقیقت کھائے ہے جو اترا کے چلے ہے
Kaleem Aajiz
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Kaleem Aajiz.
Similar Moods
More moods that pair well with Kaleem Aajiz's ghazal.







