ghazalKuch Alfaaz

میری پہچان ہے کیا میرا پتا دے مجھ کو کوئی آئینہ اگر ہے تو دکھا دے مجھ کو تجھ سے ملتا ہوں تو 9 یہ خیال آتا ہے ای سے بلندی سے اگر کوئی گرا دے مجھ کو کب سے پتھر کی چٹانوں ہے وہ ہے وہ ہوں گمنام و ہم نوا سراپے کی طرح کوئی جگا دے مجھ کو ایک آئینہ سر راہ لیے بیٹھا ہوں جرم ایسا ہے کہ ہر بے وجہ سزا دے مجھ کو ان اندھیروں ہے وہ ہے وہ اکیلا ہی جلوں گا کب تک کوئی اجازت تو بھی تو خورشید نما دے مجھ کو

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

More from Ameer Qazalbash

فکر غربت ہے لگ اندیشہ تنہائی ہے زندگی کتنے حوادث سے گزر آئی ہے لوگ ج سے حال ہے وہ ہے وہ مرنے کی دعا کرتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے حال ہے وہ ہے وہ جینے کی قسم کھائی ہے ہم لگ سقراط لگ منصور لگ عیسی لیکن جو بھی قاتل ہے ہمارا ہی تمنا ئی ہے زندگی اور ہیں کتنے تری چہرے یہ بتا تجھ سے اک عمر کی حالانکہ شنا سائی ہے کون ناواقف انجام تبسم ہے امیر مری حالات پہ یہ ک سے کو ہنسی آئی ہے

Ameer Qazalbash

2 likes

ہر گام حادثہ ہے ٹھہر جائیے جناب رستہ ا گر ہوں یاد تو گھر جائیے جناب زندہ اوی سے کے تلاطم ہیں سامنے خوابوں کی کشتیوں سے اتر جائیے جناب انصاف کی صلیب ہوں سچائیوں کا زہر مجھ سے ملے بغیر گزر جائیے جناب دن کا سفر تو کٹ گیا تو سورج کے ساتھ ساتھ اب شب کی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ بکھر جائیے جناب کوئی چرا کے لے گیا تو صدیوں کا اعتقاد منبر کی سیڑھیوں سے اتر جائیے جناب

Ameer Qazalbash

2 likes

خوف بن کر یہ خیال آتا ہے 9 مجھ کو دشت کر جائےگا اک روز سمندر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ سرپا ہوں خبر نامہ امروز جہاں کل بھلا دے نہ یہ دنیا کہیں پڑھ کر مجھ کو ہر نفس مجھ ہے وہ ہے وہ تغیر کی شفافیت لرزاں مرتسم کر نہ سکا کوئی بھی منظر مجھ کو اپنے ساحل پہ ہے وہ ہے وہ خود تشنا دہن بیٹھا ہوں دیکھ دریا کی ترائی سے نکل کر مجھ کو مری سائے ہے وہ ہے وہ بھی مجھ کو نہیں رہنے دےگا میرے ہی گھر ہے وہ ہے وہ رکھے گا کوئی بے گھر مجھ کو کارگر کوئی بھی تلخی تقریر نہ ہونے دےگا کیا مقدر ہے کہ لے جائےگا در در مجھ کو کام آوےگی عشق دل نہ بیدار نگاہی بھی امیر خواب کہ جائےگا اک دن میرا پیکر مجھ کو

Ameer Qazalbash

0 likes

اک پرندہ ابھی اڑان ہے وہ ہے وہ ہے تیر ہر بے وجہ کی کمان ہے وہ ہے وہ ہے ج سے کو دیکھو وہی ہے چپ چپ سا چنو ہر بے وجہ امتحاں ہے وہ ہے وہ ہے کھو چکے ہم یقین جیسی اجازت تو ابھی تک کسی گمان ہے وہ ہے وہ ہے زندگی سنگ دل صحیح لیکن آئی لگ بھی اسی چٹان ہے وہ ہے وہ ہے سر بلن گرا نصیب ہوں کیسے سر نگوں ہے کہ سایبان ہے وہ ہے وہ ہے خوف ہی خوف جاگتے سوتے کوئی آسیب ا سے مکان ہے وہ ہے وہ ہے آسرا دل کو اک امید کا ہے یہ ہوا کب سے بادبان ہے وہ ہے وہ ہے خود کو پایا لگ عمر بھر ہم نے کون ہے جو ہمارے دھیان ہے وہ ہے وہ ہے

Ameer Qazalbash

11 likes

پائیں ہر ایک راہ گزر پر اداسیاں نکلی ہوئی ہیں کب سے سفر پر اداسیاں خوابیدہ شہر جاگنے والا ہے لوٹ آؤ بیٹھی ہوئی ہیں شام سے گھر پر اداسیاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خوف سے لرزتا رہا پڑھ نہیں سکا پھیلی ہوئی تھیں ایک خبر پر اداسیاں سورج کے ہاتھ سبز قباؤں تک آ گئے اب ہیں ی ہاں ہر ایک شجر پر اداسیاں اپنے بھی خط و خال نگا ہوں ہے وہ ہے وہ اب نہیں ا سے طرح چھا گئی ہیں نظر پر اداسیاں پھیلا رہا ہے کون کبھی سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خوابوں کے ایک ایک ن گر پر اداسیاں سب لوگ بن گئے ہیں ا گر اجنبی تو کیا چھوڑ آئیںگی مجھے مری در پر اداسیاں

Ameer Qazalbash

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ameer Qazalbash.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ameer Qazalbash's ghazal.