mujh pe hain saikdon ilzam mire saath na chal tu bhi ho jaega badnam mire saath na chal tu nai subah ke suraj ki hai ujli si kiran main huun ik dhuul bhari shaam mire saath na chal apni khushiyan mire alam se mansub na kar mujh se mat maang mira naam mire saath na chal tu bhi kho jaegi tapke hue aansu ki tarah dekh ai gardish-e-ayyam mire saath na chal meri divar ko tu kitna sambhalega 'shakil' tutta rahta huun har gaam mire saath na chal mujh pe hain saikdon ilzam mere sath na chal tu bhi ho jaega badnam mere sath na chal tu nai subah ke suraj ki hai ujli si kiran main hun ek dhul bhari sham mere sath na chal apni khushiyan mere aalam se mansub na kar mujh se mat mang mera nam mere sath na chal tu bhi kho jaegi tapke hue aansu ki tarah dekh ai gardish-e-ayyam mere sath na chal meri diwar ko tu kitna sambhaalega 'shakil' tutta rahta hun har gam mere sath na chal
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
More from Shakeel Azmi
عجیب منظر ہے بارشوں کا مکان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہے فلک ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی حدود ہے وہ ہے وہ ہے نشان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہے تمام فصلیں اجڑ چکی ہیں لگ حل بچا ہے لگ فصلوں باقی کسان گروی رکھا ہوا ہے لگان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہے عذاب اترا تو پاؤں سب کے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی سطحوں سے آ لگے ہیں ہوا کے گھر ہے وہ ہے وہ نہیں ہے کوئی مچان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہے کوئی کسی کو نہیں بچاتا سب اپنی خاطر ہی تیرتے ہیں یہ دن خوشگوار کا دن ہوں چنو جہان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہے ادا سے آنکھوں کے بادلوں نے دلوں کے گرد و غبار دھوئے یقین پتھر بنا کھڑا ہے گمان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا
Shakeel Azmi
4 likes
अकेले रहने की ख़ुद ही सज़ा क़ुबूल की है ये हम ने इश्क़ किया है या कोई भूल की है ख़याल आया है अब रास्ता बदल लेंगे अभी तलक तो बहुत ज़िंदगी फ़ुज़ूल की है ख़ुदा करे कि ये पौदा ज़मीं का हो जाए कि आरज़ू मिरे आँगन को एक फूल की है न जाने कौन सा लम्हा मिरे क़रार का है न जाने कौन सी साअ'त तिरे हुसूल की है न जाने कौन सा चेहरा मिरी किताब का है न जाने कौन सी सूरत तिरे नुज़ूल की है जिन्हें ख़याल हो आँखों का लौट जाएँ वो अब इस के बा'द हुकूमत सफ़र में धूल की है ये शोहरतें हमें यूँँही नहीं मिली हैं 'शकील' ग़ज़ल ने हम से भी बहुत वसूल की है
Shakeel Azmi
18 likes
مجھ پہ ہیں سیکڑوں الزام مری ساتھ نہ چل تو بھی ہو جائےگا بدنام مری ساتھ نہ چل تو نئی صبح کے سورج کی ہے اجلی سی کرن میں ہوں اک دھول بھری شام مری ساتھ نہ چل اپنی خوشیاں مری آلام سے بادہ آشامی نہ کر مجھ سے مت مانگ میرا نام مری ساتھ نہ چل تو بھی کھو جائے گی ٹپکے ہوئے آنسو کی طرح دیکھ اے گردش ایام مری ساتھ نہ چل میری دیوار کو تو کتنا سنبھالےگا شکیل ٹوٹتا رہتا ہوں ہر گام مری ساتھ نہ چل
Shakeel Azmi
26 likes
ہے وہ ہے وہ بھی جاناں جیسا ہوں اپنے سے جدا مت سمجھو آدمی ہی مجھے رہنے دو خدا مت سمجھو یہ جو ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ رہتا نہیں جاناں سے مل کر یہ میرا عشق ہے جاناں اس کا کو نشہ مت سمجھو را سے آتا نہیں سب کو یہ محبت کا مرض مری بیماری کو جاناں اپنی دوا مت سمجھو
Shakeel Azmi
51 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shakeel Azmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Shakeel Azmi's ghazal.







