mujhe malal bhi us ki taraf se hota hai magar ye haal bhi us ki taraf se hota hai main tutta bhi huun aur khud hi jud bhi jaata huun ki ye kamal bhi us ki taraf se hota hai pukarta bhi vahi hai mujhe safar ke liye safar muhal bhi us ki taraf se hota hai javab deta hai mere har ik saval ka vo magar saval bhi us ki taraf se hota hai vo mere haal se mujh ko hi be-khabar kar de ye ehtimal bhi us ki taraf se hota hai main us ke hijr men kyuun tuut kar nahin roya ye ik saval bhi us ki taraf se hota hai jab agahi mujhe gumrah karti hai 'mohsin' junun bahal bhi us ki taraf se hota hai mujhe malal bhi us ki taraf se hota hai magar ye haal bhi us ki taraf se hota hai main tutta bhi hun aur khud hi jud bhi jata hun ki ye kamal bhi us ki taraf se hota hai pukarta bhi wahi hai mujhe safar ke liye safar muhaal bhi us ki taraf se hota hai jawab deta hai mere har ek sawal ka wo magar sawal bhi us ki taraf se hota hai wo mere haal se mujh ko hi be-khabar kar de ye ehtimal bhi us ki taraf se hota hai main us ke hijr mein kyun tut kar nahin roya ye ek sawal bhi us ki taraf se hota hai jab aagahi mujhe gumrah karti hai 'mohsin' junun bahaal bhi us ki taraf se hota hai
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
More from Mohsin Asrar
مری بارے ہے وہ ہے وہ کچھ سوچو مجھے نیند آ رہی ہے مجھے ضائع لگ ہونے دو مجھے نیند آ رہی ہے مری اندر کے دکھ چہرے سے ظاہر ہوں رہے ہیں مری تصویر مت کھینچو مجھے نیند آ رہی ہے تو کیا سارے گلے شکوے ابھی کر لوگے مجھ سے کچھ اب کل کے لیے رکھو مجھے نیند آ رہی ہے سحر ہوں گی تو سر و ساماں کہ ہیں کیا کیا مسائل ذرا سی دیر سونے دو مجھے نیند آ رہی ہے تمہارا کام ہے ساری حسین منجملہ و اسباب ماتم رکھنا مری شانے پہ سر رکھو مجھے نیند آ رہی ہے بے حد کچھ جاناں سے کہنا تھا م گر ہے وہ ہے وہ کہ لگ پایا لو مری ڈائری رکھ لو مجھے نیند آ رہی ہے
Mohsin Asrar
6 likes
مجھے ملال بھی ا سے کی طرف سے ہوتا ہے م گر یہ حال بھی ا سے کی طرف سے ہوتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ٹوٹتا بھی ہوں اور خود ہی جوڑ بھی جاتا ہوں کہ یہ غصہ بھی ا سے کی طرف سے ہوتا ہے پکارتا بھی وہی ہے مجھے سفر کے لیے سفر محال بھی ا سے کی طرف سے ہوتا ہے جواب دیتا ہے مری ہر اک سوال کا حقیقت م گر سوال بھی ا سے کی طرف سے ہوتا ہے حقیقت مری حال سے مجھ کو ہی بے خبر کر دے یہ احتمال بھی ا سے کی طرف سے ہوتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ہجر ہے وہ ہے وہ کیوں ٹوٹ کر نہیں رویا یہ اک سوال بھی ا سے کی طرف سے ہوتا ہے جب آگہی مجھے گمراہ کرتی ہے محسن جنوں بحال بھی ا سے کی طرف سے ہوتا ہے
Mohsin Asrar
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mohsin Asrar.
Similar Moods
More moods that pair well with Mohsin Asrar's ghazal.







