ghazalKuch Alfaaz

مجھے تو سب تماشا لگ رہا ہے خدا سے پوچھ اسے کیا لگ رہا ہے وبا کے دن گزرنے جا رہے ہیں مدی لگ اور سچا لگ رہا ہے اذیت سے تکے جاتا ہوں خود کو تمہیں یہ گھر ہے وہ ہے وہ رہنا لگ رہا ہے خود اپنے ساتھ رہنا پڑ گیا تو تھا اور اب دشمن بھی اچھا لگ رہا ہے

Related Ghazal

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

More from Ali Zaryoun

چراغاہیں نئی آباد ہوں گی م گر جو بستیاں برباد ہوں گی خدا مٹی کو پھروں سے حکم دےگا کئی شکلیں نئی ایجاد ہوں گی ابھی ممکن نہیں لیکن یہ ہوگا کتابیں فالتو ہوں گی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان آنکھوں کو پڑھکر سوچتا ہوں یہ نظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے طرح سے یاد ہوں گی یہ پریاں پھروں نہیں آوےگی عشق دل ملنے یہ غزلیں پھروں نہیں ارشاد ہوں گی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ڈرتا ہوں علی ان عادتوں سے کے جو مجھ کو تمہارے بعد ہوں گی

Ali Zaryoun

21 likes

چپ چاپ کیوں گلزار جناں ہوں کوئی بات تو کروں حل بھی نکالتے ہیں ملاقات تو کروں خالی ہوا ہے وہ ہے وہ اڑنا فقیری نہیں میاں دل جوڑ کے دکھاؤ کرامات تو کروں کھیتوں کو کھا گئی ہے یہ شہریلی بستیاں صاحب علاج رنج مضافات تو کروں

Ali Zaryoun

15 likes

تور سینا ہے سر کروگے میاں اپنے اندر سفر کروگے میاں جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ روز یاد کرتے ہوں پھروں تو جاناں عمر بھر کروگے میاں حقیقت جو اک لفظ مر گیا تو ہے اس کا کا کو کس کی خبر کروگے میاں اور دل درویش ایک مدی لگ ہے جاناں مدینے ہے وہ ہے وہ سیر کروگے میاں

Ali Zaryoun

6 likes

لہجے ہے وہ ہے وہ خنک بات ہے وہ ہے وہ دم ہے تو کرم ہے گردن در حیدر پہ جو خم ہے تو کرم ہے مت سوچ کہ ا سے گھر پہ کرم ہے تو الم ہے در اصل تری گھر پہ الم ہے تو کرم ہے بستر پہ کمر تراش ٹھیک نہیں لگتی تو خوش ہوں خوراک بھی اے یار جو کم ہے تو کرم ہے بے نسبت و بے عشق ک ہاں ملتی ہے عزت مجھ پہ مری مولا کا کرم ہے تو کرم ہے منکر کی جلن ہی ہے وہ ہے وہ تو مومن کا مزہ ہے گر طع لگ و تشنی و ستم ہے تو کرم ہے اب جب کے کوئی حال بھی کیوں پوچھے کسی کا اک آنکھ مری واسطے نمہ ہے تو کرم ہے اب جب کے کوئی آنکھ نہیں رکتی کسی پر جو کوئی ج ہاں جس کا صنم ہے تو کرم ہے مدحت کا مزہ بھی ہوں تغزل کی ادا بھی کچھ ایسا سخن تجھ کو بہم ہے تو کرم ہے اندھیرا سے غزل سازوں کے ہوتے ہوئے ذریعون تھوڑا سا ا گر تیرا بھرم ہے تو کرم ہے

Ali Zaryoun

4 likes

ہوں جسے یار سے تصدیق نہیں کر سکتا حقیقت کسی شعر کی تضحیک نہیں کر سکتا پر کشش دوست مری ہجر کی مجبوری سمجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے دور سے نزدیک نہیں کر سکتا مجھ پہ تنقید سے رہتے ہیں اجالے جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان دکانوں کو ہے وہ ہے وہ تاریک نہیں کر سکتا کون سے غم سے نکلنا ہے کسے رکھنا ہے مسئلہ یہ ہے ہے وہ ہے وہ تفریق نہیں کر سکتا پیڑ کو گالیاں بکنے کے علاوہ ذریعون کیا کریں حقیقت کے جو تخلیق نہیں کر سکتا شعر تو خیر ہے وہ ہے وہ تنہائی ہے وہ ہے وہ کہ لوگا علی اپنی حالت تو ہے وہ ہے وہ خود ٹھیک نہیں کر سکتا ہجر سے گزرے بنا عشق بتانے والا بحث کر سکتا ہے تحقیق نہیں کر سکتا

Ali Zaryoun

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ali Zaryoun.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ali Zaryoun's ghazal.