ghazalKuch Alfaaz

مجھ سے مت پوچھو کہ مجھ کو اور کیا کیا یاد ہے حقیقت مری نزدیک آیا تھا ب سے اتنا یاد ہے یوں تو دشت دل ہے وہ ہے وہ کتنوں نے قدم رکھے مغر بھول جانے پر بھی ایک نقش کف پا یاد ہے ا سے بدن کی گھاٹیاں تک نقش ہیں دل پر مری نشان نقش پا سے سمندر تک کو دریا یاد ہے مجھ سے حقیقت کافر مسلماناں تو لگ ہوں پایا کبھی لیکن اس کا کو حقیقت ترجمے کے ساتھ کلمہ یاد ہے

Tehzeeb Hafi73 Likes

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے

Yasir Khan

92 likes

More from Tehzeeb Hafi

خوشی ضائع ہوں رہے تھے دیکھ کر روتا لگ تھا ج سے جگہ بنتا تھا رونا ہے وہ ہے وہ ادھر روتا لگ تھا صرف تیری چپ نے مری گال گیلے کر دیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو حقیقت ہوں جو کسی کی موت پر روتا لگ تھا مجھ پہ کتنے نظروں گزرے پر ان آنکھوں کو کیا میرا دکھ یہ ہے کہ میرا ہم سفر روتا لگ تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کے وصل ہے وہ ہے وہ بھی ہجر کاٹا ہے کہی حقیقت مری کندھے پہ رکھ لیتا تھا سر روتا لگ تھا پیار تو پہلے بھی ا سے سے تھا م گر اتنا نہیں تب ہے وہ ہے وہ ا سے کو چھو تو لیتا تھا م گر روتا لگ تھا گریہ و زاری کو بھی اک خاص موسم چاہیے مری آنکھیں دیکھ لو ہے وہ ہے وہ سمے پر روتا لگ تھا

Tehzeeb Hafi

48 likes

چہرہ دیکھیں تیرے ہونٹ اور پلکیں دیکھیں دل پہ آنکھیں رکھیں تیری سانسیں دیکھیں سرخ لبوں سے سبز دعائیں فوٹی ہیں پیلے پھولوں جاناں کو نیلی آنکھیں دیکھیں سال ہونے کو آیا ہے حقیقت کب لوٹےگا آؤ کھیت کی سیر کو نکلیں کوجیں دیکھیں تھوڑی دیر ہے وہ ہے وہ جنگل ہم کو آق کرےگا برگد دیکھیں یا برگد کی شاخے دیکھیں میرے مالک آپ تو سب کچھ کر سکتے ہیں ساتھ چلیں ہم اور دنیا کی آنکھیں دیکھیں ہم تیرے ہونٹو کی دھیمے دھیمے کب بھولے ہیں پانی ہے وہ ہے وہ پتھر پھینکے اور لہریں دیکھیں

Tehzeeb Hafi

21 likes

اک حویلی ہوں اس کا کا در بھی ہوں خود ہی آنگن خود ہی شجر بھی ہوں اپنی مستی ہے وہ ہے وہ بہتا دریا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کنارہ بھی ہوں بھنور بھی ہوں آسماں اور زمیں کی وسعت دیکھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ادھر بھی ہوں اور ادھر بھی ہوں خود ہی ہے وہ ہے وہ خود کو لکھ رہا ہوں خط اور ہے وہ ہے وہ اپنا نامہ بر بھی ہوں داستان ہوں ہے وہ ہے وہ اک طویل مگر تو جو سن لے تو بڑھوا بھی ہوں ایک فردار پیڑ ہوں لیکن وقت آنے پہ بے ثمر بھی ہوں

Tehzeeb Hafi

19 likes

کچھ ضرورت سے کم کیا گیا تو ہے تری جانے کا غم کیا گیا تو ہے تا قیامت ہرے بھرے رہیں گے ان درختوں پہ دم کیا گیا تو ہے ا سے لیے روشنی ہے وہ ہے وہ ٹھنڈک ہے کچھ چراغوں کو نمہ کیا گیا تو ہے کیا یہ کم ہے کہ آخری بوسہ ا سے جبیں پر رقم کیا گیا تو ہے پانیوں کو بھی خواب آنے لگے خوشی دریا ہے وہ ہے وہ زم کیا گیا تو ہے ان کی آنکھوں کا تذکرہ کر کے مری آنکھوں کو نمہ کیا گیا تو ہے دھول ہے وہ ہے وہ اٹ گئے ہیں سارے غزال اتنی شدت سے رم کیا گیا تو ہے

Tehzeeb Hafi

19 likes

ہم تمہارے غم سے باہر آ گئے ہجر سے بچنے کے منتر آ گئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے جاناں کو اندر آنے کا کہا جاناں تو مری دل کے اندر آ گئے ایک ہی عورت کو دنیا مان کر اتنا گھوما ہوں کہ چکر آ گئے امتحاں عشق مشکل تھا م گر نکل کر کے اچھے نمبر آ گئے تری کچھ عاشق تو گنگارام ہیں اور جو باقی تھے نشتر آ گئے

Tehzeeb Hafi

52 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Tehzeeb Hafi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Tehzeeb Hafi's ghazal.