ghazalKuch Alfaaz

na ho ki qurb hi phir rabt-e-marg ban jaae vo ab mile to zara us se fasla rakhna na ho ki qurb hi phir rabt-e-marg ban jae wo ab mile to zara us se fasla rakhna

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

More from Iftikhar Naseem

ا سے دودمان بھی تو لگ جذبات پہ آب رکھو تھک گئے ہوں تو مری کندھے پہ بازو رکھو بھولنے پائے لگ ا سے دشت کی وحشت دل سے شہر کے بیچ رہو باغ ہے وہ ہے وہ آہو رکھو خشک ہوں جائے گی روتے ہوئے صحرا کی طرح کچھ بچا کر بھی تو ا سے آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو رکھو روشنی ہوں گی تو آ جائےگا رہ رو دل کا ا سے کی یادوں کے دیے طاق ہے وہ ہے وہ ہر سو رکھو یاد آوےگی عشق دل تمہاری ہی سفر ہے وہ ہے وہ ا سے کو ا سے کے رومال ہے وہ ہے وہ اک اچھی سی خوشبو رکھو اب حقیقت محبوب نہیں اپنا م گر دوست تو ہے ا سے سے یہ ایک تعلق ہی بحر سو رکھو

Iftikhar Naseem

0 likes

خود کو ہجوم دہر ہے وہ ہے وہ کھونا پڑا مجھے چنو تھے لوگ ویسا ہی ہونا پڑا مجھے دشمن کو مرتے دیکھ کے لوگوں کے سامنے دل ہن سے رہا تھا آنکھ سے رونا پڑا مجھے کچھ ا سے دودمان تھے پھول ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر کھلے ہوئے تاروں کو آسمان ہے وہ ہے وہ بنا پڑا مجھے ایسی شکست تھی کہ کٹی انگلیوں کے ساتھ کانٹوں کا ایک ہار پروونا پڑا مجھے کاری نہیں تھا وار م گر ایک عمر تک آب نمک سے زخم کو دھونا پڑا مجھے آساں نہیں ہے لکھنا غم دل کی واردات اپنا لہو ہے وہ ہے وہ ڈبونا پڑا مجھے اتنی طویل و سرد شب ہجر تھی نسیم گلزار ناز کتنی ہی بار جاگنا سونا پڑا مجھے

Iftikhar Naseem

0 likes

لبا سے خاک صحیح پر کہی ضرور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بتا رہی ہے چمک آنکھ کی کہ نور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی نہیں جو مری لو سے راستہ دیکھے ہوا تند بجھا دے تری حضور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پناہ دیتا نہیں کوئی اور سیارہ بھٹک رہا ہوں خلا ہے وہ ہے وہ ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے دور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ ہوں گرا کے مجھے تو بھی خاک ہے وہ ہے وہ مل جائے مجھے گلے سے لگا لے ترا غرور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نکل پڑا ہوں یوںہی اتنی برف باری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدن کے گرم لہو کا غضب سرور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سزا بھی کاٹ چکا ہوں ہے وہ ہے وہ ج سے غلطیاں کی نسیم گلزار ناز کسے پکاروں ک ہوں ا سے ہے وہ ہے وہ بے قصور ہوں ہے وہ ہے وہ

Iftikhar Naseem

0 likes

تمام عمر سفر کا ثمر ملےگا مجھے پ سے افق ہی کہی اب تو گھر ملےگا مجھے یہ ک سے لیے ہے وہ ہے وہ خلا در خلا اطراف ہوں حقیقت کون ہے جو میرا چاند پر ملےگا مجھے ملا لگ ج سے کے لیے گھر کا نرم گرم سکون یہیں کہی حقیقت سر رہگزر ملےگا مجھے عذاب یہ ہے کہ تنہا کٹےگی عمر تمام سفر کے بعد کوئی ہم سفر ملےگا مجھے کہی دکھائی لگ دے کاش چھوڑنے والا کہونگا کیا ہے وہ ہے وہ اسے اب ا گر ملےگا مجھے

Iftikhar Naseem

0 likes

سرائے چھوڑ کے حقیقت پھروں کبھی نہیں آیا چلا گیا تو جو مسافر کبھی نہیں آیا ہر ایک اجازت مری گھر ہے وہ ہے وہ اسی کے ذوق کی ہے جو مری گھر ہے وہ ہے وہ بظاہر کبھی نہیں آیا یہ کون مجھ کو ادھورا بنا کے چھوڑ گیا تو پلٹ کے میرا مصور کبھی نہیں آیا مکان ہوں ج سے ہے وہ ہے وہ کوئی بھی جلوے نہیں رہتا شجر ہوں ج سے پہ کہ طائر کبھی نہیں آیا

Iftikhar Naseem

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Iftikhar Naseem.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Iftikhar Naseem's ghazal.