تمام عمر سفر کا ثمر ملےگا مجھے پ سے افق ہی کہی اب تو گھر ملےگا مجھے یہ ک سے لیے ہے وہ ہے وہ خلا در خلا اطراف ہوں حقیقت کون ہے جو میرا چاند پر ملےگا مجھے ملا لگ ج سے کے لیے گھر کا نرم گرم سکون یہیں کہی حقیقت سر رہگزر ملےگا مجھے عذاب یہ ہے کہ تنہا کٹےگی عمر تمام سفر کے بعد کوئی ہم سفر ملےگا مجھے کہی دکھائی لگ دے کاش چھوڑنے والا کہونگا کیا ہے وہ ہے وہ اسے اب ا گر ملےگا مجھے
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
ا گر تو بےوفا ہے دھیان رکھنا مجھے سب کچھ پتا ہے دھیان رکھنا بچھڑتے سمے ہم نے کہ دیا تھا ہمارا دل دکھا ہے دھیان رکھنا خدا ج سے کی محبت ہے وہ ہے وہ بنی ہوں حقیقت کئیوں کا خدا ہے دھیان رکھنا جسے جاناں دوست کیول جانتی ہوں حقیقت جاناں کو چاہتا ہے دھیان رکھنا
Anand Raj Singh
54 likes
جام سگریٹ کش اور ب سے کچھ دھواں آخرش اور ب سے موت تک زندگی کا سفر رات دن کش مکش اور ب سے پی گیا تو پیڑ آندھی م گر گر پڑا کھا کے نور صفا اور ب سے زندگی جلتی سگریٹ ہے صرف دو چار کش اور ب سے سوختے پیڑ کی لکڑیاں آخری پیشکش اور ب سے
Sandeep Thakur
50 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
More from Iftikhar Naseem
لگے گا اجنبی اب کیوں لگ شہر بھر مجھ کو بچا گیا تو ہے نظر تو بھی دیکھ کر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھوم پھروں کے اسی سمت آ نکلتا ہوں جکڑ رہی ہے تری گھر کی رہگزر مجھ کو جھل سے رہا ہے بدن زیر سایہ دیوار بلا رہا ہے کوئی دشت بے شجر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ سنگ دل ہوں تجھے بھولتا ہی جاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہن سے رہا ہوں تو مل کے ادا سے کر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہی ر ہوں گا تجھے کنارے سے تو ڈھونڈتا ہی رہے گا بھنور بھنور مجھ کو بنی ہیں تند ہواؤں کی زرد دیواریں ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا ہے م گر شعلہ سفر مجھ کو بنا دیا ہے نڈر ض گرا خواہشوں نے نسیم گلزار ناز خود اعتماد لگ تھا اپنے آپ پر مجھ کو
Iftikhar Naseem
0 likes
ا سے دودمان بھی تو لگ جذبات پہ آب رکھو تھک گئے ہوں تو مری کندھے پہ بازو رکھو بھولنے پائے لگ ا سے دشت کی وحشت دل سے شہر کے بیچ رہو باغ ہے وہ ہے وہ آہو رکھو خشک ہوں جائے گی روتے ہوئے صحرا کی طرح کچھ بچا کر بھی تو ا سے آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو رکھو روشنی ہوں گی تو آ جائےگا رہ رو دل کا ا سے کی یادوں کے دیے طاق ہے وہ ہے وہ ہر سو رکھو یاد آوےگی عشق دل تمہاری ہی سفر ہے وہ ہے وہ ا سے کو ا سے کے رومال ہے وہ ہے وہ اک اچھی سی خوشبو رکھو اب حقیقت محبوب نہیں اپنا م گر دوست تو ہے ا سے سے یہ ایک تعلق ہی بحر سو رکھو
Iftikhar Naseem
0 likes
خود کو ہجوم دہر ہے وہ ہے وہ کھونا پڑا مجھے چنو تھے لوگ ویسا ہی ہونا پڑا مجھے دشمن کو مرتے دیکھ کے لوگوں کے سامنے دل ہن سے رہا تھا آنکھ سے رونا پڑا مجھے کچھ ا سے دودمان تھے پھول ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر کھلے ہوئے تاروں کو آسمان ہے وہ ہے وہ بنا پڑا مجھے ایسی شکست تھی کہ کٹی انگلیوں کے ساتھ کانٹوں کا ایک ہار پروونا پڑا مجھے کاری نہیں تھا وار م گر ایک عمر تک آب نمک سے زخم کو دھونا پڑا مجھے آساں نہیں ہے لکھنا غم دل کی واردات اپنا لہو ہے وہ ہے وہ ڈبونا پڑا مجھے اتنی طویل و سرد شب ہجر تھی نسیم گلزار ناز کتنی ہی بار جاگنا سونا پڑا مجھے
Iftikhar Naseem
0 likes
اس کا کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا آسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا جس گھڑی آیا پلٹ کر اک میرا بچھڑا ہوا آم سے کپڑوں ہے وہ ہے وہ تھا حقیقت پھروں بھی شہزادہ لگا ہر گھڑی تیار ہے دل جان دینے کے لیے اس کا کا نے پوچھا بھی نہیں یہ پھروں بھی آمادہ لگا کارواں ہے یا سراب زندگی ہے کیا ہے یہ ایک منزل کا نشان اک اور ہی زادہ لگا روشنی ایسی عجب تھی رنگ بھومی کی نسیم گلزار ناز ہوں گئے کردار مدغم کرشن بھی رادھا لگا
Iftikhar Naseem
2 likes
سرائے چھوڑ کے حقیقت پھروں کبھی نہیں آیا چلا گیا تو جو مسافر کبھی نہیں آیا ہر ایک اجازت مری گھر ہے وہ ہے وہ اسی کے ذوق کی ہے جو مری گھر ہے وہ ہے وہ بظاہر کبھی نہیں آیا یہ کون مجھ کو ادھورا بنا کے چھوڑ گیا تو پلٹ کے میرا مصور کبھی نہیں آیا مکان ہوں ج سے ہے وہ ہے وہ کوئی بھی جلوے نہیں رہتا شجر ہوں ج سے پہ کہ طائر کبھی نہیں آیا
Iftikhar Naseem
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Iftikhar Naseem.
Similar Moods
More moods that pair well with Iftikhar Naseem's ghazal.







