ghazalKuch Alfaaz

اس کا کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا آسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا جس گھڑی آیا پلٹ کر اک میرا بچھڑا ہوا آم سے کپڑوں ہے وہ ہے وہ تھا حقیقت پھروں بھی شہزادہ لگا ہر گھڑی تیار ہے دل جان دینے کے لیے اس کا کا نے پوچھا بھی نہیں یہ پھروں بھی آمادہ لگا کارواں ہے یا سراب زندگی ہے کیا ہے یہ ایک منزل کا نشان اک اور ہی زادہ لگا روشنی ایسی عجب تھی رنگ بھومی کی نسیم گلزار ناز ہوں گئے کردار مدغم کرشن بھی رادھا لگا

Related Ghazal

ب سے اک اسی پہ تو پوری طرح ایاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت کہ رہا ہے مجھے رایگاں تو ہاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جسے دکھائی دوں مری طرف اشارہ کرے مجھے دکھائی نہیں دے رہا روویج ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ادھر ادھر سے نمی کا رساؤ رہتا ہے سڑک سے نیچے بنایا گیا تو مکان ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی نے پوچھا کہ جاناں کون ہوں تو بھول گیا تو ابھی کسی نے بتایا تو تھا شہر خاموشاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو تجھ سے مٹاؤں گا احتیاط کے ساتھ تو ب سے نشان لگا دے ج ہاں ج ہاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے سے پوچھوں یہ رستہ درست ہے کہ غلط ج ہاں سے کوئی گزرتا نہیں و ہاں ہوں ہے وہ ہے وہ

Umair Najmi

55 likes

عقل نے اچھے اچھوں کو بہکایا تھا شکر ہے ہم پر کچھ وحشت کا سایہ تھا جاناں نے اپنی گردن اونچی ہی رکھی ورنا ہے وہ ہے وہ تو جپا لے کر آیا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب تک ا سے کے ہی رنگ ہے وہ ہے وہ رنگا ہوں ج سے نے سب سے پہلے رنگ لگایا تھا مری رائے سب سے پہلے لی جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سب سے پہلے دھوکہ کھایا تھا سب کو علم ہے پھول اور خوشبو دونوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب سے پہلے ک سے نے ہاتھ چھڑایا تھا اک لڑکی نے پھروں مجھ کو بہکایا ہے اک لڑکی نے اچھے سے سمجھایا تھا

Zubair Ali Tabish

48 likes

راستے جو بھی چمک دار نظر آتے ہیں سب تیری اوڑھنی کے تار نظر آتے ہیں کوئی پاگل ہی محبت سے نوازے گا مجھے آپ تو خیر سمجھدار نظر آتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک ہاں جاؤں کروں ک سے سے شکایت ا سے کی ہر طرف ا سے کے طرف دار نظر آتے ہیں زخم بھرنے لگے ہیں پچھلی ملاقاتوں کے پھروں ملاقات کے آثار نظر آتے ہیں ایک ہی بار نظر پڑتی ہے ان پر تابش اور پھروں حقیقت ہی لگاتار نظر آتے ہیں

Zubair Ali Tabish

39 likes

ک سے سے اظہار مدعا کیجے آپ ملتے نہیں ہیں کیا کیجے ہوں لگ پایا یہ فیصلہ اب تک آپ کیجے تو کیا کیا کیجے آپ تھے ج سے کے چارہ گر حقیقت جواں سخت بیمار ہے دعا کیجے ایک ہی فن تو ہم نے سیکھا ہے ج سے سے م لیے اسے خفا کیجے ہے تقاضا مری طبیعت کا ہر کسی کو چراغ پا کیجے ہے تو بارے یہ عالم اسباب بے سبب سیجیے لگا کیجے آج ہم کیا گلہ کریں ا سے سے گلہ تنگی قبا کیجے نطق ہیوان پر گراں ہے ابھی گفتگو کم سے کم کیا کیجے حضرت زلف غالب افشاں نام اپنا صبا صبا کیجے زندگی کا غضب معاملہ ہے ایک لمحے ہے وہ ہے وہ فیصلہ کیجے مجھ کو عادت ہے روٹھ جانے کی آپ مجھ کو منا لیا کیجے ملتے رہیے اسی تپاک کے ساتھ بے وفائی کی انتہا کیجے کوہکن کو ہے خود کشی خواہش شاہ بانو سے التجا کیجے مجھ سے کہتی تھیں حقیقت شراب آنکھیں آپ حقیقت زہر مت پیا کیجے رنگ ہر رنگ ہے وہ ہے وہ ہے داد طلب خون تھوکوں تو واہ وا کیجے

Jaun Elia

29 likes

جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں

Tehzeeb Hafi

268 likes

More from Iftikhar Naseem

ا سے دودمان بھی تو لگ جذبات پہ آب رکھو تھک گئے ہوں تو مری کندھے پہ بازو رکھو بھولنے پائے لگ ا سے دشت کی وحشت دل سے شہر کے بیچ رہو باغ ہے وہ ہے وہ آہو رکھو خشک ہوں جائے گی روتے ہوئے صحرا کی طرح کچھ بچا کر بھی تو ا سے آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو رکھو روشنی ہوں گی تو آ جائےگا رہ رو دل کا ا سے کی یادوں کے دیے طاق ہے وہ ہے وہ ہر سو رکھو یاد آوےگی عشق دل تمہاری ہی سفر ہے وہ ہے وہ ا سے کو ا سے کے رومال ہے وہ ہے وہ اک اچھی سی خوشبو رکھو اب حقیقت محبوب نہیں اپنا م گر دوست تو ہے ا سے سے یہ ایک تعلق ہی بحر سو رکھو

Iftikhar Naseem

0 likes

تمام عمر سفر کا ثمر ملےگا مجھے پ سے افق ہی کہی اب تو گھر ملےگا مجھے یہ ک سے لیے ہے وہ ہے وہ خلا در خلا اطراف ہوں حقیقت کون ہے جو میرا چاند پر ملےگا مجھے ملا لگ ج سے کے لیے گھر کا نرم گرم سکون یہیں کہی حقیقت سر رہگزر ملےگا مجھے عذاب یہ ہے کہ تنہا کٹےگی عمر تمام سفر کے بعد کوئی ہم سفر ملےگا مجھے کہی دکھائی لگ دے کاش چھوڑنے والا کہونگا کیا ہے وہ ہے وہ اسے اب ا گر ملےگا مجھے

Iftikhar Naseem

0 likes

خود کو ہجوم دہر ہے وہ ہے وہ کھونا پڑا مجھے چنو تھے لوگ ویسا ہی ہونا پڑا مجھے دشمن کو مرتے دیکھ کے لوگوں کے سامنے دل ہن سے رہا تھا آنکھ سے رونا پڑا مجھے کچھ ا سے دودمان تھے پھول ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر کھلے ہوئے تاروں کو آسمان ہے وہ ہے وہ بنا پڑا مجھے ایسی شکست تھی کہ کٹی انگلیوں کے ساتھ کانٹوں کا ایک ہار پروونا پڑا مجھے کاری نہیں تھا وار م گر ایک عمر تک آب نمک سے زخم کو دھونا پڑا مجھے آساں نہیں ہے لکھنا غم دل کی واردات اپنا لہو ہے وہ ہے وہ ڈبونا پڑا مجھے اتنی طویل و سرد شب ہجر تھی نسیم گلزار ناز کتنی ہی بار جاگنا سونا پڑا مجھے

Iftikhar Naseem

0 likes

اپنا سارا بوجھ ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر پھینک دیا تجھ کو خط لکھا اور لکھ کر پھینک دیا خود کو ساکن دیکھا ٹھہرے پانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانے کیا کچھ سوچ کے پتھر پھینک دیا دیواریں کیوں خالی خالی لگتی ہیں ک سے نے سب کچھ گھر سے باہر پھینک دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو اپنا جسم سخانے نکلا تھا بارش نے پھروں مجھ پہ سمندر پھینک دیا حقیقت کیسا تھا ا سے کو ک ہاں پر دیکھا تھا اپنی آنکھوں نے ہر منظر پھینک دیا

Iftikhar Naseem

1 likes

لگے گا اجنبی اب کیوں لگ شہر بھر مجھ کو بچا گیا تو ہے نظر تو بھی دیکھ کر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھوم پھروں کے اسی سمت آ نکلتا ہوں جکڑ رہی ہے تری گھر کی رہگزر مجھ کو جھل سے رہا ہے بدن زیر سایہ دیوار بلا رہا ہے کوئی دشت بے شجر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ سنگ دل ہوں تجھے بھولتا ہی جاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہن سے رہا ہوں تو مل کے ادا سے کر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہی ر ہوں گا تجھے کنارے سے تو ڈھونڈتا ہی رہے گا بھنور بھنور مجھ کو بنی ہیں تند ہواؤں کی زرد دیواریں ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا ہے م گر شعلہ سفر مجھ کو بنا دیا ہے نڈر ض گرا خواہشوں نے نسیم گلزار ناز خود اعتماد لگ تھا اپنے آپ پر مجھ کو

Iftikhar Naseem

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Iftikhar Naseem.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Iftikhar Naseem's ghazal.