ghazalKuch Alfaaz

لگ ہوگا فرش پا انداز ماندگی سے ذوق کم میرا حباب موجہ رفتار ہے نقش قدم میرا محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے کہ موج بو گل سے ناک ہے وہ ہے وہ آتا ہے دم میرا رہ خوابیدہ تھی گردن کش یک در سے آگاہی ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو سیلی استاد ہے نقش قدم میرا سراغ آوارہ عرض دو عالم شور محشر ہوں پر افشاں ہے غمدیدہ آں سو صحرا عدم میرا ہوا صبح یک عالم گریباں چاکی گل ہے پہنچتی پیدا کر ا گر تقاضا ہے غم میرا لگ ہوں وحشت کش در سے سراب سطر آگاہی ہے وہ ہے وہ ہے وہ گرد راہ ہوں بے مدعا ہے پیچ و خم میرا سرسری وحشت پرست گوشہ تنہائی دل ہے ب رنگ موج مے خمیازہ ساغر ہے رم میرا

Related Ghazal

کوئی حسین تو کوئی دردناک سمجھےگا میرا مزاج وہی ٹھیک ٹھاک سمجھےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے ساتھ کئی راتوں سے ہوں ا سے کا نام بتا تو دوں گا م گر تو مزاق سمجھےگا حقیقت ج سے حساب سے گاتا ہے ا سے سے لگتا ہے کہ مری دکھ کو تو ب سے لڑکھڑاتے پراک سمجھےگا

Kushal Dauneria

36 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

ک سے طرح ہوگا فقیروں کا گزارا اپائے ا سے سے کہنا کہ حقیقت اک بار دوبارہ اپائے کیسے ممکن ہے اسے اور کوئی کام لگ ہوں کیسے ممکن ہے کہ حقیقت صرف ہمارا اپائے تری افلاک پہ جائے تو ستارہ چمکے مری افلاک پہ آئی تو ستارہ اپائے ٹوٹے پتوار کی کشتی کا مقدر کیا ہے یہ تو دریا ہی بتائے یا کنارہ اپائے ایسا موقع ہوں کہ ب سے ایک ہی بچ سکتا ہوں اور ا سے سمے بھی ایک بے وجہ تمہارا اپائے

Zahid Bashir

40 likes

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے

Jaun Elia

88 likes

یہ پیار تیری بھول ہے قبول ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سنگ ہوں تو پھول ہے قبول ہے دغا بھی دوں گا پیار ہے وہ ہے وہ کبھی کبھی کہ یہ میرا اصول ہے قبول ہے تجھے ج ہاں عزیز ہے تو چھوڑ جا مجھے یہ اجازت فضول ہے قبول ہے تو روٹھے گی تو ہے وہ ہے وہ مناؤںگا نہیں جو رول ہے حقیقت رول ہے قبول ہے لپٹ اے شاخے گل م گر یہ سوچ کر میرا بدن ببول ہے قبول ہے یہی ہے گر تری رضا تو بول پھروں قبول ہے قبول ہے قبول ہے

Varun Anand

42 likes

More from Mirza Ghalib

رون گرا ہوئی ہے کوکب شہریار کی اتراے کیوں لگ خاک سر رہ گزاری کی جب ا سے کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہ لوگوں ہے وہ ہے وہ کیوں نمود لگ ہوں لالہ زار کی بھوکے نہیں ہیں سیر گلستاں کے ہم ولے کیونکر لگ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی

Mirza Ghalib

0 likes

महरम नहीं है तू ही नवा-हा-ए-राज़ का याँ वर्ना जो हिजाब है पर्दा है साज़ का रंग-ए-शिकस्ता सुब्ह-ए-बहार-ए-नज़ारा है ये वक़्त है शगुफ़्तन-ए-गुल-हा-ए-नाज़ का तू और सू-ए-ग़ैर नज़र-हा-ए-तेज़ तेज़ मैं और दुख तिरी मिज़ा-हा-ए-दराज़ का सर्फ़ा है ज़ब्त-ए-आह में मेरा वगर्ना में तोमा हूँ एक ही नफ़स-ए-जाँ-गुदाज़ का हैं बस-कि जोश-ए-बादास शीशे उछल रहे हर गोशा-ए-बिसात है सर शीशा-बाज़ का काविश का दिल करे है तक़ाज़ा कि है हुनूज़ नाख़ुन पे क़र्ज़ इस गिरह-ए-नीम-बाज़ का ताराज-ए-काविश-ए-ग़म-ए-हिज्राँ हुआ 'असद' सीना कि था दफ़ीना गुहर-हा-ए-राज़ का

Mirza Ghalib

2 likes

حریف زار مشکل نہیں فسوں نیاز دعا قبول ہوں یا رب کہ خیرو دراز لگ ہوں بہرزا بیابان نورد وہم وجود ہنوز تری تصور ہے وہ ہے وہ ہے نشیب و فراز وصال جلوہ تماشا ہے پر دماغ ک ہاں کہ دیجئے آئی لگ انتظار کو پرداز ہر ایک ذرہ عاشق ہے آفتاب پرست گئی لگ خاک ہوئے پر ہوا جلوہ ناز لگ پوچھ وسعت مے خا لگ جنوں تاکتے ج ہاں یہ کاسہ گردوں ہے ایک خاک انداز فریب صنعت ایجاد کا تماشا دیکھ نگاہ عک سے فروش و خیال آئی لگ ساز زی ب سے کہ جلوہ صیاد حیرت آرا ہے اڑی ہے صفحہ خاطر سے صورت پرواز ہجوم فکر سے دل مثل موج لرزے ہے کہ شیشہ چھوؤں گا و صہبا آبگین گداز سرسری سے ترک وفا کا گماں حقیقت معنی ہے کہ کھینچیے پر طائر سے صورت پرواز ہنوز اے اثر دید ننگ رسوائی نگاہ فت لگ خرام و در دو عالم باز

Mirza Ghalib

0 likes

दिल मिरा सोज़-ए-निहाँ से बे-मुहाबा जल गया आतिश-ए-ख़ामोश की मानिंद गोया जल गया दिल में ज़ौक़-ए-वस्ल ओ याद-ए-यार तक बाक़ी नहीं आग इस घर में लगी ऐसी कि जो था जल गया मैं अदम से भी परे हूँ वर्ना ग़ाफ़िल बार-हा मेरी आह-ए-आतिशीं से बाल-ए-अन्क़ा जल गया अर्ज़ कीजे जौहर-ए-अंदेशा की गर्मी कहाँ कुछ ख़याल आया था वहशत का कि सहरा जल गया दिल नहीं तुझ को दिखाता वर्ना दाग़ों की बहार इस चराग़ाँ का करूँँ क्या कार-फ़रमा जल गया मैं हूँ और अफ़्सुर्दगी की आरज़ू 'ग़ालिब' कि दिल देख कर तर्ज़-ए-तपाक-ए-अहल-ए-दुनिया जल गया ख़ानमान-ए-आशिक़ाँ दुकान-ए-आतिश-बाज़ है शो'ला-रू जब हो गए गर्म-ए-तमाशा जल गया ता कुजा अफ़सोस-ए-गरमी-हा-ए-सोहबत ऐ ख़याल दिल बा-सोज़-ए-आतिश-ए-दाग़-ए-तमन्ना जल गया है 'असद' बेगाना-ए-अफ़्सुर्दगी ऐ बेकसी दिल ज़-अंदाज़-ए-तपाक-ए-अहल-ए-दुनिया जल गया दूद मेरा सुंबुलिस्ताँ से करे है हम-सरी बस-कि शौक़-ए-आतिश-गुल से सरापा जल गया शम्अ-रूयाँ की सर-अंगुश्त-ए-हिनाई देख कर ग़ुंचा-ए-गुल पर-फ़िशाँ परवाना-आसा जल गया

Mirza Ghalib

0 likes

ہم سے کھل جاؤ بوقت مے پرستی ایک دن ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عذر مستی ایک دن غرہ اوج بنا نہ عالم نہ امکان نہ ہو اس کا کا بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں رنگ لاوےگی ہماری فاقہ مستی ایک دن نغمہ ہا غم کو بھی اے دل غنیمت جانیے بے صدا ہو جائےگا یہ ساز ہستی ایک دن دھول دھپا اس کا سراپا ناز کا شیوہ نہیں ہم ہی کر بیٹھے تھے غالب پیش دستی ایک دن

Mirza Ghalib

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Mirza Ghalib.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Mirza Ghalib's ghazal.