न हुई गर मिरे मरने से तसल्ली न सही इम्तिहाँ और भी बाक़ी हो तो ये भी न सही ख़ार ख़ार-ए-अलम-ए-हसरत-ए-दीदार तो है शौक़ गुल-चीन-ए-गुलिस्तान-ए-तसल्ली न सही मय-परस्ताँ ख़ुम-ए-मय मुँह से लगाए ही बने एक दिन गर न हुआ बज़्म में साक़ी न सही नफ़स-ए-क़ैस कि है चश्म-ओ-चराग़-ए-सहरा गर नहीं शम-ए-सियह-ख़ाना-ए-लैली न सही एक हंगा में पे मौक़ूफ़ है घर की रौनक़ नौहा-ए-ग़म ही सही नग़्मा-ए-शादी न सही न सताइश की तमन्ना न सिले की पर्वा गर नहीं हैं मिरे अश'आर में मा'नी न सही इशरत-ए-सोहबत-ए-ख़ूबाँ ही ग़नीमत समझो न हुई 'ग़ालिब' अगर उम्र-ए-तबीई न सही
Related Ghazal
عمر گزرےگی امتحاں ہے وہ ہے وہ کیا داغ ہی دیں گے مجھ کو دان ہے وہ ہے وہ کیا مری ہر بات نبھے گی ہی رہی نقص ہے کچھ مری نقص ہے وہ ہے وہ کیا مجھ کو تو کوئی ٹوکنا بھی نہیں یہی ہوتا ہے خاندان ہے وہ ہے وہ کیا اپنی محرو میاں چھپاتے ہیں ہم غریبوں کی آن بان ہے وہ ہے وہ کیا خود کو جانا جدا زمانے سے آ گیا تو تھا مری گمان ہے وہ ہے وہ کیا شام ہی سے دکان دید ہے بند نہیں نقصان تک دکان ہے وہ ہے وہ کیا اے مری صبح و شام دل کی شفق تو نہاتی ہے اب بھی بان ہے وہ ہے وہ کیا بولتے کیوں نہیں مری حق ہے وہ ہے وہ ہے وہ آبلے پڑ گئے زبان ہے وہ ہے وہ کیا خموشی کہ رہی ہے کان ہے وہ ہے وہ کیا آ رہا ہے مری گمان ہے وہ ہے وہ کیا دل کہ آتے ہیں ج سے کو دھیان بے حد خود بھی آتا ہے اپنے دھیان ہے وہ ہے وہ کیا حقیقت ملے تو یہ پوچھنا ہے مجھے اب بھی ہوں ہے وہ ہے وہ تری امان ہے وہ ہے وہ کیا یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو کوئی رہتا ہے آسمان ہے وہ ہے وہ کیا ہے نسیم بہار گرد آلود خاک اڑتی ہے ا سے مکان ہے وہ ہے وہ کیا
Jaun Elia
61 likes
بلاتی ہے م گر جانے کا نہیں یہ دنیا ہے ادھر جانے کا نہیں مری بیٹے کسی سے عشق کر م گر حد سے گزر جانے کا نہیں ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی سر پہ رکھنی ہوں تو رکھو چلے ہوں تو ٹھہر جانے کا نہیں ستارے تم تم نوچ کر لے ن غموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خالی ہاتھ گھر جانے کا نہیں وبا پھیلی ہوئی ہے ہر طرف ابھی ماحول مر جانے کا نہیں حقیقت گردن ناپتا ہے ناپ لے م گر ظالم سے ڈر جانے کا نہیں
Rahat Indori
59 likes
किस तरफ़ को चलती है अब हवा नहीं मालूम हाथ उठा लिए सबने और दुआ नहीं मालूम मौसमों के चेहरों से ज़र्दियाँ नहीं जाती फूल क्यूँँ नहीं लगते ख़ुश-नुमा नहीं मालूम रहबरों के तेवर भी रहज़नों से लगते हैं कब कहाँ पे लुट जाए क़ाफ़िला नहीं मालूम सर्व तो गई रुत में क़ामतें गँवा बैठे क़ुमरियाँ हुईं कैसे बे-सदा नहीं मालूम आज सब को दावा है अपनी अपनी चाहत का कौन किस से होता है कल जुदा नहीं मालूम मंज़रों की तब्दीली बस नज़र में रहती है हम भी होते जाते हैं क्या से क्या नहीं मालूम हम 'फ़राज़' शे'रों से दिल के ज़ख़्म भरते हैं क्या करें मसीहा को जब दवा नहीं मालूम
Ahmad Faraz
46 likes
کیا کروگے میرا جادو چل گیا تو تو ہفتے بھر ہے وہ ہے وہ ا سے کو پاگل کر دیا تو بولنا اگلی دفع تلوار اٹھےگی غلطی سے بھی ا سے کے اوپر ہاتھ اٹھا تو بد دعائیں مرنے کی دے تو رہی ہوں اور کہی ہے وہ ہے وہ سچ ہے وہ ہے وہ ا سے سے مر گیا تو تو جی مجھے در اصل اچھے لگتے ہوں آپ ا سے نے مری بات سن کر کے کہا تو
Kushal Dauneria
29 likes
یہ سوچ کر میرا صحرا ہے وہ ہے وہ جی نہیں لگتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ شامل صفے آوارگی نہیں لگتا کبھی کبھی حقیقت خدا بن کے ساتھ چلتا ہے کبھی کبھی تو حقیقت انسان بھی نہیں لگتا یقین کیوں نہیں آتا تجھے مری دل پر یہ پھل ک ہاں سے تجھے موسمی نہیں لگتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں حقیقت مری جبیں پہ بوسہ دے م گر جلی ہوئی روٹی کو گھی نہیں لگتا تری خیال سے آگے بھی ایک دنیا ہے تیرا خیال مجھے بچھڑنا نہیں لگتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے پا سے کسی کام سے نہیں آتا اسے یہ کام کوئی کام ہی نہیں لگتا
Tehzeeb Hafi
66 likes
More from Mirza Ghalib
رون گرا ہوئی ہے کوکب شہریار کی اتراے کیوں لگ خاک سر رہ گزاری کی جب ا سے کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہ لوگوں ہے وہ ہے وہ کیوں نمود لگ ہوں لالہ زار کی بھوکے نہیں ہیں سیر گلستاں کے ہم ولے کیونکر لگ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی
Mirza Ghalib
0 likes
महरम नहीं है तू ही नवा-हा-ए-राज़ का याँ वर्ना जो हिजाब है पर्दा है साज़ का रंग-ए-शिकस्ता सुब्ह-ए-बहार-ए-नज़ारा है ये वक़्त है शगुफ़्तन-ए-गुल-हा-ए-नाज़ का तू और सू-ए-ग़ैर नज़र-हा-ए-तेज़ तेज़ मैं और दुख तिरी मिज़ा-हा-ए-दराज़ का सर्फ़ा है ज़ब्त-ए-आह में मेरा वगर्ना में तोमा हूँ एक ही नफ़स-ए-जाँ-गुदाज़ का हैं बस-कि जोश-ए-बादास शीशे उछल रहे हर गोशा-ए-बिसात है सर शीशा-बाज़ का काविश का दिल करे है तक़ाज़ा कि है हुनूज़ नाख़ुन पे क़र्ज़ इस गिरह-ए-नीम-बाज़ का ताराज-ए-काविश-ए-ग़म-ए-हिज्राँ हुआ 'असद' सीना कि था दफ़ीना गुहर-हा-ए-राज़ का
Mirza Ghalib
2 likes
پوچھوں قی سے اور کوئی لگ آیا بروئے کار صحرا م گر ب تنگی چشم حسود تھا آشفتگی نے نقش سویدا کیا درست ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا تھا خواب ہے وہ ہے وہ خیال کو تجھ سے معاملہ جب آنکھ کھل گئی لگ زیاں تھا لگ سود تھا لیتا ہوں مکتب غم دل ہے وہ ہے وہ سبق ہنوز لیکن یہی کہ چڑھانا گیا تو اور بود تھا ڈھانپا کفن نے داغ عیوب برہنگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ور لگ ہر لبا سے ہے وہ ہے وہ ننگ وجود تھا تیشے بغیر مر لگ سکا کوہکن سرسری سرگشتہ خمار رسوم و قیود تھا عالم ج ہاں ب عرض بسات وجود تھا جوں صبح چاک جیب مجھے نور سواد لگ حجاب لگ قلب تھا بازی خور فریب ہے اہل نظر کا ذوق ہنگامہ گرم حیرت بود و نبود تھا عالم طلسم شہر خموشی ہے سر بسر یا ہے وہ ہے وہ غریب کشور گفت و شنود تھا تنگی رفیق رہ تھی عدم یا وجود تھا میرا سفر ب طلا چشم حسود تھا تو یک ج ہاں قماش ہوں سے جمع کر کہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حیرت متاع عالم نقصان و سود تھا گردش محیط ظلم رہا ج سے دودمان فلک ہے وہ ہے وہ ہے وہ پامال غمزہ چشم کبود تھا پوچھا
Mirza Ghalib
0 likes
کہتے ہوں لگ دیں گے ہم دل ا گر پڑا پایا دل ک ہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا عشق سے طبیعت نے آب و زیست کا مزہ پایا درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا دوست دار دشمن ہے اعتماد دل معلوم آہ نبھے گی دیکھی نالہ نارساء پایا سادگی و پرکاری بے خو گرا و ہوشیاری حسن کو ت غافل ہے وہ ہے وہ جرأت آزما پایا غنچہ پھروں لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا حال دل نہیں معلوم لیکن ا سے دودمان زبان ہم نے بارہا ڈھونڈا جاناں نے بارہا پایا شور پند ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا آپ سے کوئی پوچھے جاناں نے کیا مزہ پایا ہے ک ہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب ہم نے دشت امکان کو ایک نقش پا پایا بے دماغ خجلت ہوں رشک امتحاں تا کہ ایک بےکسی تجھ کو عالم آشنا پایا خاک بازی امید کارخا لگ طفلی یا سے کو دو عالم سے لب خندہ وا پایا کیوں لگ وحشت غالب باج خواہ تسکین ہوں کشتہ ت غافل کو خصم خون بہا پایا فکر نالہ ہے وہ ہے وہ گویا حلقہ ہوں ز سر تا پا عضو عضو جوں زنجیر یک دل صدا پایا شب نظارہ پرور تھا خواب ہے وہ ہ
Mirza Ghalib
1 likes
حقیقت فراق اور حقیقت وصال ک ہاں حقیقت شب و روز و ماہ و سال ک ہاں فرصت کاروبار شوق کسے ذوق نظارہ جمال ک ہاں دل تو دل حقیقت دماغ بھی لگ رہا شور سودا خط و خال ک ہاں تھی حقیقت اک بے وجہ کے تصور سے اب حقیقت رعنائی خیال ک ہاں ایسا آساں نہیں لہو رونا دل ہے وہ ہے وہ طاقت ج گر ہے وہ ہے وہ حال ک ہاں ہم سے چھوٹا قمار خا لگ عشقواں جو جاویں گرہ ہے وہ ہے وہ مال ک ہاں فکر دنیا ہے وہ ہے وہ سر خپاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک ہاں اور یہ وبال ک ہاں ٹھہرنے ہوں گئے قوا تاکتے حقیقت عناصر ہے وہ ہے وہ اعتدال ک ہاں بوسے ہے وہ ہے وہ حقیقت مزائقہ لگ کرے پر مجھے طاقت سوال ک ہاں فلک سفلا بے مھابا ہے ا سے ستم گر کو انفعال ک ہاں
Mirza Ghalib
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mirza Ghalib.
Similar Moods
More moods that pair well with Mirza Ghalib's ghazal.







