عمر گزرےگی امتحاں ہے وہ ہے وہ کیا داغ ہی دیں گے مجھ کو دان ہے وہ ہے وہ کیا مری ہر بات نبھے گی ہی رہی نقص ہے کچھ مری نقص ہے وہ ہے وہ کیا مجھ کو تو کوئی ٹوکنا بھی نہیں یہی ہوتا ہے خاندان ہے وہ ہے وہ کیا اپنی محرو میاں چھپاتے ہیں ہم غریبوں کی آن بان ہے وہ ہے وہ کیا خود کو جانا جدا زمانے سے آ گیا تو تھا مری گمان ہے وہ ہے وہ کیا شام ہی سے دکان دید ہے بند نہیں نقصان تک دکان ہے وہ ہے وہ کیا اے مری صبح و شام دل کی شفق تو نہاتی ہے اب بھی بان ہے وہ ہے وہ کیا بولتے کیوں نہیں مری حق ہے وہ ہے وہ ہے وہ آبلے پڑ گئے زبان ہے وہ ہے وہ کیا خموشی کہ رہی ہے کان ہے وہ ہے وہ کیا آ رہا ہے مری گمان ہے وہ ہے وہ کیا دل کہ آتے ہیں ج سے کو دھیان بے حد خود بھی آتا ہے اپنے دھیان ہے وہ ہے وہ کیا حقیقت ملے تو یہ پوچھنا ہے مجھے اب بھی ہوں ہے وہ ہے وہ تری امان ہے وہ ہے وہ کیا یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو کوئی رہتا ہے آسمان ہے وہ ہے وہ کیا ہے نسیم بہار گرد آلود خاک اڑتی ہے ا سے مکان ہے وہ ہے وہ کیا
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
More from Jaun Elia
کوئی حالت نہیں یہ حالت ہے یہ تو آشوب ناک صورت ہے صورت آشنا ہے وہ ہے وہ یہ مری خموشی بردباری نہیں ہے وحشت ہے تجھ سے یہ گاہ گاہ کا شکوہ جب تلک ہے بسا غنیمت ہے خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیں یہ اذیت بڑی اذیت ہے لوگ مصروف جانتے ہیں مجھے یاں میرا غم ہی مری فرصت ہے طنز پیرایہ تبسم ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے تکلف کی کیا ضرورت ہے ہم نے دیکھا تو ہم نے یہ دیکھا جو نہیں ہے حقیقت خوبصورت ہے وار کرنے کو چشم بد بین آئیں یہ تو ایثار ہے عنایت ہے گرم جوشی اور ا سے دودمان کیا بات کیا تمہیں مجھ سے کچھ شکایت ہے اب نکل آؤ اپنے اندر سے گھر ہے وہ ہے وہ سامان کی ضرورت ہے آج کا دن بھی عیش سے گزرا سر سے پا تک بدن سلامت ہے
Jaun Elia
14 likes
کوئی دم بھی ہے وہ ہے وہ کب اندر رہا ہوں لیے ہیں سان سے اور باہر رہا ہوں دھوئیں ہے وہ ہے وہ سان سے ہیں سانسوں ہے وہ ہے وہ پل ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ روشن دان تک ب سے مر رہا ہوں فنا ہر دم مجھے گنتی رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک دم کا تھا اور دن بھر رہا ہوں ذرا اک سان سے روکا تو لگا یوں کہ اتنی دیر اپنے گھر رہا ہوں بجز اپنے میسر ہے مجھے کیا سو خود سے اپنی جیبیں بھر رہا ہوں ہمیشہ زخم پہنچے ہیں مجھہی کو ہمیشہ ہے وہ ہے وہ پ سے لشکر رہا ہوں لٹا دے نیند کے بستر پہ اے رات ہے وہ ہے وہ ہے وہ دن بھر اپنی پلکوں پر رہا ہوں
Jaun Elia
19 likes
اپنی منزل کا راستہ بھیجو جان ہم کو و ہاں بلا بھیجو کیا ہمارا نہیں رہا ساون زلف یاں بھی کوئی گھٹا بھیجو نئی مصروف جو اب کھیلی ہیں و ہاں ان کی خوشبو کو اک ذرا بھیجو ہم لگ جیتے ہیں اور لگ مرتے ہیں درد بھیجو لگ جاناں دوا بھیجو دھول اڑتی ہے جو ا سے آنگن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو بھیجو صبا صبا بھیجو اے فقیرو گلی کے ا سے گل کی جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی خاک پا بھیجو شفقت شام ہجر کے ہاتھوں اپنی اتری ہوئی قباء بھیجو کچھ تو رشتہ ہے جاناں سے کم بختوں کچھ نہیں کوئی بد دعا بھیجو
Jaun Elia
13 likes
घर से हम घर तलक गए होंगे अपने ही आप तक गए होंगे हम जो अब आदमी हैं पहले कभी जाम होंगे छलक गए होंगे वो भी अब हम से थक गया होगा हम भी अब उस से थक गए होंगे शब जो हम से हुआ मुआ'फ़ करो नहीं पी थी बहक गए होंगे कितने ही लोग हिर्स-ए-शोहरत में दार पर ख़ुद लटक गए होंगे शुक्र है इस निगाह-ए-कम का मियाँ पहले ही हम खटक गए होंगे हम तो अपनी तलाश में अक्सर अज़ समा-ता-समक गए होंगे उस का लश्कर जहां-त हाँ या'नी हम भी बस बे-कुमक गए होंगे 'जौन' अल्लाह और ये आलम बीच में हम अटक गए होंगे
Jaun Elia
20 likes
بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں کہ ان کے خط ا نہیں لوٹا رہے ہیں نہیں سمجھاتے پر حقیقت رازی خوشگوار ہے کہ ہم سمجھا رہے ہیں یقین کا راستہ طے کرنے والے بے حد تیزی سے واپ سے آ رہے ہیں یہ مت بھولو کہ یہ لمحات ہم کو چیزیں کے لیے ملوا رہے ہیں ت غضب ہے کہ عشق و کرنے والے سے ابھی کچھ لوگ دھوکہ کھا رہے ہیں تمہیں چاہیں گے جب چھن جاوگی جاناں ابھی ہم جاناں کو ارزاں پا رہے ہیں کسی صورت ا نہیں خوبصورت ہوں ہم سے ہم اپنے عیب خود گنوا رہے ہیں حقیقت پاگل مست ہے اپنی وفا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو آ رہے ہیں دلیلوں سے اسے قائل کیا تھا دلیلیں دے کے اب پچھتا رہے ہیں تری بان ہوں سے ہجرت کرنے والے نئے ماحول ہے وہ ہے وہ نزدیک تر رہے ہیں یہ جذب عشق ہے یا جذبہ رحم تری آنسو مجھے رلوہ رہے ہیں غضب کچھ ربط ہے جاناں سے کہ جاناں کو ہم اپنا جان کر ٹھکرا رہے ہیں وفا کی یادگاریں تک لگ ہوںگی مری جاں ب سے کوئی دن جا رہے ہیں
Jaun Elia
27 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Jaun Elia.
Similar Moods
More moods that pair well with Jaun Elia's ghazal.







