ghazalKuch Alfaaz

nadi ka aab diya hai to kuchh bahav bhi de miri ghhazal ko naya-pan bhi de rachav bhi de chala ke sard hava mujh ko munjamid bhi kar pighal ke phailna chahun to ik alaav bhi de ki jis ke dard ka ehsas tere jaisa ho kabhi kabhi miri fitrat ko aisa ghaav bhi de azab-e-sail-e-musalsal jo de raha hai mujhe to sath-e-ab pe chalne ko ek naav bhi de musafirat ke kai marhale tamam hue ki meri khana-badoshi ko ab padav bhi de nadi ka aab diya hai to kuchh bahaw bhi de meri ghazal ko naya-pan bhi de rachaw bhi de chala ke sard hawa mujh ko munjamid bhi kar pighal ke phailna chahun to ek alaw bhi de ki jis ke dard ka ehsas tere jaisa ho kabhi kabhi meri fitrat ko aisa ghaw bhi de azab-e-sail-e-musalsal jo de raha hai mujhe to sath-e-ab pe chalne ko ek naw bhi de musafirat ke kai marhale tamam hue ki meri khana-badoshi ko ab padaw bhi de

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

More from Shakeel Azmi

عجیب منظر ہے بارشوں کا مکان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہے فلک ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی حدود ہے وہ ہے وہ ہے نشان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہے تمام فصلیں اجڑ چکی ہیں لگ حل بچا ہے لگ فصلوں باقی کسان گروی رکھا ہوا ہے لگان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہے عذاب اترا تو پاؤں سب کے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی سطحوں سے آ لگے ہیں ہوا کے گھر ہے وہ ہے وہ نہیں ہے کوئی مچان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہے کوئی کسی کو نہیں بچاتا سب اپنی خاطر ہی تیرتے ہیں یہ دن خوشگوار کا دن ہوں چنو جہان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا ہے ادا سے آنکھوں کے بادلوں نے دلوں کے گرد و غبار دھوئے یقین پتھر بنا کھڑا ہے گمان پانی ہے وہ ہے وہ بہ رہا

Shakeel Azmi

4 likes

अकेले रहने की ख़ुद ही सज़ा क़ुबूल की है ये हम ने इश्क़ किया है या कोई भूल की है ख़याल आया है अब रास्ता बदल लेंगे अभी तलक तो बहुत ज़िंदगी फ़ुज़ूल की है ख़ुदा करे कि ये पौदा ज़मीं का हो जाए कि आरज़ू मिरे आँगन को एक फूल की है न जाने कौन सा लम्हा मिरे क़रार का है न जाने कौन सी साअ'त तिरे हुसूल की है न जाने कौन सा चेहरा मिरी किताब का है न जाने कौन सी सूरत तिरे नुज़ूल की है जिन्हें ख़याल हो आँखों का लौट जाएँ वो अब इस के बा'द हुकूमत सफ़र में धूल की है ये शोहरतें हमें यूँँही नहीं मिली हैं 'शकील' ग़ज़ल ने हम से भी बहुत वसूल की है

Shakeel Azmi

18 likes

مجھ پہ ہیں سیکڑوں الزام مری ساتھ نہ چل تو بھی ہو جائےگا بدنام مری ساتھ نہ چل تو نئی صبح کے سورج کی ہے اجلی سی کرن میں ہوں اک دھول بھری شام مری ساتھ نہ چل اپنی خوشیاں مری آلام سے بادہ آشامی نہ کر مجھ سے مت مانگ میرا نام مری ساتھ نہ چل تو بھی کھو جائے گی ٹپکے ہوئے آنسو کی طرح دیکھ اے گردش ایام مری ساتھ نہ چل میری دیوار کو تو کتنا سنبھالےگا شکیل ٹوٹتا رہتا ہوں ہر گام مری ساتھ نہ چل

Shakeel Azmi

26 likes

ہے وہ ہے وہ بھی جاناں جیسا ہوں اپنے سے جدا مت سمجھو آدمی ہی مجھے رہنے دو خدا مت سمجھو یہ جو ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ رہتا نہیں جاناں سے مل کر یہ میرا عشق ہے جاناں اس کا کو نشہ مت سمجھو را سے آتا نہیں سب کو یہ محبت کا مرض مری بیماری کو جاناں اپنی دوا مت سمجھو

Shakeel Azmi

51 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Shakeel Azmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Shakeel Azmi's ghazal.