ghazalKuch Alfaaz

نہیں تھا دھیان کوئی توڑتے ہوئے سگریٹ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ کو بھول گیا تو چھوڑتے ہوئے سگریٹ سو یوں ہوا کہ پریشانیوں ہے وہ ہے وہ پینے لگے غم حیات سے منا موڑتے ہوئے سگریٹ مشابہ کتنے ہیں ہم سوختہ جبینوں سے کسی ستون سے سر پھوڑتے ہوئے سگریٹ کل اک ملنگ کو کوڑے کے ڈھیر پر لا کر نشے نے توڑ دیا جوڑتے ہوئے سگریٹ ہمارے سان سے بھی لے کر لگ بچ سکے افضل یہ خاک دان ہے وہ ہے وہ دم توڑتے ہوئے سگریٹ

Afzal Khan0 Likes

Related Ghazal

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

More from Afzal Khan

مجھے رونا نہیں آواز بھی بھاری نہیں کرنی محبت کی کہانی ہے وہ ہے وہ اداکاری نہیں کرنی ہوا کے خوف سے لپٹا ہوا ہوں خشک ٹہنی سے کہی جانا نہیں جانے کی تیاری نہیں کرنی تحمل اے محبت ہجر پتھریلا علاقہ ہے تجھے ا سے راستے پر تیز رفتاری نہیں کرنی ہمارا دل ذرا اکتا گیا تو تھا گھر ہے وہ ہے وہ رہ رہ کر یوںہی بازار آئی ہیں خریداری نہیں کرنی غزل کو کم نگا ہوں کی پہنچ سے دور رکھتا ہوں مجھے بنجر دماغوں ہے وہ ہے وہ شجر کاری نہیں کرنی وصیت کی تھی مجھ کو قی سے نے صحرا کے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ میرا گھر ہے ا سے کی چار دیواری نہیں کرنی

Afzal Khan

0 likes

تبھی تو ہے وہ ہے وہ محبت کا حوالاتی نہیں ہوتا ی ہاں اپنے سوا کوئی ملاقاتی نہیں ہوتا گرفتار وفا رونے کا کوئی ایک موسم رکھ جو نالہ روز بہ نکلے حقیقت برساتی نہیں ہوتا چیزیں کا ارادہ ہے تو مجھ سے مشورہ کر لو محبت ہے وہ ہے وہ کوئی بھی فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا تمہیں دل ہے وہ ہے وہ جگہ دی تھی نظر سے دور کیا کرتے جو مرکز ہے وہ ہے وہ ٹھہر جائے مضافاتی نہیں ہوتا

Afzal Khan

0 likes

تبھی تو ہے وہ ہے وہ محبت کا حوالاتی نہیں ہوتا ی ہاں اپنے سوا کوئی ملاقاتی نہیں ہوتا گرفتار وفا رونے کا کوئی ایک موسم رکھ جو نالہ روز بہ نکلے حقیقت برساتی نہیں ہوتا چیزیں کا ارادہ ہے تو مجھ سے مشورہ کر لو محبت ہے وہ ہے وہ کوئی بھی فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا تمہیں دل ہے وہ ہے وہ جگہ دی تھی نظر سے دور کیا کرتے جو مرکز ہے وہ ہے وہ ٹھہر جائے مضافاتی نہیں ہوتا

Afzal Khan

0 likes

شکست زندگی ویسے بھی موت ہی ہے نا تو سچ بتا یہ ملاقات آخری ہے نا کہا نہیں تھا میرا جسم اور بھر یارب سو اب یہ خاک تری پا سے بچ گئی ہے نا تو مری حال سے انجان کب ہے اے دنیا جو بات کہ نہیں پایا سمجھ رہی ہے نا اسی لیے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ احسا سے جرم ہے شاید ابھی ہماری محبت نئی نئی ہے نا یہ کور چشم اجالوں سے عشق کرتے ہیں جو گھر جلا کے بھی کہتے ہیں روشنی ہے نا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود بھی یار تجھے بھولنے کے حق ہے وہ ہے وہ ہوں م گر جو بیچ ہے وہ ہے وہ کم بخت شاعری ہے نا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جان بوجھ کے آیا تھا تیغ اور تری بیچ میاں نبھانی تو پڑتی ہے دوستی ہے نا

Afzal Khan

0 likes

آج ہی فرصت سے کل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مسئلہ حل ہوں تو حل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ وصل و ہجراں ہے وہ ہے وہ تناسب راست ہونا چاہیے عشق کے رد عمل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیکھنا سب لوگ مجھ کو خارجی ٹھہرائیں گے کل ی ہاں جنگ جمل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کشتیوں والے مجھے تاوان دے کر پار جائیں ور لگ لہروں ہے وہ ہے وہ خلل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مل ہی جائیں گے کہی تو مجھ کو بیدل حیدری کوزہ گر والی غزل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے شجر کی ایک ٹہنی پرلے آنگن ہے وہ ہے وہ بھی ہے اپنے ہم سایہ سے پھل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ

Afzal Khan

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Afzal Khan.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Afzal Khan's ghazal.