ghazalKuch Alfaaz

شکست زندگی ویسے بھی موت ہی ہے نا تو سچ بتا یہ ملاقات آخری ہے نا کہا نہیں تھا میرا جسم اور بھر یارب سو اب یہ خاک تری پا سے بچ گئی ہے نا تو مری حال سے انجان کب ہے اے دنیا جو بات کہ نہیں پایا سمجھ رہی ہے نا اسی لیے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ احسا سے جرم ہے شاید ابھی ہماری محبت نئی نئی ہے نا یہ کور چشم اجالوں سے عشق کرتے ہیں جو گھر جلا کے بھی کہتے ہیں روشنی ہے نا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود بھی یار تجھے بھولنے کے حق ہے وہ ہے وہ ہوں م گر جو بیچ ہے وہ ہے وہ کم بخت شاعری ہے نا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جان بوجھ کے آیا تھا تیغ اور تری بیچ میاں نبھانی تو پڑتی ہے دوستی ہے نا

Afzal Khan0 Likes

Related Ghazal

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے

Umair Najmi

81 likes

کوئی حسین تو کوئی دردناک سمجھےگا میرا مزاج وہی ٹھیک ٹھاک سمجھےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے ساتھ کئی راتوں سے ہوں ا سے کا نام بتا تو دوں گا م گر تو مزاق سمجھےگا حقیقت ج سے حساب سے گاتا ہے ا سے سے لگتا ہے کہ مری دکھ کو تو ب سے لڑکھڑاتے پراک سمجھےگا

Kushal Dauneria

36 likes

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

بعد ہے وہ ہے وہ مجھ سے نا کہنا گھر پلٹنا ٹھیک ہے ویسے سننے ہے وہ ہے وہ یہی آیا ہے رستہ ٹھیک ہے شاخ سے پتہ گرے بارش گردشیں بادل چھٹے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی تو سب کچھ غلط کرتا ہوں اچھا ٹھیک ہے ذہن تک تسلیم کر لیتا ہے ا سے کی برتری آنکھ تک تصدیق کر دیتی ہے بندہ ٹھیک ہے ایک تیری آواز سننے کے لیے زندہ ہے ہم تو ہی جب خاموش ہوں جائے تو پھروں کیا ٹھیک ہے

Tehzeeb Hafi

182 likes

More from Afzal Khan

مجھے رونا نہیں آواز بھی بھاری نہیں کرنی محبت کی کہانی ہے وہ ہے وہ اداکاری نہیں کرنی ہوا کے خوف سے لپٹا ہوا ہوں خشک ٹہنی سے کہی جانا نہیں جانے کی تیاری نہیں کرنی تحمل اے محبت ہجر پتھریلا علاقہ ہے تجھے ا سے راستے پر تیز رفتاری نہیں کرنی ہمارا دل ذرا اکتا گیا تو تھا گھر ہے وہ ہے وہ رہ رہ کر یوںہی بازار آئی ہیں خریداری نہیں کرنی غزل کو کم نگا ہوں کی پہنچ سے دور رکھتا ہوں مجھے بنجر دماغوں ہے وہ ہے وہ شجر کاری نہیں کرنی وصیت کی تھی مجھ کو قی سے نے صحرا کے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ میرا گھر ہے ا سے کی چار دیواری نہیں کرنی

Afzal Khan

0 likes

تبھی تو ہے وہ ہے وہ محبت کا حوالاتی نہیں ہوتا ی ہاں اپنے سوا کوئی ملاقاتی نہیں ہوتا گرفتار وفا رونے کا کوئی ایک موسم رکھ جو نالہ روز بہ نکلے حقیقت برساتی نہیں ہوتا چیزیں کا ارادہ ہے تو مجھ سے مشورہ کر لو محبت ہے وہ ہے وہ کوئی بھی فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا تمہیں دل ہے وہ ہے وہ جگہ دی تھی نظر سے دور کیا کرتے جو مرکز ہے وہ ہے وہ ٹھہر جائے مضافاتی نہیں ہوتا

Afzal Khan

0 likes

تبھی تو ہے وہ ہے وہ محبت کا حوالاتی نہیں ہوتا ی ہاں اپنے سوا کوئی ملاقاتی نہیں ہوتا گرفتار وفا رونے کا کوئی ایک موسم رکھ جو نالہ روز بہ نکلے حقیقت برساتی نہیں ہوتا چیزیں کا ارادہ ہے تو مجھ سے مشورہ کر لو محبت ہے وہ ہے وہ کوئی بھی فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا تمہیں دل ہے وہ ہے وہ جگہ دی تھی نظر سے دور کیا کرتے جو مرکز ہے وہ ہے وہ ٹھہر جائے مضافاتی نہیں ہوتا

Afzal Khan

0 likes

آج ہی فرصت سے کل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مسئلہ حل ہوں تو حل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ وصل و ہجراں ہے وہ ہے وہ تناسب راست ہونا چاہیے عشق کے رد عمل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیکھنا سب لوگ مجھ کو خارجی ٹھہرائیں گے کل ی ہاں جنگ جمل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کشتیوں والے مجھے تاوان دے کر پار جائیں ور لگ لہروں ہے وہ ہے وہ خلل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مل ہی جائیں گے کہی تو مجھ کو بیدل حیدری کوزہ گر والی غزل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے شجر کی ایک ٹہنی پرلے آنگن ہے وہ ہے وہ بھی ہے اپنے ہم سایہ سے پھل کا مسئلہ چھیڑوں گا ہے وہ ہے وہ

Afzal Khan

0 likes

وہ جو اک شخص وہاں ہے وہ یہاں کیسے ہو ہجر پر وصل کی حالت کا گماں کیسے ہو بے نمو خواب میں پیوسٹ جڑیں ہیں میری ایک گملے میں کوئی نخل جواں کیسے ہو تم تو الفاظ کے چشم مے فروش سے بھی مر جاتے تھے اب جو حالات ہیں اے اہل زبان کیسے ہو آنکھ کے پہلے کنارے پہ کھڑا آخری اشک رنج کے رحم و کرم پر ہے رواں کیسے ہو بھاو تاو میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی ہاں مگر تجھ سے خریدار کو ناں کیسے ہو ملتے رہتے ہیں مجھے آج بھی غالب کے خطوط وہی انداز تخاطب کہ میاں کیسے ہو

Afzal Khan

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Afzal Khan.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Afzal Khan's ghazal.