پائل کبھی پہنے کبھی کنگن اسے کہنا لے آئی محبت ہے وہ ہے وہ نیاپن اسے کہنا میکش کبھی آنکھوں کے بھروسے نہیں رہتے شبنم کبھی بھرتی نہیں برتن اسے کہنا گھر بار بھلا دیتی ہے دریا کی محبت کشتی ہے وہ ہے وہ گزاری آیا ہوں جیون اسے کہنا اک شب سے زیادہ نہیں دنیا کی مسری اک شب سے زیادہ نہیں دلہن اسے کہنا رہ رہ کے کچا اٹھتی ہے یہ آتش وحشت دیوانے ہے صحراؤں کا ایندھن اسے کہنا
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
اک ہنر ہے جو کر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب کے دل سے اتر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے اپنی ہنسی کو ضبط کروں سن رہا ہوں کہ گھر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا بتاؤں کہ مر نہیں پاتا جیتے جی جب سے مر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب ہے ب سے اپنا سامنا در سانحے ہر کسی سے گزر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی ناز و ادا وہی غمزے سر بسر آپ پر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ غضب الزام ہوں زمانے کا کہ ی ہاں سب کے سر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کبھی خود تک پہنچ نہیں پایا جب کہ واں عمر بھر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے جاناں ملا ہوں ج سے دن سے بے طرح خود سے ڈر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئے جاناں ہے وہ ہے وہ سوگ برپا ہے کہ اچانک سدھر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ
Jaun Elia
51 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
یہ سات آٹھ پڑوسی ک ہاں سے آئی مری تمہارے دل ہے وہ ہے وہ تو کوئی لگ تھا سوائے مری کسی نے پا سے بٹھایا ب سے آگے یاد نہیں مجھے تو دوست و ہاں سے اٹھا کے لائے مری یہ سوچ کر لگ کیے اپنے درد ا سے کے سپرد حقیقت لالچی ہے اساسے لگ بیچ کھائے مری ادھر کدھر تو نیا ہے ی ہاں کہ پاگل ہے کسی نے کیا تجھے قصے نہیں سنائے مری حقیقت آزمائے مری دوست کو ضرور م گر اسے کہو کہ طریقے لگ آزمائے مری
Umair Najmi
59 likes
More from Tehzeeb Hafi
عجیب خواب تھا ا سے کے بدن ہے وہ ہے وہ کائی تھی حقیقت اک پری جو مجھے سبز کرنے آئی تھی حقیقت اک چراغ کدا ج سے ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں تھا میرا حقیقت جل رہی تھی حقیقت قندیل بھی پرائی تھی لگ جانے کتنے پرندوں نے ا سے ہے وہ ہے وہ شراکت کی کل ایک پیڑ کی ترکیب رو نمائی تھی ہواؤں آؤ مری گاؤں کی طرف دیکھو ج ہاں یہ ریت ہے پہلے ی ہاں ترائی تھی کسی سپاہ نے خیمے لگا دیے ہیں و ہاں ج ہاں یہ ہے وہ ہے وہ نے نشانی تری دبائی تھی گلے ملا تھا کبھی دکھ بھرے دسمبر سے مری وجود کے اندر بھی دھند چھائی تھی
Tehzeeb Hafi
15 likes
خوشی ضائع ہوں رہے تھے دیکھ کر روتا لگ تھا ج سے جگہ بنتا تھا رونا ہے وہ ہے وہ ادھر روتا لگ تھا صرف تیری چپ نے مری گال گیلے کر دیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو حقیقت ہوں جو کسی کی موت پر روتا لگ تھا مجھ پہ کتنے سانحے گزرے پر ان آنکھوں کو کیا میرا دکھ یہ ہیں کہ میرا ہم سفر روتا لگ تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کے وصل ہے وہ ہے وہ بھی ہجر کاٹا ہے کہی حقیقت مری کندھے پہ رکھ لیتا تھا سر روتا لگ تھا پیار تو پہلے بھی ا سے سے تھا م گر اتنا نہیں تب ہے وہ ہے وہ اس کا کو چھو تو لیتا تھا م گر روتا لگ تھا گریہ و زاری کو بھی اک خاص موسم چاہیے مری آنکھیں دیکھ لو ہے وہ ہے وہ سمے پر روتا لگ تھا
Tehzeeb Hafi
44 likes
چیختے ہیں در و دیوار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھ کھلنے پہ بھی منجملہ و اسباب ماتم نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خواب کرنا ہوں سفر کرنا ہوں یا رونا ہوں مجھ ہے وہ ہے وہ خوبی ہے بیزار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب بھلا اپنے لیے بننا سنورنا کیسا خود سے ملنا ہوں تو تیار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون آئےگا بھلا میری عیادت کے لیے بس اسی خوف سے بیمار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ منزل عشق پہ نکلا تو کہا رستے نے ہر کسی کے لیے خوددار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری تصویر سے تسکین نہیں ہوتی مجھے تیری آواز سے مخمور نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لوگ کہتے ہیں ہے وہ ہے وہ بارش کی طرح ہوں حافی 9 اوقات لگاتار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ
Tehzeeb Hafi
35 likes
ख़ुद पर जब इश्क़ की वहशत को मुसल्लत करूँँगा इस कदर ख़ाक उड़ाऊँगा कयामत करूँँगा हिज्र की रात मेरी जान को आई हुई है बच गया तो मैं मोहब्बत की मज़म्मत करूँँगा अब तेरे राज़ सँभाले नहीं जाते मुझ सेे मैं किसी रोज़ अमानत में ख़यानत करूँँगा लयलातुल क़दर गुज़रेंगे किसी जंगल में नूर बरसेगा दरख़्तों की इमामत करूँँगा
Tehzeeb Hafi
22 likes
خوشی ضائع ہوں رہے تھے دیکھ کر روتا لگ تھا ج سے جگہ بنتا تھا رونا ہے وہ ہے وہ ادھر روتا لگ تھا صرف تیری چپ نے مری گال گیلے کر دیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو حقیقت ہوں جو کسی کی موت پر روتا لگ تھا مجھ پہ کتنے نظروں گزرے پر ان آنکھوں کو کیا میرا دکھ یہ ہے کہ میرا ہم سفر روتا لگ تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کے وصل ہے وہ ہے وہ بھی ہجر کاٹا ہے کہی حقیقت مری کندھے پہ رکھ لیتا تھا سر روتا لگ تھا پیار تو پہلے بھی ا سے سے تھا م گر اتنا نہیں تب ہے وہ ہے وہ ا سے کو چھو تو لیتا تھا م گر روتا لگ تھا گریہ و زاری کو بھی اک خاص موسم چاہیے مری آنکھیں دیکھ لو ہے وہ ہے وہ سمے پر روتا لگ تھا
Tehzeeb Hafi
48 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Tehzeeb Hafi.
Similar Moods
More moods that pair well with Tehzeeb Hafi's ghazal.







