ghazalKuch Alfaaz

puchha ki vajh-e-zindagi bole ki dildari miri puchha ki marne ka sabab bole jafa-kari miri puchha ki dil ko kya kahun bole ki divana mira puchha ki us ko kya hua bole ki bimari miri puchha sata ke ranj kyuun bole ki pachhtana pada puchha ki rusva kaun hai bole dil-azari miri puchha ki dozakh ki jalan bole ki soz-e-dil tira puchha ki jannat ki phaban bole tarah-dari miri puchha ki 'muztar' kyuun kiya bole ki dil chaha mira puchha tasalli kaun de bole ki ghham-khvari miri puchha ki wajh-e-zindagi bole ki dildari meri puchha ki marne ka sabab bole jafa-kari meri puchha ki dil ko kya kahun bole ki diwana mera puchha ki us ko kya hua bole ki bimari meri puchha sata ke ranj kyun bole ki pachhtana pada puchha ki ruswa kaun hai bole dil-azari meri puchha ki dozakh ki jalan bole ki soz-e-dil tera puchha ki jannat ki phaban bole tarah-dari meri puchha ki 'muztar' kyun kiya bole ki dil chaha mera puchha tasalli kaun de bole ki gham-khwari meri

Related Ghazal

ج سے طرح سمے گزرنے کے لیے ہوتا ہے آدمی شکل پہ مرنے کے لیے ہوتا ہے تیری آنکھوں سے ملاقات ہوئی تب یہ کھلا ڈوبنے والا ابھرنے کے لیے ہوتا ہے عشق کیوں پیچھے ہٹا بات نبھانے سے میاں حسن تو خیر مکرنے کے لیے ہوتا ہے آنکھ ہوتی ہے کسی راہ کو تکنے کے لیے دل کسی پاؤں پہ دھرنے کے لیے ہوتا ہے دل کی دہلی کا چناؤ ہی ا پیش ہے صاحب جب بھی ہوتا ہے یہ ہَرنے کے لیے ہوتا ہے کوئی بستی ہوں اجڑنے کے لیے بستی ہے کوئی مجمع ہوں گزرا کے لیے ہوتا ہے

Ali Zaryoun

61 likes

تمہارے غم سے توبہ کر رہا ہوں ت غضب ہے ہے وہ ہے وہ ایسا کر رہا ہوں ہے اپنے ہاتھ ہے وہ ہے وہ اپنا گریبان لگ جانے ک سے سے جھگڑا کر رہا ہوں بے حد سے بند تالے کھل رہے ہیں تری سب خط اکٹھا کر رہا ہوں کوئی تتلی نشانے پر نہیں ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے رنگوں کا پیچھا کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رسمًا کہ رہا ہوں پھروں ملیںگے یہ مت سمجھو کہ وعدہ کر رہا ہوں مری احباب سارے شہر ہے وہ ہے وہ ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے گاؤں ہے وہ ہے وہ کیا کر رہا ہوں مری ہر اک غزل اصلی ہے صاحب کئی برسوں سے دھندا کر رہا ہوں

Zubair Ali Tabish

38 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

ہے وہ ہے وہ برش چھوڑ چکا آخری تصویر کے بعد مجھ سے کچھ بن نہیں پایا تری تصویر کے بعد مشترک دوست بھی چھوٹے ہیں تجھے چھوڑنے پر زبان دیوار ہٹانی پڑی تصویر کے بعد یار تصویر ہے وہ ہے وہ تنہا ہوں م گر لوگ ملے کئی تصویر سے پہلے کئی تصویر کے بعد دوسرا عشق میسر ہے م گر کرتا نہیں کون دیکھےگا پرانی نئی تصویر کے بعد بھیج دیتا ہوں م گر پہلے بتا دوں تجھ کو مجھ سے ملتا نہیں کوئی مری تصویر کے بعد خشک دیوار ہے وہ ہے وہ سیلن کا سبب کیا ہوگا ایک عدد زنگ لگی کیل تھی تصویر کے بعد

Umair Najmi

28 likes

کیا کروگے میرا جادو چل گیا تو تو ہفتے بھر ہے وہ ہے وہ ا سے کو پاگل کر دیا تو بولنا اگلی دفع تلوار اٹھےگی غلطی سے بھی ا سے کے اوپر ہاتھ اٹھا تو بد دعائیں مرنے کی دے تو رہی ہوں اور کہی ہے وہ ہے وہ سچ ہے وہ ہے وہ ا سے سے مر گیا تو تو جی مجھے در اصل اچھے لگتے ہوں آپ ا سے نے مری بات سن کر کے کہا تو

Kushal Dauneria

29 likes

More from Muztar Khairabadi

لگ کسی کی آنکھ کا نور ہوں لگ کسی کے دل کا قرار ہوں کسی کام ہے وہ ہے وہ جو لگ آ سکے ہے وہ ہے وہ حقیقت ایک مشت غبار ہوں لگ دوا درد ج گر ہوں ہے وہ ہے وہ لگ کسی کی میٹھی نظر ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ ادھر ہوں ہے وہ ہے وہ لگ ادھر ہوں ہے وہ ہے وہ لگ شکیب ہوں لگ قرار ہوں میرا سمے مجھ سے بچھڑ گیا تو میرا رنگ روپ بگڑ گیا تو جو اڑائے سے باغ اجڑ گیا تو ہے وہ ہے وہ اسی کی فصل بہار ہوں پئے اظہار غزلوں فاتحہ کوئی آئی کیوں کوئی چار پھول چڑھائے کیوں کوئی آ کے شمع جلائے کیوں ہے وہ ہے وہ حقیقت بےکسی کا مزار ہوں لگ ہے وہ ہے وہ لاگ ہوں لگ لگاﺅ ہوں لگ سہاگ ہوں لگ صبھاو ہوں جو بگڑ گیا تو حقیقت بناو ہوں جو نہیں رہا حقیقت سنگار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نہیں ہوں نغمہ جاں افزا مجھے سن کے کوئی کرےگا کیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بڑے بیروگ کی ہوں صدا ہے وہ ہے وہ بڑے دکھی کی پکار ہوں لگ ہے وہ ہے وہ مضطر ان کا حبیب ہوں لگ ہے وہ ہے وہ مضطر ان کا رقیب ہوں جو بگڑ گیا تو حقیقت نصیب ہوں جو اجڑ گیا تو حقیقت دیار ہوں

Muztar Khairabadi

18 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Muztar Khairabadi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Muztar Khairabadi's ghazal.