سبق ایسا پڑھا دیا تو نے دل سے سب کچھ بھلا دیا تو نے ہم نکمے ہوئے زمانے کے کام ایسا سکھا دیا تو نے کچھ تعلق رہا لگ دنیا سے شغل ایسا بتا دیا تو نے ک سے خوشی کی خبر سنا کے مجھے غم کا پتلا بنا دیا تو نے کیا بتاؤں کہ کیا لیا ہے وہ ہے وہ نے کیا ک ہوں ہے وہ ہے وہ کی کیا دیا تو نے بے طلب جو ملا ملا مجھ کو بے غرض جو دیا دیا تو نے عمر جاوید خضر کو بخشی آب حیواں پلا دیا تو نے نار نمرود کو کیا دل ناشاد دوست کو یوں بچا دیا تو نے دست موسیٰ ہے وہ ہے وہ فیض بخشش ہے نور و لوح و عصا دیا تو نے صبح موج نسیم گلزار ناز گلشن کو نف سے جاں فزا دیا تو نے شب تیرا ہے وہ ہے وہ شمع روشن کو نور خورشید کا دیا تو نے نغمہ بلبل کو فضائیں گل کو دل کش و خوشنما دیا تو نے کہی مشتاق سے حجاب ہوا کہی پردہ اٹھا دیا تو نے تھا میرا منا لگ قابل لببیک کعبہ مجھ کو دکھا دیا تو نے ج سے دودمان ہے وہ ہے وہ نے تجھ سے خواہش کی ا سے سے مجھ کو سوا دیا تو نے رہبر خضر و ہا گرا الیا سے مجھ کو
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
More from Dagh Dehlvi
راہ پر ان کو لگا لائے تو ہیں باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھی جاناں جانتے ہوں چند ملاقاتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آزمایا ہے تمہیں ہم نے کئی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ غیر کے سر کی بلائیں جو نہیں لیں ظالم کیا مری قتل کو بھی جان نہیں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابر رحمت ہی برستا نظر آیا زاہد خاک اڑتی کبھی دیکھی لگ خراباتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یارب ا سے چاند کے ٹکڑے کو ک ہاں سے لاؤں روشنی ج سے کی ہوں ان تاروں بھری راتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں انصاف سے اے حضرت ناصح کہ دو لطف ان باتوں ہے وہ ہے وہ آتا ہے کہ ان باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوڑ کر دست دعا ساتھ دعا کے جاتے ہاں یہ پیدا لگ ہوئے پاؤں مری ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جلوہ یار سے جب بزم ہے وہ ہے وہ نور صفا آیا ہے تو رقیبوں نے سنبھالا ہے مجھے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایسی تقریر سنی تھی لگ کبھی شوخ و شریر تیری آنکھوں کے بھی فتنے ہیں تری باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم سے انکار ہوا غیر سے اقرار ہوا فیصلہ خوب کیا آپ نے دو
Dagh Dehlvi
1 likes
ا سے ادا سے حقیقت کہوں کرتے ہیں کوئی جانے کہ وفا کرتے ہیں یوں وفا عہد وفا کرتے ہیں آپ کیا کہتے ہیں کیا کرتے ہیں ہم کو بدل کافر تو پچھتاؤگے ہنسنے والوں سے ہنسا کرتے ہیں نامہ بر تجھ کو سلیقہ ہی نہیں کام باتوں ہے وہ ہے وہ بنا کرتے ہیں چ لیے عاشق کا جنازہ دل گیر آپ بیٹھے ہوئے کیا کرتے ہیں یہ بتاتا نہیں کوئی مجھ کو دل جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں حسن کا حق نہیں رہتا باقی ہر ادا ہے وہ ہے وہ حقیقت ادا کرتے ہیں تیر آخر شوق پنہانی ہے ہم اخیر آج دعا کرتے ہیں روتے ہیں غیر کا رونا پہروں یہ ہنسی مجھ سے ہنسا کرتے ہیں ا سے لیے دل کو لگا رکھا ہے ا سے ہے وہ ہے وہ محبوب رہا کرتے ہیں جاناں ملوگے لگ و ہاں بھی ہم سے حشر سے پہلے گلہ کرتے ہیں جھانک کر روزن در سے مجھ کو کیا حقیقت شوخی سے حیا کرتے ہیں ا سے نے احسان جتا کر یہ کہا آپ ک سے منا سے گلہ کرتے ہیں روز لیتے ہیں نیا دل دلبر نہیں معلوم یہ کیا کرتے ہیں داغ تو دیکھ تو کیا ہوتا ہے جبر پر دل پامال کیا کرتے ہیں
Dagh Dehlvi
5 likes
ख़ातिर से या लिहाज़ से मैं मान तो गया झूटी क़सम से आप का ईमान तो गया दिल ले के मुफ़्त कहते हैं कुछ काम का नहीं उल्टी शिकायतें हुईं एहसान तो गया डरता हूँ देख कर दिल-ए-बे-आरज़ू को मैं सुनसान घर ये क्यूँँ न हो मेहमान तो गया क्या आए राहत आई जो कुंज-ए-मज़ार में वो वलवला वो शौक़ वो अरमान तो गया देखा है बुत-कदे में जो ऐ शैख़ कुछ न पूछ ईमान की तो ये है कि ईमान तो गया इफ़्शा-ए-राज़-ए-इश्क़ में गो ज़िल्लतें हुईं लेकिन उसे जता तो दिया जान तो गया गो नामा-बर से ख़ुश न हुआ पर हज़ार शुक्र मुझ को वो मेरे नाम से पहचान तो गया बज़्म-ए-अदू में सूरत-ए-परवाना दिल मिरा गो रश्क से जला तिरे क़ुर्बान तो गया होश ओ हवा से ओ ताब ओ तवाँ 'दाग़' जा चुके अब हम भी जाने वाले हैं सामान तो गया
Dagh Dehlvi
1 likes
ये बात बात में क्या नाज़ुकी निकलती है दबी दबी तिरे लब से हँसी निकलती है ठहर ठहर के जला दिल को एक बार न फूँक कि इस में बू-ए-मोहब्बत अभी निकलती है बजाए शिकवा भी देता हूँ मैं दुआ उस को मिरी ज़बाँ से करूँँ क्या यही निकलती है ख़ुशी में हम ने ये शोख़ी कभी नहीं देखी दम-ए-इताब जो रंगत तिरी निकलती है हज़ार बार जो माँगा करो तो क्या हासिल दुआ वही है जो दिल से कभी निकलती है अदास तेरी मगर खिंच रहीं हैं तलवारें निगह निगह से छुरी पर छुरी निकलती है मुहीत-ए-इश्क़ में है क्या उमीद ओ बीम मुझे कि डूब डूब के कश्ती मिरी निकलती है झलक रही है सर-ए-शाख़-ए-मिज़ा ख़ून की बूँद शजर में पहले समर से कली निकलती है शब-ए-फ़िराक़ जो खोले हैं हम ने ज़ख़्म-ए-जिगर ये इंतिज़ार है कब चाँदनी निकलती है समझ तो लीजिए कहने तो दीजिए मतलब बयाँ से पहले ही मुझ पर छुरी निकलती है ये दिल की आग है या दिल के नूर का है ज़ुहूर नफ़स नफ़स में मिरे रौशनी निकलती है कहा जो मैं ने कि मर जाऊँगा तो कहते हैं हमारे ज़ाइचे में ज़िंदगी निकलती है समझने वाले समझते हैं पेच की तक़रीर कि कुछ न कुछ तिरी बातों में फ़ी निकलती है दम-ए-अख़ीर तसव्वुर है किस परी-वश का कि मेरी रूह भी बन कर परी निकलती है सनम-कदे में भी है हुस्न इक ख़ुदाई का कि जो निकलती है सूरत परी निकलती है मिरे निकाले न निकलेगी आरज़ू मेरी जो तुम निकालना चाहो अभी निकलती है ग़म-ए-फ़िराक़ में हो 'दाग़' इस क़दर बेताब ज़रा से रंज में जाँ आप की निकलती है
Dagh Dehlvi
0 likes
ا سے نہیں کا کوئی علاج نہیں روز کہتے ہیں آپ آج نہیں کل جو تھا آج حقیقت مزاج نہیں ا سے بکھیرا کا کچھ علاج نہیں آئی لگ دیکھتے ہی اتراے پھروں یہ کیا ہے ا گر مزاج نہیں لے کے دل رکھ لو کام آئےگا گو ابھی جاناں کو احتیاج نہیں ہوں سکیں ہم سال ہجر کیونکر ہم کو ملتا ترا مزاج نہیں چپ لگی کہکشاں جاں فزا کو تری ا سے مسیحا کا کچھ علاج نہیں دل بے مدعا خدا نے دیا اب کسی اجازت کی احتیاج نہیں کھوٹے داموں ہے وہ ہے وہ یہ بھی کیا ٹھہرا درہم 'داغ کا رواج نہیں اژدہا کی شان کہتی ہے بندگی کی کچھ احتیاج نہیں دل لگی کیجیے رقیبوں سے ا سے طرح کا میرا مزاج نہیں عشق ہے پادشاہ عالم گیر گرچہ ظاہر ہے وہ ہے وہ تخت و تاج نہیں درد فرقت کی گو دوا ہے وصال ا سے کے قابل بھی ہر مزاج نہیں یا سے نے کیا بجھا دیا دل کو کہ تڑپ کیسی اختلاج نہیں ہم تو سیرت پسند عاشق ہیں خوب رو کیا جو خوش مزاج نہیں حور سے پوچھتا ہوں جنت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے جگہ کیا بتوں کا راج نہیں دل پامال بھی دل کو داغ دے ل
Dagh Dehlvi
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Dagh Dehlvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Dagh Dehlvi's ghazal.







