راہ پر ان کو لگا لائے تو ہیں باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھی جاناں جانتے ہوں چند ملاقاتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آزمایا ہے تمہیں ہم نے کئی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ غیر کے سر کی بلائیں جو نہیں لیں ظالم کیا مری قتل کو بھی جان نہیں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابر رحمت ہی برستا نظر آیا زاہد خاک اڑتی کبھی دیکھی لگ خراباتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یارب ا سے چاند کے ٹکڑے کو ک ہاں سے لاؤں روشنی ج سے کی ہوں ان تاروں بھری راتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں انصاف سے اے حضرت ناصح کہ دو لطف ان باتوں ہے وہ ہے وہ آتا ہے کہ ان باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوڑ کر دست دعا ساتھ دعا کے جاتے ہاں یہ پیدا لگ ہوئے پاؤں مری ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جلوہ یار سے جب بزم ہے وہ ہے وہ نور صفا آیا ہے تو رقیبوں نے سنبھالا ہے مجھے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایسی تقریر سنی تھی لگ کبھی شوخ و شریر تیری آنکھوں کے بھی فتنے ہیں تری باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم سے انکار ہوا غیر سے اقرار ہوا فیصلہ خوب کیا آپ نے دو
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
More from Dagh Dehlvi
ख़ातिर से या लिहाज़ से मैं मान तो गया झूटी क़सम से आप का ईमान तो गया दिल ले के मुफ़्त कहते हैं कुछ काम का नहीं उल्टी शिकायतें हुईं एहसान तो गया डरता हूँ देख कर दिल-ए-बे-आरज़ू को मैं सुनसान घर ये क्यूँँ न हो मेहमान तो गया क्या आए राहत आई जो कुंज-ए-मज़ार में वो वलवला वो शौक़ वो अरमान तो गया देखा है बुत-कदे में जो ऐ शैख़ कुछ न पूछ ईमान की तो ये है कि ईमान तो गया इफ़्शा-ए-राज़-ए-इश्क़ में गो ज़िल्लतें हुईं लेकिन उसे जता तो दिया जान तो गया गो नामा-बर से ख़ुश न हुआ पर हज़ार शुक्र मुझ को वो मेरे नाम से पहचान तो गया बज़्म-ए-अदू में सूरत-ए-परवाना दिल मिरा गो रश्क से जला तिरे क़ुर्बान तो गया होश ओ हवा से ओ ताब ओ तवाँ 'दाग़' जा चुके अब हम भी जाने वाले हैं सामान तो गया
Dagh Dehlvi
1 likes
रंज की जब गुफ़्तुगू होने लगी आप से तुम तुम से तू होने लगी चाहिए पैग़ाम-बर दोनों तरफ़ लुत्फ़ क्या जब दू-ब-दू होने लगी मेरी रुस्वाई की नौबत आ गई उन की शोहरत कू-ब-कू होने लगी है तिरी तस्वीर कितनी बे-हिजाब हर किसी के रू-ब-रू होने लगी ग़ैर के होते भला ऐ शाम-ए-वस्ल क्यूँँ हमारे रू-ब-रू होने लगी ना-उम्मीदी बढ़ गई है इस क़दर आरज़ू की आरज़ू होने लगी अब के मिल कर देखिए क्या रंग हो फिर हमारी जुस्तुजू होने लगी 'दाग़' इतराए हुए फिरते हैं आज शायद उन की आबरू होने लगी
Dagh Dehlvi
1 likes
سبق ایسا پڑھا دیا تو نے دل سے سب کچھ بھلا دیا تو نے ہم نکمے ہوئے زمانے کے کام ایسا سکھا دیا تو نے کچھ تعلق رہا لگ دنیا سے شغل ایسا بتا دیا تو نے ک سے خوشی کی خبر سنا کے مجھے غم کا پتلا بنا دیا تو نے کیا بتاؤں کہ کیا لیا ہے وہ ہے وہ نے کیا ک ہوں ہے وہ ہے وہ کی کیا دیا تو نے بے طلب جو ملا ملا مجھ کو بے غرض جو دیا دیا تو نے عمر جاوید خضر کو بخشی آب حیواں پلا دیا تو نے نار نمرود کو کیا دل ناشاد دوست کو یوں بچا دیا تو نے دست موسیٰ ہے وہ ہے وہ فیض بخشش ہے نور و لوح و عصا دیا تو نے صبح موج نسیم گلزار ناز گلشن کو نف سے جاں فزا دیا تو نے شب تیرا ہے وہ ہے وہ شمع روشن کو نور خورشید کا دیا تو نے نغمہ بلبل کو فضائیں گل کو دل کش و خوشنما دیا تو نے کہی مشتاق سے حجاب ہوا کہی پردہ اٹھا دیا تو نے تھا میرا منا لگ قابل لببیک کعبہ مجھ کو دکھا دیا تو نے ج سے دودمان ہے وہ ہے وہ نے تجھ سے خواہش کی ا سے سے مجھ کو سوا دیا تو نے رہبر خضر و ہا گرا الیا سے مجھ کو
Dagh Dehlvi
1 likes
بھویں تنتی جذب الفت ہیں خنجر ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تن کے بیٹھے ہیں کسی سے آج بگڑی ہے کہ حقیقت یوں بن کے بیٹھے ہیں دلوں پر سیکڑوں سکے تری جوبن کے بیٹھے ہیں کلیجوں پر ہزاروں تیر ا سے چت ون کے بیٹھے ہیں الہی کیوں نہیں اٹھتی خوشگوار ماجرا کیا ہے ہمارے سامنے پہلو ہے وہ ہے وہ حقیقت دشمن کے بیٹھے ہیں یہ رن جھون یہ چھیڑ اچھی نہیں ہے اے دل ناداں ابھی پھروں روٹھ جائیں گے ابھی تو من کے بیٹھے ہیں اثر ہے زیر توبہ ہے وہ ہے وہ تو کھنچ کر آ ہی جائیں گے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پروا نہیں ہم سے ا گر حقیقت تن کے بیٹھے ہیں بیعت ہوں جائیں گے گر جائیں گے حقیقت بزم دشمن ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ جب تک گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھے ہیں حقیقت لاکھوں من کے بیٹھے ہیں فسوں ہے یا دعا ہے یا معمہ کھل نہیں سکتا حقیقت کچھ پیسہ ہوئے آگے مری مدفن کے بیٹھے ہیں بے حد رویا ہوں ہے وہ ہے وہ جب سے یہ ہے وہ ہے وہ نے خواب دیکھا ہے کہ آپ آنسو بہاتے سامنے دشمن کے بیٹھے ہیں کھڑے ہوں حسرت مند حقیقت لگ دم لینے کو دم بھر بھی جو سایہ دامن تری تلاش منزل مقصد کے بیٹھے ہیں<br
Dagh Dehlvi
0 likes
جو ہوں سکتا ہے ا سے سے حقیقت کسی سے ہوں نہیں سکتا م گر دیکھو تو پھروں کچھ آدمی سے ہوں نہیں سکتا محبت ہے وہ ہے وہ کرے کیا کچھ کسی سے ہوں نہیں سکتا میرا مرنا بھی تو مری خوشی سے ہوں نہیں سکتا ا پیش کرنا رقیبوں کا الہی تجھ کو آساں ہے مجھے مشکل کہ مری بےکسی سے ہوں نہیں سکتا کیا ہے وعدہ فردا ان ہوں نے دیکھیے کیا ہوں ی ہاں دل پامال و تحمل آج ہی سے ہوں نہیں سکتا یہ داد خوا ہوں ک سے جگہ جائیں کسے ڈھونڈے کہ تیرا کام قاتل جب تجھی سے ہوں نہیں سکتا لگا کر تیغ قصہ پاک کیجیے حرف وعدہ کا کسی کا فیصلہ کر خزاں سے ہوں نہیں سکتا میرا دشمن بظاہر چار دن کو دوست ہے تیرا کسی کا ہوں رہے یہ ہر کسی سے ہوں نہیں سکتا پرسش کہوگے کیا و ہاں جب یاں یہ صورت ہے ادا اک رنگ آشنا نازکی سے ہوں نہیں سکتا لگ کہیے گو کہ حال دل م گر نا طاقتی ہیں ہم یہ ظاہر آپ کی کیا خموشی سے ہوں نہیں سکتا کیا جو ہم نے ظالم کیا کرےگا غیر منا کیا ہے کرے تو دل پامال ایسا آدمی سے ہوں نہیں سکتا چمن ہے وہ ہے وہ ناز بلبل نے کیا جو اپنی نالے پر چٹک کر
Dagh Dehlvi
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Dagh Dehlvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Dagh Dehlvi's ghazal.







