بھویں تنتی جذب الفت ہیں خنجر ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تن کے بیٹھے ہیں کسی سے آج بگڑی ہے کہ حقیقت یوں بن کے بیٹھے ہیں دلوں پر سیکڑوں سکے تری جوبن کے بیٹھے ہیں کلیجوں پر ہزاروں تیر ا سے چت ون کے بیٹھے ہیں الہی کیوں نہیں اٹھتی خوشگوار ماجرا کیا ہے ہمارے سامنے پہلو ہے وہ ہے وہ حقیقت دشمن کے بیٹھے ہیں یہ رن جھون یہ چھیڑ اچھی نہیں ہے اے دل ناداں ابھی پھروں روٹھ جائیں گے ابھی تو من کے بیٹھے ہیں اثر ہے زیر توبہ ہے وہ ہے وہ تو کھنچ کر آ ہی جائیں گے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پروا نہیں ہم سے ا گر حقیقت تن کے بیٹھے ہیں بیعت ہوں جائیں گے گر جائیں گے حقیقت بزم دشمن ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ جب تک گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھے ہیں حقیقت لاکھوں من کے بیٹھے ہیں فسوں ہے یا دعا ہے یا معمہ کھل نہیں سکتا حقیقت کچھ پیسہ ہوئے آگے مری مدفن کے بیٹھے ہیں بے حد رویا ہوں ہے وہ ہے وہ جب سے یہ ہے وہ ہے وہ نے خواب دیکھا ہے کہ آپ آنسو بہاتے سامنے دشمن کے بیٹھے ہیں کھڑے ہوں حسرت مند حقیقت لگ دم لینے کو دم بھر بھی جو سایہ دامن تری تلاش منزل مقصد کے بیٹھے ہیں<br
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
More from Dagh Dehlvi
ख़ातिर से या लिहाज़ से मैं मान तो गया झूटी क़सम से आप का ईमान तो गया दिल ले के मुफ़्त कहते हैं कुछ काम का नहीं उल्टी शिकायतें हुईं एहसान तो गया डरता हूँ देख कर दिल-ए-बे-आरज़ू को मैं सुनसान घर ये क्यूँँ न हो मेहमान तो गया क्या आए राहत आई जो कुंज-ए-मज़ार में वो वलवला वो शौक़ वो अरमान तो गया देखा है बुत-कदे में जो ऐ शैख़ कुछ न पूछ ईमान की तो ये है कि ईमान तो गया इफ़्शा-ए-राज़-ए-इश्क़ में गो ज़िल्लतें हुईं लेकिन उसे जता तो दिया जान तो गया गो नामा-बर से ख़ुश न हुआ पर हज़ार शुक्र मुझ को वो मेरे नाम से पहचान तो गया बज़्म-ए-अदू में सूरत-ए-परवाना दिल मिरा गो रश्क से जला तिरे क़ुर्बान तो गया होश ओ हवा से ओ ताब ओ तवाँ 'दाग़' जा चुके अब हम भी जाने वाले हैं सामान तो गया
Dagh Dehlvi
1 likes
बाक़ी जहाँ में क़ैस न फ़रहाद रह गया अफ़्साना आशिक़ों का फ़क़त याद रह गया ये सख़्त-जाँ तो क़त्ल से नाशाद रह गया ख़ंजर चला तो बाज़ू-ए-जल्लाद रह गया पाबंदियों ने इश्क़ की बेकस रखा मुझे मैं सौ असीरियों में भी आज़ाद रह गया चश्म-ए-सनम ने यूँँ तो बिगाड़े हज़ार घर इक का'बा चंद रोज़ को आबाद रह गया महशर में जा-ए-शिकवा किया शुक्र यार का जो भूलना था मुझ को वही याद रह गया उन की तो बन पड़ी कि लगी जान मुफ़्त हाथ तेरी गिरह में क्या दिल-ए-नाशाद रह गया पुर-नूर हो रहेगा ये ज़ुल्मत-कदा अगर दिल में बुतों का शौक़-ए-ख़ुदा-दाद रह गया यूँँ आँख उन की कर के इशारा पलट गई गोया कि लब से हो के कुछ इरशाद रह गया नासेह का जी चला था हमारी तरह मगर उल्फ़त की देख देख के उफ़्ताद रह गया हैं तेरे दिल में सब के ठिकाने बुरे भले मैं ख़ानुमाँ-ख़राब ही बर्बाद रह गया वो दिन गए कि थी मिरे सीने में कुछ ख़राश अब दिल कहाँ है दिल का निशाँ याद रह गया सूरत को तेरी देख के खिंचती है जान-ए-ख़ल्क़ दिल अपना थाम थाम के बहज़ाद रह गया ऐ 'दाग़' दिल ही दिल में घुले ज़ब्त-ए-इश्क़ से अफ़्सोस शौक़-ए-नाला-ओ-फ़रियाद रह गया
Dagh Dehlvi
0 likes
ग़म से कहीं नजात मिले चैन पाएँ हम दिल ख़ून में नहाए तो गंगा नहाएँ हम जन्नत में जाएँ हम कि जहन्नम में जाएँ हम मिल जाए तो कहीं न कहीं तुझ को पाएँ हम जौफ़-ए-फ़लक में ख़ाक भी लज़्ज़त नहीं रही जी चाहता है तेरी जफ़ाएँ उठाएँ हम डर है न भूल जाए वो सफ़्फ़ाक रोज़-ए-हश्र दुनिया में लिखते जाते हैं अपनी ख़ताएँ हम मुमकिन है ये कि वादे पर अपने वो आ भी जाए मुश्किल ये है कि आप में उस वक़्त आएँ हम नाराज़ हो ख़ुदा तो करें बंदगी से ख़ुश माशूक़ रूठ जाए तो क्यूँँकर मनाएँ हम सर दोस्तों का काट के रखते हैं सामने ग़ैरों से पूछते हैं क़सम किस की खाएँ हम कितना तिरा मिज़ाज ख़ुशामद-पसंद है कब तक करें ख़ुदा के लिए इल्तिजाएँ हम लालच अबस है दिल का तुम्हें वक़्त-ए-वापसीं ये माल वो नहीं कि जिसे छोड़ जाएँ हम सौंपा तुम्हें ख़ुदा को चले हम तो ना-मुराद कुछ पढ़ के बख़्शना जो कभी याद आएँ हम सोज़-ए-दरूँ से अपने शरर बन गए हैं अश्क क्यूँँ आह-ए-सर्द को न पतिंगे लगाएँ हम ये जान तुम न लोगे अगर आप जाएगी उस बे-वफ़ा की ख़ैर कहाँ तक मनाएँ हम हम-साए जागते रहे नालों से रात भर सोए हुए नसीब को क्यूँँकर जगाएँ हम जल्वा दिखा रहा है वो आईना-ए-जमाल आती है हम को शर्म कि क्या मुँह दिखाएँ हम मानो कहा जफ़ा न करो तुम वफ़ा के बा'द ऐसा न हो कि फेर लें उल्टी दुआएँ हम दुश्मन से मिलते जुलते हैं ख़ातिर से दोस्ती क्या फ़ाएदा जो दोस्त को दुश्मन बनाएँ हम तू भूलने की चीज़ नहीं ख़ूब याद रख ऐ 'दाग़' किस तरह तुझे दिल से भुलाएँ हम
Dagh Dehlvi
0 likes
ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا لگ دیکھا حقیقت ہے وہ ہے وہ جو دیکھنا تھا لگ دیکھا تجھے دیکھ کر حقیقت مسائل تصوف اٹھ گئی ہے کہ اپنا بھی ثانی لگ دیکھا لگ دیکھا ان آنکھوں کے قربان جاؤں جن ہوں نے ہزاروں حجابوں ہے وہ ہے وہ پروا لگ دیکھا لگ ہمت لگ قسمت لگ دل ہے لگ آنکھیں لگ ڈھونڈان پایا لگ سمجھا لگ دیکھا بے حد درد مندوں کو دیکھا ہے تو نے یہ سینا یہ دل یہ کلیجہ لگ دیکھا حقیقت کب دیکھ سکتا ہے ا سے کی تجلی ج سے انسان نے اپنا ہی جلوہ لگ دیکھا بے حد شور سنتے تھے ا سے صورت آشنا کا ی ہاں آ کے جو کچھ سنا تھا لگ دیکھا اسے دیکھ کر اور کو پھروں جو دیکھے کوئی دیکھنے والا ایسا لگ دیکھا گیا تو تو کارواں چھوڑ کر مجھ کو تنہا ذرا مری آنے کا رستہ لگ دیکھا تری یاد ہے یا ہے تیرا تصور کبھی داغ کو ہم نے تنہا لگ دیکھا
Dagh Dehlvi
0 likes
اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا یاد آتا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں یہ زما لگ دل کا جاناں بھی منا چوم لو بے ساختہ پیار آ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سناؤں جو کبھی دل سے فسا لگ دل کا نگہ یار نے کی خا لگ خرابی ایسی لگ ہری ہے ج گر کا لگ ہری دل کا پوری مہن گرا بھی لگانی نہیں آتی اب تک کیونکر آیا تجھے غیروں سے لگانا دل کا غنچہ گل کو حقیقت مٹھی ہے وہ ہے وہ لیے آتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے پوچھا تو کیا مجھ سے بہانا دل کا ان حسینوں کا لڑکپن ہی رہے یا اللہ ہوش آتا ہے تو آتا ہے ستانا دل کا دے خدا اور جگہ سینا و پہلو کے سوا کہ برے سمے ہے وہ ہے وہ ہوں جائے ہری دل کا مری آغوش سے کیا ہی حقیقت تڑپ کر نکلے ان کا جانا تھا الہی کہ یہ جانا دل کا نگاہ شرم کو بے تاب کیا کام کیا رنگ لایا تری آنکھوں ہے وہ ہے وہ سمانا دل کا انگلياں تار گریباں ہے وہ ہے وہ الجھ جاتی ہیں سخت دشوار ہے ہاتھوں سے دبانا دل کا حور کی شکل ہوں جاناں نور کے پتلے ہوں جاناں اور ا سے پر تمہیں آتا ہے جلانا دل کا چھوڑ کر ا سے کو تر
Dagh Dehlvi
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Dagh Dehlvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Dagh Dehlvi's ghazal.







