बाक़ी जहाँ में क़ैस न फ़रहाद रह गया अफ़्साना आशिक़ों का फ़क़त याद रह गया ये सख़्त-जाँ तो क़त्ल से नाशाद रह गया ख़ंजर चला तो बाज़ू-ए-जल्लाद रह गया पाबंदियों ने इश्क़ की बेकस रखा मुझे मैं सौ असीरियों में भी आज़ाद रह गया चश्म-ए-सनम ने यूँँ तो बिगाड़े हज़ार घर इक का'बा चंद रोज़ को आबाद रह गया महशर में जा-ए-शिकवा किया शुक्र यार का जो भूलना था मुझ को वही याद रह गया उन की तो बन पड़ी कि लगी जान मुफ़्त हाथ तेरी गिरह में क्या दिल-ए-नाशाद रह गया पुर-नूर हो रहेगा ये ज़ुल्मत-कदा अगर दिल में बुतों का शौक़-ए-ख़ुदा-दाद रह गया यूँँ आँख उन की कर के इशारा पलट गई गोया कि लब से हो के कुछ इरशाद रह गया नासेह का जी चला था हमारी तरह मगर उल्फ़त की देख देख के उफ़्ताद रह गया हैं तेरे दिल में सब के ठिकाने बुरे भले मैं ख़ानुमाँ-ख़राब ही बर्बाद रह गया वो दिन गए कि थी मिरे सीने में कुछ ख़राश अब दिल कहाँ है दिल का निशाँ याद रह गया सूरत को तेरी देख के खिंचती है जान-ए-ख़ल्क़ दिल अपना थाम थाम के बहज़ाद रह गया ऐ 'दाग़' दिल ही दिल में घुले ज़ब्त-ए-इश्क़ से अफ़्सोस शौक़-ए-नाला-ओ-फ़रियाद रह गया
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے
Khumar Barabankvi
95 likes
More from Dagh Dehlvi
راہ پر ان کو لگا لائے تو ہیں باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھی جاناں جانتے ہوں چند ملاقاتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آزمایا ہے تمہیں ہم نے کئی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ غیر کے سر کی بلائیں جو نہیں لیں ظالم کیا مری قتل کو بھی جان نہیں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابر رحمت ہی برستا نظر آیا زاہد خاک اڑتی کبھی دیکھی لگ خراباتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یارب ا سے چاند کے ٹکڑے کو ک ہاں سے لاؤں روشنی ج سے کی ہوں ان تاروں بھری راتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں انصاف سے اے حضرت ناصح کہ دو لطف ان باتوں ہے وہ ہے وہ آتا ہے کہ ان باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوڑ کر دست دعا ساتھ دعا کے جاتے ہاں یہ پیدا لگ ہوئے پاؤں مری ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جلوہ یار سے جب بزم ہے وہ ہے وہ نور صفا آیا ہے تو رقیبوں نے سنبھالا ہے مجھے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایسی تقریر سنی تھی لگ کبھی شوخ و شریر تیری آنکھوں کے بھی فتنے ہیں تری باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم سے انکار ہوا غیر سے اقرار ہوا فیصلہ خوب کیا آپ نے دو
Dagh Dehlvi
1 likes
ख़ातिर से या लिहाज़ से मैं मान तो गया झूटी क़सम से आप का ईमान तो गया दिल ले के मुफ़्त कहते हैं कुछ काम का नहीं उल्टी शिकायतें हुईं एहसान तो गया डरता हूँ देख कर दिल-ए-बे-आरज़ू को मैं सुनसान घर ये क्यूँँ न हो मेहमान तो गया क्या आए राहत आई जो कुंज-ए-मज़ार में वो वलवला वो शौक़ वो अरमान तो गया देखा है बुत-कदे में जो ऐ शैख़ कुछ न पूछ ईमान की तो ये है कि ईमान तो गया इफ़्शा-ए-राज़-ए-इश्क़ में गो ज़िल्लतें हुईं लेकिन उसे जता तो दिया जान तो गया गो नामा-बर से ख़ुश न हुआ पर हज़ार शुक्र मुझ को वो मेरे नाम से पहचान तो गया बज़्म-ए-अदू में सूरत-ए-परवाना दिल मिरा गो रश्क से जला तिरे क़ुर्बान तो गया होश ओ हवा से ओ ताब ओ तवाँ 'दाग़' जा चुके अब हम भी जाने वाले हैं सामान तो गया
Dagh Dehlvi
1 likes
ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا لگ دیکھا حقیقت ہے وہ ہے وہ جو دیکھنا تھا لگ دیکھا تجھے دیکھ کر حقیقت مسائل تصوف اٹھ گئی ہے کہ اپنا بھی ثانی لگ دیکھا لگ دیکھا ان آنکھوں کے قربان جاؤں جن ہوں نے ہزاروں حجابوں ہے وہ ہے وہ پروا لگ دیکھا لگ ہمت لگ قسمت لگ دل ہے لگ آنکھیں لگ ڈھونڈان پایا لگ سمجھا لگ دیکھا بے حد درد مندوں کو دیکھا ہے تو نے یہ سینا یہ دل یہ کلیجہ لگ دیکھا حقیقت کب دیکھ سکتا ہے ا سے کی تجلی ج سے انسان نے اپنا ہی جلوہ لگ دیکھا بے حد شور سنتے تھے ا سے صورت آشنا کا ی ہاں آ کے جو کچھ سنا تھا لگ دیکھا اسے دیکھ کر اور کو پھروں جو دیکھے کوئی دیکھنے والا ایسا لگ دیکھا گیا تو تو کارواں چھوڑ کر مجھ کو تنہا ذرا مری آنے کا رستہ لگ دیکھا تری یاد ہے یا ہے تیرا تصور کبھی داغ کو ہم نے تنہا لگ دیکھا
Dagh Dehlvi
0 likes
ये बात बात में क्या नाज़ुकी निकलती है दबी दबी तिरे लब से हँसी निकलती है ठहर ठहर के जला दिल को एक बार न फूँक कि इस में बू-ए-मोहब्बत अभी निकलती है बजाए शिकवा भी देता हूँ मैं दुआ उस को मिरी ज़बाँ से करूँँ क्या यही निकलती है ख़ुशी में हम ने ये शोख़ी कभी नहीं देखी दम-ए-इताब जो रंगत तिरी निकलती है हज़ार बार जो माँगा करो तो क्या हासिल दुआ वही है जो दिल से कभी निकलती है अदास तेरी मगर खिंच रहीं हैं तलवारें निगह निगह से छुरी पर छुरी निकलती है मुहीत-ए-इश्क़ में है क्या उमीद ओ बीम मुझे कि डूब डूब के कश्ती मिरी निकलती है झलक रही है सर-ए-शाख़-ए-मिज़ा ख़ून की बूँद शजर में पहले समर से कली निकलती है शब-ए-फ़िराक़ जो खोले हैं हम ने ज़ख़्म-ए-जिगर ये इंतिज़ार है कब चाँदनी निकलती है समझ तो लीजिए कहने तो दीजिए मतलब बयाँ से पहले ही मुझ पर छुरी निकलती है ये दिल की आग है या दिल के नूर का है ज़ुहूर नफ़स नफ़स में मिरे रौशनी निकलती है कहा जो मैं ने कि मर जाऊँगा तो कहते हैं हमारे ज़ाइचे में ज़िंदगी निकलती है समझने वाले समझते हैं पेच की तक़रीर कि कुछ न कुछ तिरी बातों में फ़ी निकलती है दम-ए-अख़ीर तसव्वुर है किस परी-वश का कि मेरी रूह भी बन कर परी निकलती है सनम-कदे में भी है हुस्न इक ख़ुदाई का कि जो निकलती है सूरत परी निकलती है मिरे निकाले न निकलेगी आरज़ू मेरी जो तुम निकालना चाहो अभी निकलती है ग़म-ए-फ़िराक़ में हो 'दाग़' इस क़दर बेताब ज़रा से रंज में जाँ आप की निकलती है
Dagh Dehlvi
0 likes
سبق ایسا پڑھا دیا تو نے دل سے سب کچھ بھلا دیا تو نے ہم نکمے ہوئے زمانے کے کام ایسا سکھا دیا تو نے کچھ تعلق رہا لگ دنیا سے شغل ایسا بتا دیا تو نے ک سے خوشی کی خبر سنا کے مجھے غم کا پتلا بنا دیا تو نے کیا بتاؤں کہ کیا لیا ہے وہ ہے وہ نے کیا ک ہوں ہے وہ ہے وہ کی کیا دیا تو نے بے طلب جو ملا ملا مجھ کو بے غرض جو دیا دیا تو نے عمر جاوید خضر کو بخشی آب حیواں پلا دیا تو نے نار نمرود کو کیا دل ناشاد دوست کو یوں بچا دیا تو نے دست موسیٰ ہے وہ ہے وہ فیض بخشش ہے نور و لوح و عصا دیا تو نے صبح موج نسیم گلزار ناز گلشن کو نف سے جاں فزا دیا تو نے شب تیرا ہے وہ ہے وہ شمع روشن کو نور خورشید کا دیا تو نے نغمہ بلبل کو فضائیں گل کو دل کش و خوشنما دیا تو نے کہی مشتاق سے حجاب ہوا کہی پردہ اٹھا دیا تو نے تھا میرا منا لگ قابل لببیک کعبہ مجھ کو دکھا دیا تو نے ج سے دودمان ہے وہ ہے وہ نے تجھ سے خواہش کی ا سے سے مجھ کو سوا دیا تو نے رہبر خضر و ہا گرا الیا سے مجھ کو
Dagh Dehlvi
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Dagh Dehlvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Dagh Dehlvi's ghazal.







