ghazalKuch Alfaaz

اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا یاد آتا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں یہ زما لگ دل کا جاناں بھی منا چوم لو بے ساختہ پیار آ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سناؤں جو کبھی دل سے فسا لگ دل کا نگہ یار نے کی خا لگ خرابی ایسی لگ ہری ہے ج گر کا لگ ہری دل کا پوری مہن گرا بھی لگانی نہیں آتی اب تک کیونکر آیا تجھے غیروں سے لگانا دل کا غنچہ گل کو حقیقت مٹھی ہے وہ ہے وہ لیے آتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے پوچھا تو کیا مجھ سے بہانا دل کا ان حسینوں کا لڑکپن ہی رہے یا اللہ ہوش آتا ہے تو آتا ہے ستانا دل کا دے خدا اور جگہ سینا و پہلو کے سوا کہ برے سمے ہے وہ ہے وہ ہوں جائے ہری دل کا مری آغوش سے کیا ہی حقیقت تڑپ کر نکلے ان کا جانا تھا الہی کہ یہ جانا دل کا نگاہ شرم کو بے تاب کیا کام کیا رنگ لایا تری آنکھوں ہے وہ ہے وہ سمانا دل کا انگلياں تار گریباں ہے وہ ہے وہ الجھ جاتی ہیں سخت دشوار ہے ہاتھوں سے دبانا دل کا حور کی شکل ہوں جاناں نور کے پتلے ہوں جاناں اور ا سے پر تمہیں آتا ہے جلانا دل کا چھوڑ کر ا سے کو تر

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

More from Dagh Dehlvi

बाक़ी जहाँ में क़ैस न फ़रहाद रह गया अफ़्साना आशिक़ों का फ़क़त याद रह गया ये सख़्त-जाँ तो क़त्ल से नाशाद रह गया ख़ंजर चला तो बाज़ू-ए-जल्लाद रह गया पाबंदियों ने इश्क़ की बेकस रखा मुझे मैं सौ असीरियों में भी आज़ाद रह गया चश्म-ए-सनम ने यूँँ तो बिगाड़े हज़ार घर इक का'बा चंद रोज़ को आबाद रह गया महशर में जा-ए-शिकवा किया शुक्र यार का जो भूलना था मुझ को वही याद रह गया उन की तो बन पड़ी कि लगी जान मुफ़्त हाथ तेरी गिरह में क्या दिल-ए-नाशाद रह गया पुर-नूर हो रहेगा ये ज़ुल्मत-कदा अगर दिल में बुतों का शौक़-ए-ख़ुदा-दाद रह गया यूँँ आँख उन की कर के इशारा पलट गई गोया कि लब से हो के कुछ इरशाद रह गया नासेह का जी चला था हमारी तरह मगर उल्फ़त की देख देख के उफ़्ताद रह गया हैं तेरे दिल में सब के ठिकाने बुरे भले मैं ख़ानुमाँ-ख़राब ही बर्बाद रह गया वो दिन गए कि थी मिरे सीने में कुछ ख़राश अब दिल कहाँ है दिल का निशाँ याद रह गया सूरत को तेरी देख के खिंचती है जान-ए-ख़ल्क़ दिल अपना थाम थाम के बहज़ाद रह गया ऐ 'दाग़' दिल ही दिल में घुले ज़ब्त-ए-इश्क़ से अफ़्सोस शौक़-ए-नाला-ओ-फ़रियाद रह गया

Dagh Dehlvi

0 likes

रंज की जब गुफ़्तुगू होने लगी आप से तुम तुम से तू होने लगी चाहिए पैग़ाम-बर दोनों तरफ़ लुत्फ़ क्या जब दू-ब-दू होने लगी मेरी रुस्वाई की नौबत आ गई उन की शोहरत कू-ब-कू होने लगी है तिरी तस्वीर कितनी बे-हिजाब हर किसी के रू-ब-रू होने लगी ग़ैर के होते भला ऐ शाम-ए-वस्ल क्यूँँ हमारे रू-ब-रू होने लगी ना-उम्मीदी बढ़ गई है इस क़दर आरज़ू की आरज़ू होने लगी अब के मिल कर देखिए क्या रंग हो फिर हमारी जुस्तुजू होने लगी 'दाग़' इतराए हुए फिरते हैं आज शायद उन की आबरू होने लगी

Dagh Dehlvi

1 likes

دل کو کیا ہوں گیا تو خدا جانے کیوں ہے ایسا ادا سے کیا جانے اپنے غم ہے وہ ہے وہ بھی ا سے کو صرفہ ہے لگ کھلا جانے حقیقت لگ کھا جانے ا سے عارفا لگ کا کیا ہری ہے جان کر جو لگ مدعا جانے کہ دیا ہے وہ ہے وہ نے راز دل اپنا ا سے کو جاناں جانو یا خدا جانے کیا غرض کیوں ادھر برق ہوں حال دل آپ کی بلا جانے جانتے جانتے ہی جانےگا مجھ ہے وہ ہے وہ کیا ہے ابھی حقیقت کیا جانے کیا ہم ا سے بد گماں سے بات کریں جو ستائش کو بھی گلہ جانے جاناں لگ پاؤگے سادہ دل مجھ سا جو ت غافل کو بھی حیا جانے ہے عبث جرم عشق پر الزام جب اعتباری وار بھی غلطیاں جانے نہیں کوٹاہ دامن امید آگے اب دست نا رسا جانے جو ہوں اچھا ہزار اچھوں کا واعظ ا سے بت کو تو برا جانے کی مری دودمان مثل شاہ دکن کسی نواب نے لگ راجا نے ا سے سے اٹھےگی کیا مصیبت عشقابتدا کو جو انتہا جانے داغ سے کہ دو اب لگ گھبراؤ کام اپنا بتا ہوا جانے

Dagh Dehlvi

2 likes

کون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیا دیکھتا بھالتا ہر شاخ کو صیاد آیا میرے قابو میں نہ پہروں منتظر آیا وہ میرا بھولنے والا جو مجھے یاد آیا کوئی بھولا ہوا انداز ستم یاد آیا کہ تبسم تجھے ظالم دم بیداد آیا لائے ہیں لوگ جنازے کی طرح محشر میں کس مصیبت سے ترا کشہ بیداد آیا جذب وحشت تری قربان ترا کیا کہنا کھنچ کے رگ رگ میں مری نشتر فساد آیا اس کے رکے کو غرض کون و مکاں سے کیا تھا داد لینے کے لیے حسن خدا داد آیا بستیوں سے یہی آواز چلی آتی ہے جو کیا تو نے وہ آگے تری فرہاد آیا دل ویراں سے رقیبوں نے مرادیں پائیں کام کس کس کے میرا خرمن برباد آیا عشق کے آتے ہی منہ پر مری پھولی ہے بسنّت ہو گیا زرد یہ شاگرد جب استاد آیا ہو گیا فرض مجھے شوق کا دفتر لکھنا جب مری ہاتھ کوئی خامہ فولاد آیا عید ہے قتل میرا اہل تماشا کے لیے سب گلے ملنے لگے جب کہ وہ جلاد آیا چین کرتے ہیں وہاں رنج اٹھانے والے کام عقبہ میں ہمارا منتظر آیا دی شب وصل موذن نے اذان پچھلی رات ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا میرے

Dagh Dehlvi

0 likes

ستم ہی کرنا کہوں ہی کرنا پا سے آبرو کبھی لگ کرنا تمہیں قسم ہے ہمارے سر کی ہمارے حق ہے وہ ہے وہ کمی لگ کرنا ہماری میت پہ جاناں جو آنا تو چار آنسو بہا کے جانا ذرا رہے پہلو تہی بھی کہی ہماری ہنسی لگ کرنا ک ہاں کا آنا ک ہاں کا جانا حقیقت جانتے ہی نہیں یہ ر سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ و ہاں ہے وعدے کی بھی یہ صورت کبھی تو کرنا کبھی لگ کرنا لیے تو چلتے ہیں حضرت دل تمہیں بھی ا سے صورت آشنا ہے وہ ہے وہ لیکن ہمارے پہلو ہے وہ ہے وہ بیٹھ کر جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے سخت جاں لگ کرنا نہیں ہے کچھ قتل ان کا آساں یہ ہلاک ہیں برے بلا کے قضا کو پہلے شریک کرنا یہ کام اپنی خوشی لگ کرنا انداز وصل خیرو کرنا کہ پردہ رہ جائے کچھ ہمارا غم جدائی ہے وہ ہے وہ خاک کر کے کہی عدو کی خوشی لگ کرنا مری تو ہے بات زہر ان کو حقیقت ان کے زار ہی کی لگ کیوں ہوں کہ ان سے جو التجا سے کہنا غضب ہے ان کو وہی لگ کرنا ہوا ا گر شوق آئینے سے تو رکھ رہے راستی کی جانب مثال آرز صفائی رکھنا ب رنگ کاکل کجی لگ کرنا حقیقت ہی ہمارا طریق الفت کہ دشمنوں سے بھی مل

Dagh Dehlvi

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Dagh Dehlvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Dagh Dehlvi's ghazal.