ستم ہی کرنا کہوں ہی کرنا پا سے آبرو کبھی لگ کرنا تمہیں قسم ہے ہمارے سر کی ہمارے حق ہے وہ ہے وہ کمی لگ کرنا ہماری میت پہ جاناں جو آنا تو چار آنسو بہا کے جانا ذرا رہے پہلو تہی بھی کہی ہماری ہنسی لگ کرنا ک ہاں کا آنا ک ہاں کا جانا حقیقت جانتے ہی نہیں یہ ر سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ و ہاں ہے وعدے کی بھی یہ صورت کبھی تو کرنا کبھی لگ کرنا لیے تو چلتے ہیں حضرت دل تمہیں بھی ا سے صورت آشنا ہے وہ ہے وہ لیکن ہمارے پہلو ہے وہ ہے وہ بیٹھ کر جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے سخت جاں لگ کرنا نہیں ہے کچھ قتل ان کا آساں یہ ہلاک ہیں برے بلا کے قضا کو پہلے شریک کرنا یہ کام اپنی خوشی لگ کرنا انداز وصل خیرو کرنا کہ پردہ رہ جائے کچھ ہمارا غم جدائی ہے وہ ہے وہ خاک کر کے کہی عدو کی خوشی لگ کرنا مری تو ہے بات زہر ان کو حقیقت ان کے زار ہی کی لگ کیوں ہوں کہ ان سے جو التجا سے کہنا غضب ہے ان کو وہی لگ کرنا ہوا ا گر شوق آئینے سے تو رکھ رہے راستی کی جانب مثال آرز صفائی رکھنا ب رنگ کاکل کجی لگ کرنا حقیقت ہی ہمارا طریق الفت کہ دشمنوں سے بھی مل
Related Ghazal
تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
Dagh Dehlvi
84 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
مجھے ادا سے کر گئے ہوں خوش رہو مری مزاج پر گئے ہوں خوش رہو مری لیے لگ رک سکے تو کیا ہوا ج ہاں کہی ٹھہر گئے ہوں خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج جاناں کو دیکھ کر بے حد نکھر سنور گئے ہوں خوش رہو ادا سے ہوں کسی کی بے وفائی پر وفا کہی تو کر گئے ہوں خوش رہو گلی ہے وہ ہے وہ اور لوگ بھی تھے آشنا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کر گئے ہوں خوش رہو تمہیں تو مری دوستی پہ ناز تھا اسی سے اب مکر گئے ہوں خوش رہو کسی کی زندگی بنو کہ بندگی مری لیے تو مر گئے ہوں خوش رہو
Fazil Jamili
73 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
حقیقت ایک پکشی جو گونجن کر رہا ہے حقیقت مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پریم سرجن کر رہا ہے بے حد دن ہوں گئے ہے جاناں سے بچھڑے تمہیں ملنے کو اب من کر رہا ہے ن گرا کے شانت تٹ پر بیٹھ کر من تیری یادیں وسرجن کر رہا ہے
Azhar Iqbal
61 likes
More from Dagh Dehlvi
रंज की जब गुफ़्तुगू होने लगी आप से तुम तुम से तू होने लगी चाहिए पैग़ाम-बर दोनों तरफ़ लुत्फ़ क्या जब दू-ब-दू होने लगी मेरी रुस्वाई की नौबत आ गई उन की शोहरत कू-ब-कू होने लगी है तिरी तस्वीर कितनी बे-हिजाब हर किसी के रू-ब-रू होने लगी ग़ैर के होते भला ऐ शाम-ए-वस्ल क्यूँँ हमारे रू-ब-रू होने लगी ना-उम्मीदी बढ़ गई है इस क़दर आरज़ू की आरज़ू होने लगी अब के मिल कर देखिए क्या रंग हो फिर हमारी जुस्तुजू होने लगी 'दाग़' इतराए हुए फिरते हैं आज शायद उन की आबरू होने लगी
Dagh Dehlvi
1 likes
ख़ातिर से या लिहाज़ से मैं मान तो गया झूटी क़सम से आप का ईमान तो गया दिल ले के मुफ़्त कहते हैं कुछ काम का नहीं उल्टी शिकायतें हुईं एहसान तो गया डरता हूँ देख कर दिल-ए-बे-आरज़ू को मैं सुनसान घर ये क्यूँँ न हो मेहमान तो गया क्या आए राहत आई जो कुंज-ए-मज़ार में वो वलवला वो शौक़ वो अरमान तो गया देखा है बुत-कदे में जो ऐ शैख़ कुछ न पूछ ईमान की तो ये है कि ईमान तो गया इफ़्शा-ए-राज़-ए-इश्क़ में गो ज़िल्लतें हुईं लेकिन उसे जता तो दिया जान तो गया गो नामा-बर से ख़ुश न हुआ पर हज़ार शुक्र मुझ को वो मेरे नाम से पहचान तो गया बज़्म-ए-अदू में सूरत-ए-परवाना दिल मिरा गो रश्क से जला तिरे क़ुर्बान तो गया होश ओ हवा से ओ ताब ओ तवाँ 'दाग़' जा चुके अब हम भी जाने वाले हैं सामान तो गया
Dagh Dehlvi
1 likes
बाक़ी जहाँ में क़ैस न फ़रहाद रह गया अफ़्साना आशिक़ों का फ़क़त याद रह गया ये सख़्त-जाँ तो क़त्ल से नाशाद रह गया ख़ंजर चला तो बाज़ू-ए-जल्लाद रह गया पाबंदियों ने इश्क़ की बेकस रखा मुझे मैं सौ असीरियों में भी आज़ाद रह गया चश्म-ए-सनम ने यूँँ तो बिगाड़े हज़ार घर इक का'बा चंद रोज़ को आबाद रह गया महशर में जा-ए-शिकवा किया शुक्र यार का जो भूलना था मुझ को वही याद रह गया उन की तो बन पड़ी कि लगी जान मुफ़्त हाथ तेरी गिरह में क्या दिल-ए-नाशाद रह गया पुर-नूर हो रहेगा ये ज़ुल्मत-कदा अगर दिल में बुतों का शौक़-ए-ख़ुदा-दाद रह गया यूँँ आँख उन की कर के इशारा पलट गई गोया कि लब से हो के कुछ इरशाद रह गया नासेह का जी चला था हमारी तरह मगर उल्फ़त की देख देख के उफ़्ताद रह गया हैं तेरे दिल में सब के ठिकाने बुरे भले मैं ख़ानुमाँ-ख़राब ही बर्बाद रह गया वो दिन गए कि थी मिरे सीने में कुछ ख़राश अब दिल कहाँ है दिल का निशाँ याद रह गया सूरत को तेरी देख के खिंचती है जान-ए-ख़ल्क़ दिल अपना थाम थाम के बहज़ाद रह गया ऐ 'दाग़' दिल ही दिल में घुले ज़ब्त-ए-इश्क़ से अफ़्सोस शौक़-ए-नाला-ओ-फ़रियाद रह गया
Dagh Dehlvi
0 likes
ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا لگ دیکھا حقیقت ہے وہ ہے وہ جو دیکھنا تھا لگ دیکھا تجھے دیکھ کر حقیقت مسائل تصوف اٹھ گئی ہے کہ اپنا بھی ثانی لگ دیکھا لگ دیکھا ان آنکھوں کے قربان جاؤں جن ہوں نے ہزاروں حجابوں ہے وہ ہے وہ پروا لگ دیکھا لگ ہمت لگ قسمت لگ دل ہے لگ آنکھیں لگ ڈھونڈا لگ پایا لگ سمجھا لگ دیکھا مریضاں الفت کی کیا بے کسی ہے مسیحا کو بھی چارا فرما لگ دیکھا بے حد درد مندوں کو دیکھا ہے تو نے یہ سینا یہ دل یہ کلیجہ لگ دیکھا حقیقت کب دیکھ سکتا ہے ا سے کی تجلی ج سے انسان نے اپنا ہی جلوہ لگ دیکھا بے حد شور سنتے تھے ا سے صورت آشنا کا ی ہاں آ کے جو کچھ سنا تھا لگ دیکھا صفائی ہے باغ محبت ہے وہ ہے وہ ایسی کہ باد صبا نے بھی تنکہ لگ دیکھا اسے دیکھ کر اور کو پھروں جو دیکھے کوئی دیکھنے والا ایسا لگ دیکھا حقیقت تھا جلوہ آرا م گر تو نے موسی لگ دیکھا لگ دیکھا لگ دیکھا لگ دیکھا گیا تو تو کارواں چھوڑ کر مجھ کو تنہا ذرا مری آنے کا رستہ لگ دیکھا ک ہاں نقش اول ک ہاں نقش ثانی خدا کی خدائی
Dagh Dehlvi
1 likes
غیر کو منا لگا کے دیکھ لیا جھوٹ سچ آزما کے دیکھ لیا ان کے گھر داغ جا کے دیکھ لیا دل کے کہنے ہے وہ ہے وہ آ کے دیکھ لیا کتنی اندھیرا تھی بو وفا ا سے نے دل کو جلا کے دیکھ لیا کبھی نور صفا ہے وہ ہے وہ رہا شب وعدہ کبھی گردن اٹھا کے دیکھ لیا جن سے دل ہے یہ حقیقت نہیں سودا ہر جگہ سے منگا کے دیکھ لیا لوگ کہتے ہیں چپ لگی ہے تجھے حال دل بھی سنا کے دیکھ لیا جاؤ بھی کیا کروگے مہر و وفا بارہا آزما کے دیکھ لیا زخم دل ہے وہ ہے وہ نہیں ہے قطرہ خوں خوب ہم نے دکھا کے دیکھ لیا ادھر آئی لگ ہے ادھر دل ہے ج سے کو چاہا اٹھا کے دیکھ لیا ان کو خلوت سرا ہے وہ ہے وہ بے پردہ صاف میدان پا کے دیکھ لیا ا سے نے صبح شب وصال مجھے جاتے جاتے بھی آ کے دیکھ لیا جاناں کو ہے وصل غیر سے انکار اور جو ہم نے آ کے دیکھ لیا داغ نے خوب کرنے والے کا مزہ جل کے دیکھا جلا کے دیکھ لیا
Dagh Dehlvi
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Dagh Dehlvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Dagh Dehlvi's ghazal.







