ghazalKuch Alfaaz

ग़म से कहीं नजात मिले चैन पाएँ हम दिल ख़ून में नहाए तो गंगा नहाएँ हम जन्नत में जाएँ हम कि जहन्नम में जाएँ हम मिल जाए तो कहीं न कहीं तुझ को पाएँ हम जौफ़-ए-फ़लक में ख़ाक भी लज़्ज़त नहीं रही जी चाहता है तेरी जफ़ाएँ उठाएँ हम डर है न भूल जाए वो सफ़्फ़ाक रोज़-ए-हश्र दुनिया में लिखते जाते हैं अपनी ख़ताएँ हम मुमकिन है ये कि वादे पर अपने वो आ भी जाए मुश्किल ये है कि आप में उस वक़्त आएँ हम नाराज़ हो ख़ुदा तो करें बंदगी से ख़ुश माशूक़ रूठ जाए तो क्यूँँकर मनाएँ हम सर दोस्तों का काट के रखते हैं सामने ग़ैरों से पूछते हैं क़सम किस की खाएँ हम कितना तिरा मिज़ाज ख़ुशामद-पसंद है कब तक करें ख़ुदा के लिए इल्तिजाएँ हम लालच अबस है दिल का तुम्हें वक़्त-ए-वापसीं ये माल वो नहीं कि जिसे छोड़ जाएँ हम सौंपा तुम्हें ख़ुदा को चले हम तो ना-मुराद कुछ पढ़ के बख़्शना जो कभी याद आएँ हम सोज़-ए-दरूँ से अपने शरर बन गए हैं अश्क क्यूँँ आह-ए-सर्द को न पतिंगे लगाएँ हम ये जान तुम न लोगे अगर आप जाएगी उस बे-वफ़ा की ख़ैर कहाँ तक मनाएँ हम हम-साए जागते रहे नालों से रात भर सोए हुए नसीब को क्यूँँकर जगाएँ हम जल्वा दिखा रहा है वो आईना-ए-जमाल आती है हम को शर्म कि क्या मुँह दिखाएँ हम मानो कहा जफ़ा न करो तुम वफ़ा के बा'द ऐसा न हो कि फेर लें उल्टी दुआएँ हम दुश्मन से मिलते जुलते हैं ख़ातिर से दोस्ती क्या फ़ाएदा जो दोस्त को दुश्मन बनाएँ हम तू भूलने की चीज़ नहीं ख़ूब याद रख ऐ 'दाग़' किस तरह तुझे दिल से भुलाएँ हम

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

More from Dagh Dehlvi

ख़ातिर से या लिहाज़ से मैं मान तो गया झूटी क़सम से आप का ईमान तो गया दिल ले के मुफ़्त कहते हैं कुछ काम का नहीं उल्टी शिकायतें हुईं एहसान तो गया डरता हूँ देख कर दिल-ए-बे-आरज़ू को मैं सुनसान घर ये क्यूँँ न हो मेहमान तो गया क्या आए राहत आई जो कुंज-ए-मज़ार में वो वलवला वो शौक़ वो अरमान तो गया देखा है बुत-कदे में जो ऐ शैख़ कुछ न पूछ ईमान की तो ये है कि ईमान तो गया इफ़्शा-ए-राज़-ए-इश्क़ में गो ज़िल्लतें हुईं लेकिन उसे जता तो दिया जान तो गया गो नामा-बर से ख़ुश न हुआ पर हज़ार शुक्र मुझ को वो मेरे नाम से पहचान तो गया बज़्म-ए-अदू में सूरत-ए-परवाना दिल मिरा गो रश्क से जला तिरे क़ुर्बान तो गया होश ओ हवा से ओ ताब ओ तवाँ 'दाग़' जा चुके अब हम भी जाने वाले हैं सामान तो गया

Dagh Dehlvi

1 likes

کون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیا دیکھتا بھالتا ہر شاخ کو صیاد آیا میرے قابو میں نہ پہروں منتظر آیا وہ میرا بھولنے والا جو مجھے یاد آیا کوئی بھولا ہوا انداز ستم یاد آیا کہ تبسم تجھے ظالم دم بیداد آیا لائے ہیں لوگ جنازے کی طرح محشر میں کس مصیبت سے ترا کشہ بیداد آیا جذب وحشت تری قربان ترا کیا کہنا کھنچ کے رگ رگ میں مری نشتر فساد آیا اس کے رکے کو غرض کون و مکاں سے کیا تھا داد لینے کے لیے حسن خدا داد آیا بستیوں سے یہی آواز چلی آتی ہے جو کیا تو نے وہ آگے تری فرہاد آیا دل ویراں سے رقیبوں نے مرادیں پائیں کام کس کس کے میرا خرمن برباد آیا عشق کے آتے ہی منہ پر مری پھولی ہے بسنّت ہو گیا زرد یہ شاگرد جب استاد آیا ہو گیا فرض مجھے شوق کا دفتر لکھنا جب مری ہاتھ کوئی خامہ فولاد آیا عید ہے قتل میرا اہل تماشا کے لیے سب گلے ملنے لگے جب کہ وہ جلاد آیا چین کرتے ہیں وہاں رنج اٹھانے والے کام عقبہ میں ہمارا منتظر آیا دی شب وصل موذن نے اذان پچھلی رات ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا میرے

Dagh Dehlvi

0 likes

ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا لگ دیکھا حقیقت ہے وہ ہے وہ جو دیکھنا تھا لگ دیکھا تجھے دیکھ کر حقیقت مسائل تصوف اٹھ گئی ہے کہ اپنا بھی ثانی لگ دیکھا لگ دیکھا ان آنکھوں کے قربان جاؤں جن ہوں نے ہزاروں حجابوں ہے وہ ہے وہ پروا لگ دیکھا لگ ہمت لگ قسمت لگ دل ہے لگ آنکھیں لگ ڈھونڈان پایا لگ سمجھا لگ دیکھا بے حد درد مندوں کو دیکھا ہے تو نے یہ سینا یہ دل یہ کلیجہ لگ دیکھا حقیقت کب دیکھ سکتا ہے ا سے کی تجلی ج سے انسان نے اپنا ہی جلوہ لگ دیکھا بے حد شور سنتے تھے ا سے صورت آشنا کا ی ہاں آ کے جو کچھ سنا تھا لگ دیکھا اسے دیکھ کر اور کو پھروں جو دیکھے کوئی دیکھنے والا ایسا لگ دیکھا گیا تو تو کارواں چھوڑ کر مجھ کو تنہا ذرا مری آنے کا رستہ لگ دیکھا تری یاد ہے یا ہے تیرا تصور کبھی داغ کو ہم نے تنہا لگ دیکھا

Dagh Dehlvi

0 likes

راہ پر ان کو لگا لائے تو ہیں باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھی جاناں جانتے ہوں چند ملاقاتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آزمایا ہے تمہیں ہم نے کئی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ غیر کے سر کی بلائیں جو نہیں لیں ظالم کیا مری قتل کو بھی جان نہیں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابر رحمت ہی برستا نظر آیا زاہد خاک اڑتی کبھی دیکھی لگ خراباتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یارب ا سے چاند کے ٹکڑے کو ک ہاں سے لاؤں روشنی ج سے کی ہوں ان تاروں بھری راتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں انصاف سے اے حضرت ناصح کہ دو لطف ان باتوں ہے وہ ہے وہ آتا ہے کہ ان باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوڑ کر دست دعا ساتھ دعا کے جاتے ہاں یہ پیدا لگ ہوئے پاؤں مری ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جلوہ یار سے جب بزم ہے وہ ہے وہ نور صفا آیا ہے تو رقیبوں نے سنبھالا ہے مجھے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایسی تقریر سنی تھی لگ کبھی شوخ و شریر تیری آنکھوں کے بھی فتنے ہیں تری باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم سے انکار ہوا غیر سے اقرار ہوا فیصلہ خوب کیا آپ نے دو

Dagh Dehlvi

1 likes

دل کو کیا ہوں گیا تو خدا جانے کیوں ہے ایسا ادا سے کیا جانے اپنے غم ہے وہ ہے وہ بھی ا سے کو صرفہ ہے لگ کھلا جانے حقیقت لگ کھا جانے ا سے عارفا لگ کا کیا ہری ہے جان کر جو لگ مدعا جانے کہ دیا ہے وہ ہے وہ نے راز دل اپنا ا سے کو جاناں جانو یا خدا جانے کیا غرض کیوں ادھر برق ہوں حال دل آپ کی بلا جانے جانتے جانتے ہی جانےگا مجھ ہے وہ ہے وہ کیا ہے ابھی حقیقت کیا جانے کیا ہم ا سے بد گماں سے بات کریں جو ستائش کو بھی گلہ جانے جاناں لگ پاؤگے سادہ دل مجھ سا جو ت غافل کو بھی حیا جانے ہے عبث جرم عشق پر الزام جب اعتباری وار بھی غلطیاں جانے نہیں کوٹاہ دامن امید آگے اب دست نا رسا جانے جو ہوں اچھا ہزار اچھوں کا واعظ ا سے بت کو تو برا جانے کی مری دودمان مثل شاہ دکن کسی نواب نے لگ راجا نے ا سے سے اٹھےگی کیا مصیبت عشقابتدا کو جو انتہا جانے داغ سے کہ دو اب لگ گھبراؤ کام اپنا بتا ہوا جانے

Dagh Dehlvi

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Dagh Dehlvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Dagh Dehlvi's ghazal.