ghazalKuch Alfaaz

شام تک صبح کی دی سے اتر جاتے ہیں اتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں پھروں وہی تلخی حالات مقدر ٹھہری نہشے کیسے بھی ہوں کچھ دن ہے وہ ہے وہ اتر جاتے ہیں اک جدائی کا حقیقت لمحہ کہ جو مرتا ہی نہیں لوگ کہتے تھے کہ سب سمے گزر جاتے ہیں گھر کی گرتی ہوئی دیواریں ہی مجھ سے اچھی راستہ چلتے ہوئے لوگ ٹھہر جاتے ہیں ہم تو بے نام ارادوں کے مسافر ہیں مسئلہ کچھ پتا ہوں تو بتائیں کہ کدھر جاتے ہیں

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

More from Waseem Barelvi

حقیقت مجھ کو کیا بتانا چاہتا ہے جو دنیا سے چھپانا چاہتا ہے مجھے دیکھو کہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو ہی چا ہوں جسے سارا زما لگ چاہتا ہے کرنا ک ہاں ہے ا سے کا منشا حقیقت میرا سر جھکانا چاہتا ہے شکایت کا دھواں آنکھوں سے دل تک تعلق ٹوٹ جانا چاہتا ہے تقاضا سمے کا کچھ بھی ہوں یہ دل وہی قصہ پرانا چاہتا ہے

Waseem Barelvi

6 likes

اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہے کسی کا دھیان آتا ہے اجالا ہونے لگتا ہے حقیقت جتنی دور ہوں اتنا ہی میرا ہونے لگتا ہے م گر جب پا سے آتا ہے تو مجھ سے کھونے لگتا ہے کسی نے رکھ دیے ممتا بھرے دو ہاتھ کیا سر پر مری اندر کوئی بچہ بلک کر رونے لگتا ہے محبت چار دن کی اور اداسی زندگی بھر کی یہی سب دیکھتا ہے اور کبیر رونے لگتا ہے سمجھتے ہی نہیں نادان کے دن کی ہے ملکیت پرائے کھیتوں پہ اپنوں ہے وہ ہے وہ جھگڑا ہونے لگتا ہے یہ دل بچ کر زمانے بھر سے چلنا چاہے ہے لیکن جب اپنی راہ چلتا ہے اکیلا ہونے لگتا ہے

Waseem Barelvi

10 likes

رنگ بے رنگ ہوں خوشبو کا بھروسا جائے میری آنکھوں سے جو دنیا تجھے دیکھا جائے ہم نے جس راہ کو چھوڑا پھروں اسے چھوڑ دیا اب نہ جائیں گے ادھر چاہے زمانہ جائے میں نے مدت سے کوئی خواب نہیں دیکھا ہے ہاتھ رکھ دے مری آنکھوں پہ کہ نیند آ جائے میں گناہوں کا طرف دار نہیں ہوں پھروں بھی رات کو دن کی نگاہوں سے نہ دیکھا جائے کچھ بڑی سوچوں میں یہ سوچیں بھی شامل ہیں چھپائیں کس بہانے سے کوئی شہر جلایا جائے

Waseem Barelvi

1 likes

ک ہاں ثواب ک ہاں کیا عذاب ہوتا ہے محبتوں ہے وہ ہے وہ کب اتنا حساب ہوتا ہے بچھڑ کے مجھ سے جاناں اپنی کشش لگ کھو دینا ادا سے رہنے سے چہرہ خراب ہوتا ہے اسے پتا ہی نہیں ہے کہ پیار کی بازی جو ہار جائے وہی کامیاب ہوتا ہے جب ا سے کے پا سے گنوانے کو کچھ نہیں ہوتا تو کوئی آج کا عزت مآب ہوتا ہے جسے ہے وہ ہے وہ لکھتا ہوں ایسے کہ خود ہی پڑھ پاؤں کتاب زیست ہے وہ ہے وہ ایسا بھی باب ہوتا ہے بے حد بھروسا لگ کر لینا اپنی آنکھوں پر دکھائی دیتا ہے جو کچھ حقیقت خواب ہوتا ہے

Waseem Barelvi

2 likes

ہم اپنے آپ کو اک مسئلہ بنا لگ سکے اسی لیے تو کسی کی نظر ہے وہ ہے وہ آ لگ سکے ہم آنسوؤں کی طرح واسطے نبھا لگ سکے رہے جن آنکھوں ہے وہ ہے وہ ان ہے وہ ہے وہ ہی گھر بنا لگ سکے پھروں آندھیوں نے سکھایا و ہاں سفر کا ہنر ج ہاں چراغ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ راستہ دکھا لگ سکے جو پیش پیش تھے بستی بچانے والوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگی جب آگ تو اپنا بھی گھر بچا لگ سکے مری خدا کسی ایسی جگہ اسے رکھنا ج ہاں کوئی مری بارے ہے وہ ہے وہ کچھ بتا لگ سکے تمام عمر کی کوشش کا ب سے یہی حاصل کسی کو اپنے مطابق کوئی بنا لگ سکے تسلیوں پہ بے حد دن زیا نہیں جاتا کچھ ایسا ہوں کے ترا اعتبار آ لگ سکے

Waseem Barelvi

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Waseem Barelvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Waseem Barelvi's ghazal.