ghazalKuch Alfaaz

شہر کے دکاندارو کاروبار الفت ہے وہ ہے وہ سود کیا زیاں کیا ہے جاناں لگ جان پاؤگے دل کے دام کتنے ہیں خواب کتنے مہنگے ہیں اور نقد جاں کیا ہے جاناں لگ جان پاؤگے کوئی کیسے ملتا ہے پھول کیسے کھلتا ہے آنکھ کیسے جھکتی ہے سان سے کیسے رکتی ہے کیسے رہ نکلتی ہے کیسے بات چلتی ہے شوق کی زبان کیا ہے جاناں لگ جان پاؤگے وصل کا سکون کیا ہے ہجر کا جنوں کیا ہے حسن کا فسوں کیا ہے عشق کا درون کیا ہے جاناں مریض دانائی مصلحت کے شیدائی راہ گم ر ہاں کیا ہے جاناں لگ جان پاؤگے زخم کیسے فلتے ہیں داغ کیسے جلتے ہیں درد کیسے ہوتا ہے کوئی کیسے روتا ہے خوشی کیا ہے نالے کیا دشت کیا ہے چھالے کیا آہ کیا فغاں کیا ہے جاناں لگ جان پاؤگے نامراد دل کیسے صبح و شام کرتے ہیں کیسے زندہ رہتے ہیں اور کیسے مرتے ہیں جاناں کو کب نظر آئی غم زدوں کی تنہائی آب و زیست بے اماں کیا ہے جاناں لگ جان پاؤگے جانتا ہوں ہے وہ ہے وہ جاناں کو ذوق شاعری بھی ہے شخصیت سجانے ہے وہ ہے وہ اک یہ ماہری بھی ہے پھروں بھی حرف چنتے ہوں صرف لفظ سنتے ہوں ان کے درمیان کیا ہے جاناں لگ جان پاؤگے

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

More from Javed Akhtar

کھلا ہے در بچیں ترا انتظار جاتا رہا خلوص تو ہے مگر اعتبار جاتا رہا کسی کی آنکھ ہے وہ ہے وہ مستی تو آج بھی ہے وہی مگر کبھی جو ہمیں تھا خمار جاتا رہا کبھی جو سینے ہے وہ ہے وہ اک آگ تھی حقیقت سرد ہوئی کبھی نگاہ ہے وہ ہے وہ جو تھا جاں گسل جاتا رہا عجب سا چین تھا ہم کو کہ جب تھے ہم بےچین قرار آیا تو چنو قرار جاتا رہا کبھی تو میری بھی سنوائی ہوں گی محفل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ امید لیے بار بار جاتا رہا

Javed Akhtar

2 likes

حقیقت ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے زمین سورج کی انگلیوں سے فسل رہی ہے جو مجھ کو زندہ جلا رہے ہیں حقیقت بے خبر ہیں کہ مری زنجیر دھیرے دھیرے پگھل رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ قتل تو ہوں گیا تو تمہاری گلی ہے وہ ہے وہ لیکن مری لہو سے تمہاری دیوار گل رہی ہے لگ جلنے پاتے تھے ج سے کے چولہے بھی ہر سویرے سنا ہے کل رات سے حقیقت بستی بھی جل رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں کہ خموشی ہے وہ ہے وہ ہی مصلحت ہے م گر یہی مصلحت مری دل کو خل رہی ہے کبھی تو انسان زندگی کی کرےگا عزت یہ ایک امید آج بھی دل ہے وہ ہے وہ پل رہی ہے

Javed Akhtar

2 likes

ساری حیرت ہے مری ساری ادا ا سے کی ہے بے گناہی ہے مری اور سزا ا سے کی ہے مری الفاظ ہے وہ ہے وہ جو رنگ ہے حقیقت ا سے کا ہے مری احسا سے ہے وہ ہے وہ جو ہے حقیقت فضا ا سے کی ہے شعر مری ہیں م گر ان ہے وہ ہے وہ محبت ا سے کی پھول مری ہیں م گر باد صبا ا سے کی ہے اک محبت کی یہ تصویر ہے دو رنگوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شوق سب میرا ہے اور ساری حیا ا سے کی ہے ہم نے کیا ا سے سے محبت کی اجازت لی تھی دل شکن ہی صحیح پر بات بجا ا سے کی ہے ایک مری ہی سوا سب کو پکارے ہے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے پہلے ہی کہا تھا یہ صدا ا سے کی ہے خون سے سینچی ہے ہے وہ ہے وہ نے جو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ مر مر کے حقیقت ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ستم گر نے کہا ا سے کی ہے ا سے نے ہی ا سے کو اجاڑا ہے اسے لوٹا ہے یہ ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی ا گر ہے بھی تو کیا ا سے کی ہے

Javed Akhtar

1 likes

نگل گئے سب کی سب سمندر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ بچی اب کہی نہیں ہے بچاتے ہم اپنی جان ج سے ہے وہ ہے وہ حقیقت کشتی بھی اب کہی نہیں ہے بے حد دنوں بعد پائی فرصت تو ہے وہ ہے وہ نے خود کو پلٹ کے دیکھا م گر ہے وہ ہے وہ پہچانتا تھا ج سے کو حقیقت آدمی اب کہی نہیں ہے گزر گیا تو سمے دل پہ لکھ کر لگ جانے کیسی عجیب باتیں ورق پلٹتا ہوں ہے وہ ہے وہ جو دل کے تو سادگی اب کہی نہیں ہے حقیقت آگ برسی ہے دوپہر ہے وہ ہے وہ کہ سارے منظر جھل سے گئے ہیں ی ہاں سویرے جو تازگی تھی حقیقت تازگی اب کہی نہیں ہے جاناں اپنے قصبوں ہے وہ ہے وہ جا کے دیکھو و ہاں بھی اب شہر ہی بسے ہیں کہ ہوں جو زندگی جاناں حقیقت زندگی اب کہی نہیں ہے

Javed Akhtar

2 likes

ہمارے دل ہے وہ ہے وہ اب تلخی نہیں ہے م گر حقیقت بات پہلے سی نہیں ہے مجھے مایو سے بھی کرتی نہیں ہے یہی عادت تری اچھی نہیں ہے بے حد سے فائدے ہیں مصلحت ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر دل کی تو یہ مرضی نہیں ہے ہر اک کی داستان سنتے ہیں چنو کبھی ہم نے محبت کی نہیں ہے ہے اک دروازے بن دیوار دنیا مفر غم سے ی ہاں کوئی نہیں ہے

Javed Akhtar

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Javed Akhtar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Javed Akhtar's ghazal.