ہمارے دل ہے وہ ہے وہ اب تلخی نہیں ہے م گر حقیقت بات پہلے سی نہیں ہے مجھے مایو سے بھی کرتی نہیں ہے یہی عادت تری اچھی نہیں ہے بے حد سے فائدے ہیں مصلحت ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر دل کی تو یہ مرضی نہیں ہے ہر اک کی داستان سنتے ہیں چنو کبھی ہم نے محبت کی نہیں ہے ہے اک دروازے بن دیوار دنیا مفر غم سے ی ہاں کوئی نہیں ہے
Related Ghazal
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
More from Javed Akhtar
اک پل غموں کا دریا اک پل خوشی کا دریا رکتا نہیں کبھی بھی یہ زندگی کا دریا آنکھیں تھیں حقیقت کسی کی یا خواب کی زنجیریں آواز تھی کسی کی یا راگنی کا دریا ا سے دل کی وادیوں ہے وہ ہے وہ اب خاک اڑ رہی ہے بہتا یہیں تھا پہلے اک کرنے والے کا دریا کرنوں ہے وہ ہے وہ ہیں یہ لہریں یا لہروں ہے وہ ہے وہ ہیں کرنیں دریا کی چاندنی ہے یا چاندنی کا دریا
Javed Akhtar
3 likes
حقیقت ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے زمین سورج کی انگلیوں سے فسل رہی ہے جو مجھ کو زندہ جلا رہے ہیں حقیقت بے خبر ہیں کہ مری زنجیر دھیرے دھیرے پگھل رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ قتل تو ہوں گیا تو تمہاری گلی ہے وہ ہے وہ لیکن مری لہو سے تمہاری دیوار گل رہی ہے لگ جلنے پاتے تھے ج سے کے چولہے بھی ہر سویرے سنا ہے کل رات سے حقیقت بستی بھی جل رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں کہ خموشی ہے وہ ہے وہ ہی مصلحت ہے م گر یہی مصلحت مری دل کو خل رہی ہے کبھی تو انسان زندگی کی کرےگا عزت یہ ایک امید آج بھی دل ہے وہ ہے وہ پل رہی ہے
Javed Akhtar
2 likes
خواب کے گاؤں ہے وہ ہے وہ پلے ہیں ہم پانی چھلنی ہے وہ ہے وہ لے چلے ہیں ہم چھاچھ پھونکیں کہ اپنے بچپن ہے وہ ہے وہ ہے وہ دودھ سے ک سے طرح جلے ہیں ہم خود ہیں اپنے سفر کی دشواری اپنے پیروں کے آبلے ہیں ہم تو تو مت کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ برا دنیا تو نے ڈھالا ہے اور ڈھلے ہیں ہم کیوں ہیں کب تک ہیں ک سے کی خاطر ہیں بڑے سنجیدہ مسائل ہیں ہم
Javed Akhtar
5 likes
یہی حالات ابتدا سے رہے لوگ ہم سے خفا خفا سے رہے ان چراغوں ہے وہ ہے وہ تیل ہی کم تھا کیوں گلہ ہم کو پھروں ہوا سے رہے بحث شطرنج شعر موسیقی جاناں نہیں تھے تو یہ دلاسے رہے زندگی کی شراب مانگتے ہوں ہم کو دیکھو کہ پی کے پیاسے رہے ا سے کے بندوں کو دیکھ کر کہیے ہم کو امید کیا خدا سے رہے
Javed Akhtar
3 likes
پھرتے ہیں کب سے در بدر اب ا سے ن گر اب ا سے ن گر اک دوسرے کے ہم سفر ہے وہ ہے وہ اور مری آوارگی نا آشنا ہر رہ گزر نامہرباں ہر اک نظر جائیں تو اب جائیں کدھر ہے وہ ہے وہ اور مری آوارگی ہم بھی کبھی آباد تھے ایسے ک ہاں برباد تھے بے فکر تھے آزاد تھے مسرو تھے دل شاد تھے حقیقت چال ایسی چل گیا تو ہم بجھ گئے دل جل گیا تو نکلے جلا کے اپنا گھر ہے وہ ہے وہ اور مری آوارگی جینا بے حد آسان تھا اک بے وجہ کا احسان تھا ہم کو بھی اک ارمان تھا جو خواب کا سامان تھا اب خواب ہے نے آرزو ارمان ہے نے جستجو یوں بھی چلو خوش ہیں م گر ہے وہ ہے وہ اور مری آوارگی حقیقت ماہ وش حقیقت ماہ رو حقیقت ماہ کام ہوں بہو تھیں ج سے کی باتیں کو بہ کو ا سے سے غضب تھی گفتگو پھروں یوں ہوا حقیقت کھو گئی تو مجھ کو ضد سی ہوں گئی لائیں گے ا سے کو ڈھونڈ کر ہے وہ ہے وہ اور مری آوارگی یہ دل ہی تھا جو سہ گیا تو حقیقت بات ایسی کہ گیا تو کہنے کو پھروں کیا رہ گیا تو اشکوں کا دریا بہ گیا تو جب کہ کے حقیقت دلبر گیا تو تری لیے ہے وہ ہے وہ مر گیا تو روتے ہیں ا سے کو رات بھر ہے وہ ہے وہ اور مری آوارگی <b
Javed Akhtar
6 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Javed Akhtar.
Similar Moods
More moods that pair well with Javed Akhtar's ghazal.







