ghazalKuch Alfaaz

پھرتے ہیں کب سے در بدر اب ا سے ن گر اب ا سے ن گر اک دوسرے کے ہم سفر ہے وہ ہے وہ اور مری آوارگی نا آشنا ہر رہ گزر نامہرباں ہر اک نظر جائیں تو اب جائیں کدھر ہے وہ ہے وہ اور مری آوارگی ہم بھی کبھی آباد تھے ایسے ک ہاں برباد تھے بے فکر تھے آزاد تھے مسرو تھے دل شاد تھے حقیقت چال ایسی چل گیا تو ہم بجھ گئے دل جل گیا تو نکلے جلا کے اپنا گھر ہے وہ ہے وہ اور مری آوارگی جینا بے حد آسان تھا اک بے وجہ کا احسان تھا ہم کو بھی اک ارمان تھا جو خواب کا سامان تھا اب خواب ہے نے آرزو ارمان ہے نے جستجو یوں بھی چلو خوش ہیں م گر ہے وہ ہے وہ اور مری آوارگی حقیقت ماہ وش حقیقت ماہ رو حقیقت ماہ کام ہوں بہو تھیں ج سے کی باتیں کو بہ کو ا سے سے غضب تھی گفتگو پھروں یوں ہوا حقیقت کھو گئی تو مجھ کو ضد سی ہوں گئی لائیں گے ا سے کو ڈھونڈ کر ہے وہ ہے وہ اور مری آوارگی یہ دل ہی تھا جو سہ گیا تو حقیقت بات ایسی کہ گیا تو کہنے کو پھروں کیا رہ گیا تو اشکوں کا دریا بہ گیا تو جب کہ کے حقیقت دلبر گیا تو تری لیے ہے وہ ہے وہ مر گیا تو روتے ہیں ا سے کو رات بھر ہے وہ ہے وہ اور مری آوارگی <b

Related Ghazal

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے

Tehzeeb Hafi

262 likes

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے

Jaun Elia

113 likes

More from Javed Akhtar

کھلا ہے در بچیں ترا انتظار جاتا رہا خلوص تو ہے مگر اعتبار جاتا رہا کسی کی آنکھ ہے وہ ہے وہ مستی تو آج بھی ہے وہی مگر کبھی جو ہمیں تھا خمار جاتا رہا کبھی جو سینے ہے وہ ہے وہ اک آگ تھی حقیقت سرد ہوئی کبھی نگاہ ہے وہ ہے وہ جو تھا جاں گسل جاتا رہا عجب سا چین تھا ہم کو کہ جب تھے ہم بےچین قرار آیا تو چنو قرار جاتا رہا کبھی تو میری بھی سنوائی ہوں گی محفل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ امید لیے بار بار جاتا رہا

Javed Akhtar

2 likes

حقیقت ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے زمین سورج کی انگلیوں سے فسل رہی ہے جو مجھ کو زندہ جلا رہے ہیں حقیقت بے خبر ہیں کہ مری زنجیر دھیرے دھیرے پگھل رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ قتل تو ہوں گیا تو تمہاری گلی ہے وہ ہے وہ لیکن مری لہو سے تمہاری دیوار گل رہی ہے لگ جلنے پاتے تھے ج سے کے چولہے بھی ہر سویرے سنا ہے کل رات سے حقیقت بستی بھی جل رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں کہ خموشی ہے وہ ہے وہ ہی مصلحت ہے م گر یہی مصلحت مری دل کو خل رہی ہے کبھی تو انسان زندگی کی کرےگا عزت یہ ایک امید آج بھی دل ہے وہ ہے وہ پل رہی ہے

Javed Akhtar

2 likes

دکھ کے جنگل ہے وہ ہے وہ پھرتے ہیں کب سے مارے مارے لوگ جو ہوتا ہے سہ لیتے ہیں کیسے ہیں بیچارے لوگ جیون جیون ہم نے جگ ہے وہ ہے وہ کھیل یہی ہوتے دیکھا دھیرے دھیرے جیتی دنیا دھیرے دھیرے ہارے لوگ سمے سنگھاسن پر بیٹھا ہے اپنے راگ سناتا ہے سنگت دینے کو پاتے ہیں سانسوں کے اکتارے لوگ نیکی اک دن کام آتی ہے ہم کو کیا سلجھ ہوں ہم نے بے ب سے مرتے دیکھے کیسے پیاری پیاری لوگ ا سے نگری ہے وہ ہے وہ کیوں ملتی ہے روٹی سپنوں کے بدلے جن کی نگری ہے حقیقت جانیں ہم ٹھہرے بنجارے لوگ

Javed Akhtar

2 likes

ہمارے دل ہے وہ ہے وہ اب تلخی نہیں ہے م گر حقیقت بات پہلے سی نہیں ہے مجھے مایو سے بھی کرتی نہیں ہے یہی عادت تری اچھی نہیں ہے بے حد سے فائدے ہیں مصلحت ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر دل کی تو یہ مرضی نہیں ہے ہر اک کی داستان سنتے ہیں چنو کبھی ہم نے محبت کی نہیں ہے ہے اک دروازے بن دیوار دنیا مفر غم سے ی ہاں کوئی نہیں ہے

Javed Akhtar

3 likes

جاتے جاتے حقیقت مجھے اچھی نشانی دے گیا تو عمر بھر دہراوں گا ایسی کہانی دے گیا تو ا سے سے ہے وہ ہے وہ کچھ پا سکون ایسی ک ہاں امید تھی غم بھی حقیقت شاید برائے مہربانی دے گیا تو سب ہوائیں لے گیا تو مری سمندر کی کوئی اور مجھ کو ایک کشتی بادبانی دے گیا تو خیر ہے وہ ہے وہ پیاسا رہا پر ا سے نے اتنا تو کیا مری پلکوں کی قطاروں کو حقیقت پانی دے گیا تو

Javed Akhtar

17 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Javed Akhtar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Javed Akhtar's ghazal.