ghazalKuch Alfaaz

جاتے جاتے حقیقت مجھے اچھی نشانی دے گیا تو عمر بھر دہراوں گا ایسی کہانی دے گیا تو ا سے سے ہے وہ ہے وہ کچھ پا سکون ایسی ک ہاں امید تھی غم بھی حقیقت شاید برائے مہربانی دے گیا تو سب ہوائیں لے گیا تو مری سمندر کی کوئی اور مجھ کو ایک کشتی بادبانی دے گیا تو خیر ہے وہ ہے وہ پیاسا رہا پر ا سے نے اتنا تو کیا مری پلکوں کی قطاروں کو حقیقت پانی دے گیا تو

Javed Akhtar17 Likes

Related Ghazal

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے

Jaun Elia

113 likes

याद तब करते हो करने को न हो जब कुछ भी और कहते हो तुम्हें इश्क़ है मतलब कुछ भी अब जो आ आ के बताते हो वो शख़्स ऐसा था जब मेरे साथ था वो क्यूँँ न कहा तब कुछ भी वक्फ़े-वक्फ़े से मुझे देखने आते रहना हिज्र की शब है सो हो सकता है इस शब कुछ भी

Umair Najmi

68 likes

More from Javed Akhtar

حقیقت ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے زمین سورج کی انگلیوں سے فسل رہی ہے جو مجھ کو زندہ جلا رہے ہیں حقیقت بے خبر ہیں کہ مری زنجیر دھیرے دھیرے پگھل رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ قتل تو ہوں گیا تو تمہاری گلی ہے وہ ہے وہ لیکن مری لہو سے تمہاری دیوار گل رہی ہے لگ جلنے پاتے تھے ج سے کے چولہے بھی ہر سویرے سنا ہے کل رات سے حقیقت بستی بھی جل رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں کہ خموشی ہے وہ ہے وہ ہی مصلحت ہے م گر یہی مصلحت مری دل کو خل رہی ہے کبھی تو انسان زندگی کی کرےگا عزت یہ ایک امید آج بھی دل ہے وہ ہے وہ پل رہی ہے

Javed Akhtar

2 likes

ग़म होते हैं जहाँ ज़ेहानत होती है दुनिया में हर शय की क़ीमत होती है अक्सर वो कहते हैं वो बस मेरे हैं अक्सर क्यूँँ कहते हैं हैरत होती है तब हम दोनों वक़्त चुरा कर लाते थे अब मिलते हैं जब भी फ़ुर्सत होती है अपनी महबूबा में अपनी माँ देखें बिन माँ के लड़कों की फ़ितरत होती है इक कश्ती में एक क़दम ही रखते हैं कुछ लोगों की ऐसी आदत होती है

Javed Akhtar

0 likes

سچ یہ ہے بے کار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ غم ہوتا ہے جو چاہا تھا دنیا ہے وہ ہے وہ کم ہوتا ہے ڈھلتا سورج پھیلا جنگل رستہ گم ہم سے پوچھو کیسا عالم ہوتا ہے غیروں کو کب فرصت ہے دکھ دینے کی جب ہوتا ہے کوئی ہمدم ہوتا ہے زخم تو ہم نے ان آنکھوں سے دیکھے ہیں لوگوں سے سنتے ہیں مرہم ہوتا ہے ذہن کی شاخوں پر اشعار آ جاتے ہیں جب تیری یادوں کا موسم ہوتا ہے

Javed Akhtar

2 likes

جسم دمکتا زلف گھنیری درماندہ لب آنکھیں جادو سنگ مرمر اودا بادل سرخ شفق حیران آہو بھکشو دانی پیاسا پانی دریا ساگر جل گاگر گلشن خوشبو کوئل کوکو مستی دارو ہے وہ ہے وہ اور تو بامبی سیپی چھایا آنگن گھنگرو چھن چھن چبایا من آنکھیں کاجل پربت بادل حقیقت زلفیں اور یہ بازو راتیں مہکی سانسیں دہکی نظریں بہکی رت لہکی سوپن سلونا پریم کھلونا پھول بچھونا حقیقت پہلو جاناں سے دوری یہ مجبوری زخم کاری بیداری تنہا راتیں سپنے قاتیں خود سے باتیں میری پربھاکر

Javed Akhtar

0 likes

ہمارے دل ہے وہ ہے وہ اب تلخی نہیں ہے م گر حقیقت بات پہلے سی نہیں ہے مجھے مایو سے بھی کرتی نہیں ہے یہی عادت تری اچھی نہیں ہے بے حد سے فائدے ہیں مصلحت ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر دل کی تو یہ مرضی نہیں ہے ہر اک کی داستان سنتے ہیں چنو کبھی ہم نے محبت کی نہیں ہے ہے اک دروازے بن دیوار دنیا مفر غم سے ی ہاں کوئی نہیں ہے

Javed Akhtar

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Javed Akhtar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Javed Akhtar's ghazal.