ghazalKuch Alfaaz

دکھ کے جنگل ہے وہ ہے وہ پھرتے ہیں کب سے مارے مارے لوگ جو ہوتا ہے سہ لیتے ہیں کیسے ہیں بیچارے لوگ جیون جیون ہم نے جگ ہے وہ ہے وہ کھیل یہی ہوتے دیکھا دھیرے دھیرے جیتی دنیا دھیرے دھیرے ہارے لوگ سمے سنگھاسن پر بیٹھا ہے اپنے راگ سناتا ہے سنگت دینے کو پاتے ہیں سانسوں کے اکتارے لوگ نیکی اک دن کام آتی ہے ہم کو کیا سلجھ ہوں ہم نے بے ب سے مرتے دیکھے کیسے پیاری پیاری لوگ ا سے نگری ہے وہ ہے وہ کیوں ملتی ہے روٹی سپنوں کے بدلے جن کی نگری ہے حقیقت جانیں ہم ٹھہرے بنجارے لوگ

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

More from Javed Akhtar

ہمارے دل ہے وہ ہے وہ اب تلخی نہیں ہے م گر حقیقت بات پہلے سی نہیں ہے مجھے مایو سے بھی کرتی نہیں ہے یہی عادت تری اچھی نہیں ہے بے حد سے فائدے ہیں مصلحت ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر دل کی تو یہ مرضی نہیں ہے ہر اک کی داستان سنتے ہیں چنو کبھی ہم نے محبت کی نہیں ہے ہے اک دروازے بن دیوار دنیا مفر غم سے ی ہاں کوئی نہیں ہے

Javed Akhtar

3 likes

حقیقت ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے زمین سورج کی انگلیوں سے فسل رہی ہے جو مجھ کو زندہ جلا رہے ہیں حقیقت بے خبر ہیں کہ مری زنجیر دھیرے دھیرے پگھل رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ قتل تو ہوں گیا تو تمہاری گلی ہے وہ ہے وہ لیکن مری لہو سے تمہاری دیوار گل رہی ہے لگ جلنے پاتے تھے ج سے کے چولہے بھی ہر سویرے سنا ہے کل رات سے حقیقت بستی بھی جل رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں کہ خموشی ہے وہ ہے وہ ہی مصلحت ہے م گر یہی مصلحت مری دل کو خل رہی ہے کبھی تو انسان زندگی کی کرےگا عزت یہ ایک امید آج بھی دل ہے وہ ہے وہ پل رہی ہے

Javed Akhtar

2 likes

جسم دمکتا زلف گھنیری درماندہ لب آنکھیں جادو سنگ مرمر اودا بادل سرخ شفق حیران آہو بھکشو دانی پیاسا پانی دریا ساگر جل گاگر گلشن خوشبو کوئل کوکو مستی دارو ہے وہ ہے وہ اور تو بامبی سیپی چھایا آنگن گھنگرو چھن چھن چبایا من آنکھیں کاجل پربت بادل حقیقت زلفیں اور یہ بازو راتیں مہکی سانسیں دہکی نظریں بہکی رت لہکی سوپن سلونا پریم کھلونا پھول بچھونا حقیقت پہلو جاناں سے دوری یہ مجبوری زخم کاری بیداری تنہا راتیں سپنے قاتیں خود سے باتیں میری پربھاکر

Javed Akhtar

0 likes

سوکھی ٹہنی تنہا چڑیا فیکا چاند آنکھوں کے صحرا ہے وہ ہے وہ ایک نمی کا چاند ا سے ماتھے کو چومے کتنے دن بیتے ج سے ماتھے کی خاطر تھا اک بتاشا چاند پہلے تو لگتی تھی کتنی بیگا لگ کتنا مبہم ہوتا ہے پہلی کا چاند کم ہوں کیسے ان خوشیوں سے تیرا غم لہروں ہے وہ ہے وہ کب بہتا ہے ن گرا کا چاند آؤ اب ہم ا سے کے بھی ٹکڑے کر لے ڈھاکہ راولپنڈی اور دہلی کا چاند

Javed Akhtar

0 likes

شہر کے دکاندارو کاروبار الفت ہے وہ ہے وہ سود کیا زیاں کیا ہے جاناں لگ جان پاؤگے دل کے دام کتنے ہیں خواب کتنے مہنگے ہیں اور نقد جاں کیا ہے جاناں لگ جان پاؤگے کوئی کیسے ملتا ہے پھول کیسے کھلتا ہے آنکھ کیسے جھکتی ہے سان سے کیسے رکتی ہے کیسے رہ نکلتی ہے کیسے بات چلتی ہے شوق کی زبان کیا ہے جاناں لگ جان پاؤگے وصل کا سکون کیا ہے ہجر کا جنوں کیا ہے حسن کا فسوں کیا ہے عشق کا درون کیا ہے جاناں مریض دانائی مصلحت کے شیدائی راہ گم ر ہاں کیا ہے جاناں لگ جان پاؤگے زخم کیسے فلتے ہیں داغ کیسے جلتے ہیں درد کیسے ہوتا ہے کوئی کیسے روتا ہے خوشی کیا ہے نالے کیا دشت کیا ہے چھالے کیا آہ کیا فغاں کیا ہے جاناں لگ جان پاؤگے نامراد دل کیسے صبح و شام کرتے ہیں کیسے زندہ رہتے ہیں اور کیسے مرتے ہیں جاناں کو کب نظر آئی غم زدوں کی تنہائی آب و زیست بے اماں کیا ہے جاناں لگ جان پاؤگے جانتا ہوں ہے وہ ہے وہ جاناں کو ذوق شاعری بھی ہے شخصیت سجانے ہے وہ ہے وہ اک یہ ماہری بھی ہے پھروں بھی حرف چنتے ہوں صرف لفظ سنتے ہوں ان کے درمیان کیا ہے جاناں لگ جان پاؤگے

Javed Akhtar

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Javed Akhtar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Javed Akhtar's ghazal.