شانے کی ہر زبان سے سنے کوئی لاف زلف چیرے ہے سینا رات کو یہ مو شگاف زلف ج سے طرح سے کہ کعبے پہ ہے پوشش سیاہ ا سے طرح ا سے صنم کے ہے رکھ پر غلاف زلف برہم ہے ا سے دودمان جو مری دل سے شکر گزاری شامت زدہ نے کیا کیا ایسا خلاف زلف زار لگ کفر و دیں سے لگ دیر و حرم سے کام کرتا ہے دل طواف ازار و طواف زلف ناف غزال چیں ہے کہ ہے نافا تتار کیونکر ک ہوں کہ ہے گرہ زلف ناف زلف آپ سے ہے وہ ہے وہ آج دست و گریباں ہے روز و شب اے مہر وش زری کا نہیں مو باف زلف کہتا ہے کوئی جیم کوئی لام زلف کو کہتا ہوں ہے وہ ہے وہ وقار کہ مسطح ہے کاف زلف
Related Ghazal
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی
Jaun Elia
77 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
More from Bahadur Shah Zafar
کیونکر لگ خاکسار رہیں اہل کین سے دور دیکھو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ فلک سے فلک ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے دور پروا لگ وصل شمع پہ دیتا ہے اپنی جاں کیونکر رہے دل ا سے کے رکھ آتشیں سے دور مضمون وصل و ہجر جو نامے ہے وہ ہے وہ ہے رقم ہے حرف بھی کہی سے ملے اور کہی سے دور گو تیر بے گماں ہے مری پا سے پر ابھی جائے نکل کے سی لگ چرخ بریں سے دور حقیقت کون ہے کہ جاتے نہیں آپ ج سے کے پا سے لیکن ہمیشہ بھاگتے ہوں جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے دور حیران ہوں کہ ا سے کے مقابل ہوں آئی لگ جو پر غرور کھینچتا ہے ماہ مبیں سے دور یاں تک عدو کا پا سے ہے ان کو کہ بزم ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت بیٹھتے بھی ہیں تو مری ہم نشین سے دور جھمکے ہوں جو دید تجھے دل کی آنکھ سے پہنچے تری نظر نگہ دور بیں سے دور دنیا دوں کی دے لگ محبت خدا وقار انساں کو پھینک دے ہے یہ ایمان و دیں سے دور
Bahadur Shah Zafar
1 likes
ٹکڑے نہیں ہیں آنسوؤں میں دل کے چار پانچ سرخاب بیٹھے پانی میں ہیں مل کے چار پانچ منہ کھولے ہیں یہ زخم جو بسم اللہ کے چار پانچ پھروں لیںگے بوسے پنجہ میزہ کے چار پانچ کہنے ہیں مطلب ان سے ہمیں دل کے چار پانچ کیا کہیے ایک منہ ہیں وہاں مل کے چار پانچ دریا میں گر پڑا جو میرا اشک ایک گرم بت خانے لب پہ ہو گئے ساحل کے چار پانچ دو چار لاشے اب بھی پڑے تیرے در پہ ہیں اور آگے دب چکے ہیں تلے گل خاک شہر یاراں کے چار پانچ راہیں ہیں دو مزاج و حقیقت ہے جن کا نام رستے نہیں ہیں عشق کی منزل کے چار پانچ رنج و تاب مصیبت و غم یاس و درد و داغ آہ و فغاں رفیق ہیں یہ دل کے چار پانچ دو تین جھٹکے دوں جوں ہی وحشت کے زور میں زندا میں ٹکڑے ہوویں سلاسل کے چار پانچ فرہاد و قیس و وامق و عذرا تھے چار دوست اب ہم بھی آ ملے تو ہوئے مل کے چار پانچ ناز و ادا و غمزہ نگہ پل ماریں ہیں ایک دل کو یہ مینا نہ فلک مینا نہ فلک کے چار پانچ ایما ہے یہ کہ دیں گے نو دن کے بعد دل لکھ بھیجے خط میں شعر جو بے دل کے چار پانچ ہیرے کے فاتح
Bahadur Shah Zafar
0 likes
जिगर के टुकड़े हुए जल के दिल कबाब हुआ ये इश्क़ जान को मेरे कोई अज़ाब हुआ किया जो क़त्ल मुझे तुम ने ख़ूब काम किया कि मैं अज़ाब से छूटा तुम्हें सवाब हुआ कभी तो शेफ़्ता उस ने कहा कभी शैदा ग़रज़ कि रोज़ नया इक मुझे ख़िताब हुआ पि यूँँ न रश्क से ख़ूँ क्यूँँकि दम-ब-दम अपना कि साथ ग़ैर के वो आज हम-शराब हुआ तुम्हारे लब के लब-ए-जाम ने लिए बोसे लब अपने काटा किया मैं न कामयाब हुआ गली गली तिरी ख़ातिर फिरा ब-चश्म-ए-पुर-आब लगा के तुझ से दिल अपना बहुत ख़राब हुआ तिरी गली में बहाए फिरे है सैल-ए-सरिश्क हमारा कासा-ए-सर क्या हुआ हबाब हुआ जवाब-ए-ख़त के न लिखने से ये हुआ मालूम कि आज से हमें ऐ नामा-बर जवाब हुआ मँगाई थी तिरी तस्वीर दिल की तस्कीं को मुझे तो देखते ही और इज़्तिराब हुआ सितम तुम्हारे बहुत और दिन हिसाब का एक मुझे है सोच ये ही किस तरह हिसाब हुआ 'ज़फ़र' बदल के रदीफ़ और तू ग़ज़ल वो सुना कि जिस का तुझ से हर इक शे'र इंतिख़ाब हुआ
Bahadur Shah Zafar
1 likes
ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا تو بھی لگ ہوا یار اور اک یار بھی چھوڑا کیا ہوگا رفو گر سے رفو میرا گریبان اے دست جنوں تو نے نہیں تار بھی چھوڑا دیں دے کے گیا تو کفر کے بھی کام سے عاشق تسبیح کے ساتھ ا سے نے تو زنار بھی چھوڑا گوشے ہے وہ ہے وہ تری چشم سیاہ مست کے دل نے کی جب سے جگہ خا لگ خمّار بھی چھوڑا ا سے سے ہے غریبوں کو تسلی کہ اجل نے مفل سے کو جو مارا تو لگ منصفی بھی چھوڑا ٹیڑھے لگ ہوں ہم سے رکھو اخلاص تو سیدھا جاناں پیار سے رکتے ہوں تو لو پیار بھی چھوڑا کیا چھوڑیں اسیران محبت کو حقیقت ج سے نے صدقے ہے وہ ہے وہ لگ اک پر اعتباری بھی چھوڑا پہنچی مری رسوائی کی کیونکر خبر ا سے کو ا سے شوخ نے تو دیکھنا ذائقہ بھی چھوڑا کرتا تھا جو یاں آنے کا جھوٹا کبھی اقرار مدت سے وقار ا سے نے حقیقت اقرار بھی چھوڑا
Bahadur Shah Zafar
0 likes
بھری ہے دل ہے وہ ہے وہ جو حسرت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں سنے ہے کون مصیبت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں جو تو ہوں صاف تو کچھ ہے وہ ہے وہ بھی صاف تجھ سے ک ہوں تری ہے دل ہے وہ ہے وہ کدورت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں لگ کوہکن ہے لگ مجنوں کہ تھے مری ہمدرد ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا درد محبت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں دل ا سے کو آپ دیا آپ ہی پشیمان ہوں کہ سچ ہے اپنی ندامت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں ک ہوں ہے وہ ہے وہ ج سے سے اسے ہووے سنتے ہی وحشت پھروں اپنا قصہ وحشت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں رہا ہے تو ہی تو غم خوار اے دل غمگیں تری سوا غم فرقت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں جو دوست ہوں تو ک ہوں تجھ سے دوستی کی بات تجھے تو مجھ سے ناتے ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں لگ مجھ کو کہنے کی طاقت ک ہوں تو کیا احوال لگ ا سے کو سننے کی فرصت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں کسی کو دیکھتا اتنا نہیں حقیقت ہے وہ ہے وہ ہے وہ وقار ہے وہ ہے وہ اپنی حقیقت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں
Bahadur Shah Zafar
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Bahadur Shah Zafar.
Similar Moods
More moods that pair well with Bahadur Shah Zafar's ghazal.







