کیونکر لگ خاکسار رہیں اہل کین سے دور دیکھو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ فلک سے فلک ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے دور پروا لگ وصل شمع پہ دیتا ہے اپنی جاں کیونکر رہے دل ا سے کے رکھ آتشیں سے دور مضمون وصل و ہجر جو نامے ہے وہ ہے وہ ہے رقم ہے حرف بھی کہی سے ملے اور کہی سے دور گو تیر بے گماں ہے مری پا سے پر ابھی جائے نکل کے سی لگ چرخ بریں سے دور حقیقت کون ہے کہ جاتے نہیں آپ ج سے کے پا سے لیکن ہمیشہ بھاگتے ہوں جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے دور حیران ہوں کہ ا سے کے مقابل ہوں آئی لگ جو پر غرور کھینچتا ہے ماہ مبیں سے دور یاں تک عدو کا پا سے ہے ان کو کہ بزم ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت بیٹھتے بھی ہیں تو مری ہم نشین سے دور جھمکے ہوں جو دید تجھے دل کی آنکھ سے پہنچے تری نظر نگہ دور بیں سے دور دنیا دوں کی دے لگ محبت خدا وقار انساں کو پھینک دے ہے یہ ایمان و دیں سے دور
Related Ghazal
اپنی آنکھوں ہے وہ ہے وہ بھر کر لے جانے ہیں مجھ کو ا سے کے آنسو کام ہے وہ ہے وہ لانے ہے دیکھو ہم کوئی وحشی نہیں دیوانے ہیں جاناں سے بٹن کھلواتے نہیں لگواتے ہیں ہم جاناں اک دوجے کی سیڑھی ہے جاناں باقی دنیا تو سانپوں کے خانے ہیں پاکیزہ چیزوں کو پاکیزہ لکھو مت لکھو ا سے کی آنکھیں مے خانے ہیں
Varun Anand
63 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
شاہ سے چھپکے قی گرا نے شہزا گرا کو پیغام لکھا جنگ سے بھاگنے والوں ہے وہ ہے وہ شہزادے کا بھی نام لکھا دوردراز سے آنے والے خط مری ہمسائی کے تھے اک دن ا سے نے ہمت کر کے اپنا اصلی نام لکھا ہم دونوں نے اپنے اپنے دین پہ قائم رہنا تھا گھر کی اک دیوار پہ اللہ اک دیوار پہ رام لکھا ایک محبت ختم ہوئی تو دوسری کی تیاری کی نئی کہانی کے آغاز ہے وہ ہے وہ پہلی کا انجام لکھا
Zia Mazkoor
17 likes
ہجر ہے وہ ہے وہ خود کو تسلی دی کہا کچھ بھی نہیں دل م گر ہنسنے لگا آیا بڑا کچھ بھی نہیں ہم ا گر دل پامال ہے وہ ہے وہ رہتے ہیں تو کیا کچھ بھی نہیں جانے والو کبھی آ دیکھو بچا کچھ بھی نہیں بے دلی یوں ہی کہ رب کوئی مسیحا بھیجے ہم مسیحا سے بھی کہ دیں گے و جا کچھ بھی نہیں دیکھے بن عشق ہوا دیکھے بنا دور ہوئے اتنا کچھ ہوں بھی گیا تو اور ہوا کچھ بھی نہیں سستے عابد لگ بنیں لت کو عبادت لگ کہی کرنے والے لذت و ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری بعد مصلے پہ بے حد روتا رہا اور کہا یار خدا خیر بھلا کچھ بھی نہیں عشق مردا لگ طبیعت نہیں رکھتا افکار ورنا یہ حسن و جمال اور ادا کچھ بھی نہیں
Afkar Alvi
26 likes
مجھ کو دروازے پر ہی روک لیا جاتا ہے مری آنے سے بھلا آپ کا کیا جاتا ہے جاناں ا گر جانے لگے ہوں تو پلٹ کر مت دیکھو موت لکھکر تو توڑ دیا جاتا ہے تجھ کو بتلاتا م گر شرم بے حد آتی ہے تیری تصویر سے جو کام لیا جاتا ہے
Tehzeeb Hafi
90 likes
More from Bahadur Shah Zafar
जिगर के टुकड़े हुए जल के दिल कबाब हुआ ये इश्क़ जान को मेरे कोई अज़ाब हुआ किया जो क़त्ल मुझे तुम ने ख़ूब काम किया कि मैं अज़ाब से छूटा तुम्हें सवाब हुआ कभी तो शेफ़्ता उस ने कहा कभी शैदा ग़रज़ कि रोज़ नया इक मुझे ख़िताब हुआ पि यूँँ न रश्क से ख़ूँ क्यूँँकि दम-ब-दम अपना कि साथ ग़ैर के वो आज हम-शराब हुआ तुम्हारे लब के लब-ए-जाम ने लिए बोसे लब अपने काटा किया मैं न कामयाब हुआ गली गली तिरी ख़ातिर फिरा ब-चश्म-ए-पुर-आब लगा के तुझ से दिल अपना बहुत ख़राब हुआ तिरी गली में बहाए फिरे है सैल-ए-सरिश्क हमारा कासा-ए-सर क्या हुआ हबाब हुआ जवाब-ए-ख़त के न लिखने से ये हुआ मालूम कि आज से हमें ऐ नामा-बर जवाब हुआ मँगाई थी तिरी तस्वीर दिल की तस्कीं को मुझे तो देखते ही और इज़्तिराब हुआ सितम तुम्हारे बहुत और दिन हिसाब का एक मुझे है सोच ये ही किस तरह हिसाब हुआ 'ज़फ़र' बदल के रदीफ़ और तू ग़ज़ल वो सुना कि जिस का तुझ से हर इक शे'र इंतिख़ाब हुआ
Bahadur Shah Zafar
1 likes
ٹکڑے نہیں ہیں آنسوؤں میں دل کے چار پانچ سرخاب بیٹھے پانی میں ہیں مل کے چار پانچ منہ کھولے ہیں یہ زخم جو بسم اللہ کے چار پانچ پھروں لیںگے بوسے پنجہ میزہ کے چار پانچ کہنے ہیں مطلب ان سے ہمیں دل کے چار پانچ کیا کہیے ایک منہ ہیں وہاں مل کے چار پانچ دریا میں گر پڑا جو میرا اشک ایک گرم بت خانے لب پہ ہو گئے ساحل کے چار پانچ دو چار لاشے اب بھی پڑے تیرے در پہ ہیں اور آگے دب چکے ہیں تلے گل خاک شہر یاراں کے چار پانچ راہیں ہیں دو مزاج و حقیقت ہے جن کا نام رستے نہیں ہیں عشق کی منزل کے چار پانچ رنج و تاب مصیبت و غم یاس و درد و داغ آہ و فغاں رفیق ہیں یہ دل کے چار پانچ دو تین جھٹکے دوں جوں ہی وحشت کے زور میں زندا میں ٹکڑے ہوویں سلاسل کے چار پانچ فرہاد و قیس و وامق و عذرا تھے چار دوست اب ہم بھی آ ملے تو ہوئے مل کے چار پانچ ناز و ادا و غمزہ نگہ پل ماریں ہیں ایک دل کو یہ مینا نہ فلک مینا نہ فلک کے چار پانچ ایما ہے یہ کہ دیں گے نو دن کے بعد دل لکھ بھیجے خط میں شعر جو بے دل کے چار پانچ ہیرے کے فاتح
Bahadur Shah Zafar
0 likes
ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا تو بھی لگ ہوا یار اور اک یار بھی چھوڑا کیا ہوگا رفو گر سے رفو میرا گریبان اے دست جنوں تو نے نہیں تار بھی چھوڑا دیں دے کے گیا تو کفر کے بھی کام سے عاشق تسبیح کے ساتھ ا سے نے تو زنار بھی چھوڑا گوشے ہے وہ ہے وہ تری چشم سیاہ مست کے دل نے کی جب سے جگہ خا لگ خمّار بھی چھوڑا ا سے سے ہے غریبوں کو تسلی کہ اجل نے مفل سے کو جو مارا تو لگ منصفی بھی چھوڑا ٹیڑھے لگ ہوں ہم سے رکھو اخلاص تو سیدھا جاناں پیار سے رکتے ہوں تو لو پیار بھی چھوڑا کیا چھوڑیں اسیران محبت کو حقیقت ج سے نے صدقے ہے وہ ہے وہ لگ اک پر اعتباری بھی چھوڑا پہنچی مری رسوائی کی کیونکر خبر ا سے کو ا سے شوخ نے تو دیکھنا ذائقہ بھی چھوڑا کرتا تھا جو یاں آنے کا جھوٹا کبھی اقرار مدت سے وقار ا سے نے حقیقت اقرار بھی چھوڑا
Bahadur Shah Zafar
0 likes
کریںگے قصد ہم جس دم تمہارے گھر میں آویں گے جو ہو گی عمر بھر کی راہ تو دم بھر میں آویں گے اگر ہاتھوں سے اس کا بد نامی کے ذبح ہوں گے ہم تو شربت کے سے گھونٹ آب دم خنجر میں آویں گے یہی گر جوش گریہ ہے تو بہ کر ساتھ اشکوں کے ہزاروں پارہ دل میرے چشم تر میں آویں گے گر اس کا قید بلا سے اب کی چھوٹیں گے تو پھروں ہرگز نہ ہم دام فریب شوخ غارت گر میں آویں گے نہ جاتے گرچہ مر جاتے جو ہم معلوم کر جاتے کہ اتنا تنگ جا کر کوچہ دلبر میں آویں گے گریباں چاک لاکھوں ہاتھ سے اس کا تیرا روزی کے ب رنگ صبح محشر عرصہ محشر میں آویں گے جو سرگردانی اپنی تیرے دیوانے دکھائیںگے تو پھروں کیا کیا بگولے دشت کے چکر میں آویں گے ظفر اپنا کرشمہ گر دکھایا چشم ساقی نے تماشے جام جم کے سب نظر آواز نوشا نوش میں آویں گے
Bahadur Shah Zafar
0 likes
بھری ہے دل ہے وہ ہے وہ جو حسرت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں سنے ہے کون مصیبت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں جو تو ہوں صاف تو کچھ ہے وہ ہے وہ بھی صاف تجھ سے ک ہوں تری ہے دل ہے وہ ہے وہ کدورت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں لگ کوہکن ہے لگ مجنوں کہ تھے مری ہمدرد ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا درد محبت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں دل ا سے کو آپ دیا آپ ہی پشیمان ہوں کہ سچ ہے اپنی ندامت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں ک ہوں ہے وہ ہے وہ ج سے سے اسے ہووے سنتے ہی وحشت پھروں اپنا قصہ وحشت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں رہا ہے تو ہی تو غم خوار اے دل غمگیں تری سوا غم فرقت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں جو دوست ہوں تو ک ہوں تجھ سے دوستی کی بات تجھے تو مجھ سے ناتے ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں لگ مجھ کو کہنے کی طاقت ک ہوں تو کیا احوال لگ ا سے کو سننے کی فرصت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں کسی کو دیکھتا اتنا نہیں حقیقت ہے وہ ہے وہ ہے وہ وقار ہے وہ ہے وہ اپنی حقیقت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں
Bahadur Shah Zafar
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Bahadur Shah Zafar.
Similar Moods
More moods that pair well with Bahadur Shah Zafar's ghazal.







