ghazalKuch Alfaaz

کریںگے قصد ہم جس دم تمہارے گھر میں آویں گے جو ہو گی عمر بھر کی راہ تو دم بھر میں آویں گے اگر ہاتھوں سے اس کا بد نامی کے ذبح ہوں گے ہم تو شربت کے سے گھونٹ آب دم خنجر میں آویں گے یہی گر جوش گریہ ہے تو بہ کر ساتھ اشکوں کے ہزاروں پارہ دل میرے چشم تر میں آویں گے گر اس کا قید بلا سے اب کی چھوٹیں گے تو پھروں ہرگز نہ ہم دام فریب شوخ غارت گر میں آویں گے نہ جاتے گرچہ مر جاتے جو ہم معلوم کر جاتے کہ اتنا تنگ جا کر کوچہ دلبر میں آویں گے گریباں چاک لاکھوں ہاتھ سے اس کا تیرا روزی کے ب رنگ صبح محشر عرصہ محشر میں آویں گے جو سرگردانی اپنی تیرے دیوانے دکھائیںگے تو پھروں کیا کیا بگولے دشت کے چکر میں آویں گے ظفر اپنا کرشمہ گر دکھایا چشم ساقی نے تماشے جام جم کے سب نظر آواز نوشا نوش میں آویں گے

Related Ghazal

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

More from Bahadur Shah Zafar

بھری ہے دل ہے وہ ہے وہ جو حسرت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں سنے ہے کون مصیبت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں جو تو ہوں صاف تو کچھ ہے وہ ہے وہ بھی صاف تجھ سے ک ہوں تری ہے دل ہے وہ ہے وہ کدورت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں لگ کوہکن ہے لگ مجنوں کہ تھے مری ہمدرد ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا درد محبت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں دل ا سے کو آپ دیا آپ ہی پشیمان ہوں کہ سچ ہے اپنی ندامت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں ک ہوں ہے وہ ہے وہ ج سے سے اسے ہووے سنتے ہی وحشت پھروں اپنا قصہ وحشت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں رہا ہے تو ہی تو غم خوار اے دل غمگیں تری سوا غم فرقت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں جو دوست ہوں تو ک ہوں تجھ سے دوستی کی بات تجھے تو مجھ سے ناتے ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں لگ مجھ کو کہنے کی طاقت ک ہوں تو کیا احوال لگ ا سے کو سننے کی فرصت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں کسی کو دیکھتا اتنا نہیں حقیقت ہے وہ ہے وہ ہے وہ وقار ہے وہ ہے وہ اپنی حقیقت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں

Bahadur Shah Zafar

0 likes

کیونکر لگ خاکسار رہیں اہل کین سے دور دیکھو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ فلک سے فلک ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے دور پروا لگ وصل شمع پہ دیتا ہے اپنی جاں کیونکر رہے دل ا سے کے رکھ آتشیں سے دور مضمون وصل و ہجر جو نامے ہے وہ ہے وہ ہے رقم ہے حرف بھی کہی سے ملے اور کہی سے دور گو تیر بے گماں ہے مری پا سے پر ابھی جائے نکل کے سی لگ چرخ بریں سے دور حقیقت کون ہے کہ جاتے نہیں آپ ج سے کے پا سے لیکن ہمیشہ بھاگتے ہوں جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے دور حیران ہوں کہ ا سے کے مقابل ہوں آئی لگ جو پر غرور کھینچتا ہے ماہ مبیں سے دور یاں تک عدو کا پا سے ہے ان کو کہ بزم ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت بیٹھتے بھی ہیں تو مری ہم نشین سے دور جھمکے ہوں جو دید تجھے دل کی آنکھ سے پہنچے تری نظر نگہ دور بیں سے دور دنیا دوں کی دے لگ محبت خدا وقار انساں کو پھینک دے ہے یہ ایمان و دیں سے دور

Bahadur Shah Zafar

1 likes

जिगर के टुकड़े हुए जल के दिल कबाब हुआ ये इश्क़ जान को मेरे कोई अज़ाब हुआ किया जो क़त्ल मुझे तुम ने ख़ूब काम किया कि मैं अज़ाब से छूटा तुम्हें सवाब हुआ कभी तो शेफ़्ता उस ने कहा कभी शैदा ग़रज़ कि रोज़ नया इक मुझे ख़िताब हुआ पि यूँँ न रश्क से ख़ूँ क्यूँँकि दम-ब-दम अपना कि साथ ग़ैर के वो आज हम-शराब हुआ तुम्हारे लब के लब-ए-जाम ने लिए बोसे लब अपने काटा किया मैं न कामयाब हुआ गली गली तिरी ख़ातिर फिरा ब-चश्म-ए-पुर-आब लगा के तुझ से दिल अपना बहुत ख़राब हुआ तिरी गली में बहाए फिरे है सैल-ए-सरिश्क हमारा कासा-ए-सर क्या हुआ हबाब हुआ जवाब-ए-ख़त के न लिखने से ये हुआ मालूम कि आज से हमें ऐ नामा-बर जवाब हुआ मँगाई थी तिरी तस्वीर दिल की तस्कीं को मुझे तो देखते ही और इज़्तिराब हुआ सितम तुम्हारे बहुत और दिन हिसाब का एक मुझे है सोच ये ही किस तरह हिसाब हुआ 'ज़फ़र' बदल के रदीफ़ और तू ग़ज़ल वो सुना कि जिस का तुझ से हर इक शे'र इंतिख़ाब हुआ

Bahadur Shah Zafar

1 likes

ٹکڑے نہیں ہیں آنسوؤں میں دل کے چار پانچ سرخاب بیٹھے پانی میں ہیں مل کے چار پانچ منہ کھولے ہیں یہ زخم جو بسم اللہ کے چار پانچ پھروں لیںگے بوسے پنجہ میزہ کے چار پانچ کہنے ہیں مطلب ان سے ہمیں دل کے چار پانچ کیا کہیے ایک منہ ہیں وہاں مل کے چار پانچ دریا میں گر پڑا جو میرا اشک ایک گرم بت خانے لب پہ ہو گئے ساحل کے چار پانچ دو چار لاشے اب بھی پڑے تیرے در پہ ہیں اور آگے دب چکے ہیں تلے گل خاک شہر یاراں کے چار پانچ راہیں ہیں دو مزاج و حقیقت ہے جن کا نام رستے نہیں ہیں عشق کی منزل کے چار پانچ رنج و تاب مصیبت و غم یاس و درد و داغ آہ و فغاں رفیق ہیں یہ دل کے چار پانچ دو تین جھٹکے دوں جوں ہی وحشت کے زور میں زندا میں ٹکڑے ہوویں سلاسل کے چار پانچ فرہاد و قیس و وامق و عذرا تھے چار دوست اب ہم بھی آ ملے تو ہوئے مل کے چار پانچ ناز و ادا و غمزہ نگہ پل ماریں ہیں ایک دل کو یہ مینا نہ فلک مینا نہ فلک کے چار پانچ ایما ہے یہ کہ دیں گے نو دن کے بعد دل لکھ بھیجے خط میں شعر جو بے دل کے چار پانچ ہیرے کے فاتح

Bahadur Shah Zafar

0 likes

ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا تو بھی لگ ہوا یار اور اک یار بھی چھوڑا کیا ہوگا رفو گر سے رفو میرا گریبان اے دست جنوں تو نے نہیں تار بھی چھوڑا دیں دے کے گیا تو کفر کے بھی کام سے عاشق تسبیح کے ساتھ ا سے نے تو زنار بھی چھوڑا گوشے ہے وہ ہے وہ تری چشم سیاہ مست کے دل نے کی جب سے جگہ خا لگ خمّار بھی چھوڑا ا سے سے ہے غریبوں کو تسلی کہ اجل نے مفل سے کو جو مارا تو لگ منصفی بھی چھوڑا ٹیڑھے لگ ہوں ہم سے رکھو اخلاص تو سیدھا جاناں پیار سے رکتے ہوں تو لو پیار بھی چھوڑا کیا چھوڑیں اسیران محبت کو حقیقت ج سے نے صدقے ہے وہ ہے وہ لگ اک پر اعتباری بھی چھوڑا پہنچی مری رسوائی کی کیونکر خبر ا سے کو ا سے شوخ نے تو دیکھنا ذائقہ بھی چھوڑا کرتا تھا جو یاں آنے کا جھوٹا کبھی اقرار مدت سے وقار ا سے نے حقیقت اقرار بھی چھوڑا

Bahadur Shah Zafar

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Bahadur Shah Zafar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Bahadur Shah Zafar's ghazal.