ghazalKuch Alfaaz

شاہ سے چھپکے قی گرا نے شہزا گرا کو پیغام لکھا جنگ سے بھاگنے والوں ہے وہ ہے وہ شہزادے کا بھی نام لکھا دوردراز سے آنے والے خط مری ہمسائی کے تھے اک دن ا سے نے ہمت کر کے اپنا اصلی نام لکھا ہم دونوں نے اپنے اپنے دین پہ قائم رہنا تھا گھر کی اک دیوار پہ اللہ اک دیوار پہ رام لکھا ایک محبت ختم ہوئی تو دوسری کی تیاری کی نئی کہانی کے آغاز ہے وہ ہے وہ پہلی کا انجام لکھا

Zia Mazkoor17 Likes

Related Ghazal

ویسے ہے وہ ہے وہ نے دنیا ہے وہ ہے وہ کیا دیکھا ہے جاناں کہتے ہوں تو پھروں اچھا دیکھا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو اپنی وحشت تحفے ہے وہ ہے وہ دوں ہاتھ اٹھائے ج سے نے صحرا دیکھا ہے بن دیکھے ا سے کی تصویر بنا لوں گا آج تو ہے وہ ہے وہ نے ا سے کو اتنا دیکھا ہے ایک نظر ہے وہ ہے وہ منظر کب کھلتے ہیں دوست تو نے دیکھا بھی ہے تو کیا دیکھا ہے عشق ہے وہ ہے وہ بندہ مر بھی سکتا ہے ہے وہ ہے وہ نے دل کی دستاویز ہے وہ ہے وہ لکھا دیکھا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آنکھیں دیکھ کے ہی بتلا دوں گا جاناں ہے وہ ہے وہ سے ک سے ک سے نے دریا دیکھا ہے آگے سیدھے ہاتھ پہ ایک ترائی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے پہلے بھی یہ رستہ دیکھا ہے جاناں کو تو ا سے باغ کا نام پتا ہوگا جاناں نے تو ا سے شہر کا نقشہ دیکھا ہے

Tehzeeb Hafi

80 likes

ڈولی اٹھا کے لے گئے محلوں کے بادشاہ سڑکوں سے دیکھتے رہے سڑکوں کے بادشاہ امید کی کرن ہے وہ ہے وہ ہر اک کھیت جل گئے سلفا سے کھا کے مر گئے کھیتوں کے بادشاہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوسری غزل کی طرف چل دیا تو دوست پچھلی بلاتی رہ گئی غزلوں کے بادشاہ آنکھوں کی تخت پوشی تو بینائی لے گئی آنسو بنیں گے دیکھ یوں پلکوں کے بادشاہ

Rishabh Sharma

15 likes

ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہی کوئی خاموش ہوں گیا تو ہے کہی ہے کچھ ایسا کہ چنو یہ سب کچھ ا سے سے پہلے بھی ہوں چکا ہے کہی تجھ کو کیا ہوں گیا تو کہ چیزوں کو کہی رکھتا ہے ڈھونڈتا ہے کہی جو ی ہاں سے کہی لگ جاتا تھا حقیقت ی ہاں سے چلا گیا تو ہے کہی آج شمشان کی سی وعدے ہے ی ہاں کیا کوئی جسم جل رہا ہے کہی ہم کسی کے نہیں ج ہاں کے سوا ایسی حقیقت خاص بات کیا ہے کہی تو مجھے ڈھونڈ ہے وہ ہے وہ تجھے ڈھونڈوں کوئی ہم ہے وہ ہے وہ سے رہ گیا تو ہے کہی کتنی وحشت ہے درمیان ہجوم ج سے کو دیکھو گیا تو ہوا ہے کہی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو اب شہر ہے وہ ہے وہ کہی بھی نہیں کیا میرا نام بھی لکھا ہے کہی اسی کمرے سے کوئی ہوں کے وداع اسی کمرے ہے وہ ہے وہ چھپ گیا تو ہے کہی مل کے ہر بے وجہ سے ہوا محسو سے مجھ سے یہ بے وجہ مل چکا ہے کہی

Jaun Elia

40 likes

ٹھہراؤ تو ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھا ہی نہیں رکتی تھی نکل لیا کرتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کپڑے بدلتے سوچتا تھا حقیقت مرد بدل لیا کرتی تھی مجھے اپنے بنائے راستوں پر بھی جوتے پہننا پڑتے تھے حقیقت لوگوں کے سینے پر بھی جوتے اتار کر چل لیا کرتی تھی مری ہاتھ خیرو ہوں جاتے تھے مری چشمے سیاہ ہوں جاتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اس کا کو نقاب کا کہتا تھا حقیقت کالکھ مل لیا کرتی تھی ا سے عورت نے بیزار کیا اک بار نہیں سو بار کیا گانوں پہ چھری اچھل نہیں پاتی تھی باتوں پہ چھری اچھل لیا کرتی تھی تاریک محل کو شہزا گرا نے روشن رکھا کنیزوں سے کبھی ان کو جلا لیا کرتی تھی کبھی ان سے جل لیا کرتی تھی آداب تجارت سے بھی نا واقف تھی شعر و ادب کی طرح مجھے ویسا پیار نہیں دیتی تھی جیسی غزل لیا کرتی تھی

Muzdum Khan

30 likes

ایک پوچھوں مقرر پہ تو ہر تنخواہ ملے چنو دفتر ہے وہ ہے وہ کسی بے وجہ کو تنخواہ ملے رنگ اُکھڑ جائے تو ظاہر ہوں پلاسٹر کی نمی قہقہہ خود کے دیکھو تو تمہیں آہ ملے جمع تھے رات مری گھر تری ٹھکرائے ہوئے ایک درگاہ پہ سب راندہ درگاہ ملے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو اک آم سپاہی تھا حفاظت کے لیے شاہ زادی یہ ترا حق تھا تجھے شاہ ملے ایک اداسی کے جزیرے پہ ہوں اشکوں ہے وہ ہے وہ گھرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نکل جاؤں اگر خشک گزرگاہ ملے اک ملاقات کے ٹلنے کی خبر ایسے لگی چنو مزدور کو ہڑتال کی افواہ ملے گھر پہنچنے کی نہ جلدی نہ تمنا ہے کوئی جس نے ملنا ہوں مجھے آئی سر راہ ملے

Umair Najmi

19 likes

More from Zia Mazkoor

ہمارے ساتھ کوئی مسئلہ فرات کا ہے وگر لگ علم اسے اپنی مشکلات کا ہے مری حساب سے مازوری حسن ہے میرا ا گر یہ عیب ہے تو بھی خدا کے ہاتھ کا ہے اک آدھے کام کے حق ہے وہ ہے وہ تو خیر ہے وہ ہے وہ بھی ہوں تمہارے پا سے تو دفترون سفارشات کا ہے ہماری بات کا جتنا وسیع پہلو ہے زبان پہ لانے ہے وہ ہے وہ نقصان کائنات کا ہے ہم ا سے کے ہونے نا ہونے پہ کتنا لڑ رہے ہیں کسی کے واسطے یہ کھیل نفسیات کا ہے

Zia Mazkoor

8 likes

لگ چلتی ہے لگ رکتی ہے فقیرا تری دنیا بھی اچھی ہے فقیرا تمہیں ہٹنا پڑےگا راستے سے یہ جھونپڑیوں کی سواری ہے فقیرا ہمارے نا توان کندھوں پہ مت رکھ آئی لگ دار بھاری گٹھری ہے فقیرا تری گ گرا کو لے کر اتنے جھگڑے ابھی تو پہلی پیڑھی ہے فقیرا فقط یہ سوچ کر خاموش ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہاری روزی روٹی ہے فقیرا ہم ا سے کے آستاں تک کیسے پہنچے بڑی لمبی کہانی ہے فقیرا ہمارے ماننے والوں ہے وہ ہے وہ ہوں جا ہمارا فیض جاری ہے فقیرا

Zia Mazkoor

4 likes

یہ حوروں جاناں کو سننا چاہتا ہے وگر لگ شور ک سے کا مسئلہ ہے مجھے اب اور کتنا رونا ہوگا ترا کتنا بقایا رہ گیا تو ہے خوشی محسو سے کرنے والی اجازت تھی پرندوں کو ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کر کیا ملا ہے دریچے بند ہوتے جا رہے ہیں تماشا ٹھنڈا پڑتا جا رہا ہے تمہیں مضمون باندھو شاعری ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپن لہجہ بنانا مانگتا ہے یہ کاسے جلد بھرنے لگ گئے ہیں بھکاری بد دعا دینے لگا ہے تمہاری ایک دن کی سوچ ہے اور ہمارا عمر بھر کا غضب ہے

Zia Mazkoor

6 likes

ا سے سے آپ کا دکھ بھی ہوں جائےگا اچھا خاصہ کم مجھ پر گزرے لمحوں ہے وہ ہے وہ سے کر دو ب سے ایک لمحہ کم بڑے بڑے شہروں ہے وہ ہے وہ کوئی کیسے کسی سے پیار کرے جتنے آ منا سامنے گھر ہے اتنا آنا جانا کم ا سے کے پسٹل سے ایک گولی کم ہونے کا زار ہے اپنے شہر ہے وہ ہے وہ اڑنے والے گول سے ایک پرندہ کم کل تو حقیقت اور ا سے کی کشتی ب سے جلنے ہی والے تھے دریا ا سے پر کافی گرم تھا لیکن آگ سے تھوڑا کم صدقے جاؤں ان چیزوں پر جن کو ا سے کے ہاتھ لگے غضب مکینک تھا حقیقت ج سے نے توڑا زیادہ جوڑا کم

Zia Mazkoor

15 likes

ک سے طرح ایمان لاؤں خواب کی تعبیر پر چھپکلی چڑھتے ہوئے دیکھی ہے ا سے تصویر پر ا سے نے ایسی کوٹھری ہے وہ ہے وہ قید رکھا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ روشنی آنکھوں پہ پڑتی تھی یا پھروں زنجیر پر مائیں بیٹوں سے خفا ہیں اور بیٹے ماوں سے عشق تاکتے آ گیا تو ہے دودھ کی تاثیر پر ہے وہ ہے وہ ہے وہ انہی آبادیوں ہے وہ ہے وہ جی رہا ہوتا کہی جاناں ا گر ہنستے نہیں ا سے دن مری تقدیر پر

Zia Mazkoor

19 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Zia Mazkoor.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Zia Mazkoor's ghazal.