ghazalKuch Alfaaz

ہمارے ساتھ کوئی مسئلہ فرات کا ہے وگر لگ علم اسے اپنی مشکلات کا ہے مری حساب سے مازوری حسن ہے میرا ا گر یہ عیب ہے تو بھی خدا کے ہاتھ کا ہے اک آدھے کام کے حق ہے وہ ہے وہ تو خیر ہے وہ ہے وہ بھی ہوں تمہارے پا سے تو دفترون سفارشات کا ہے ہماری بات کا جتنا وسیع پہلو ہے زبان پہ لانے ہے وہ ہے وہ نقصان کائنات کا ہے ہم ا سے کے ہونے نا ہونے پہ کتنا لڑ رہے ہیں کسی کے واسطے یہ کھیل نفسیات کا ہے

Related Ghazal

کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے

Vikram Gaur Vairagi

70 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

More from Zia Mazkoor

ا سے سے آپ کا دکھ بھی ہوں جائےگا اچھا خاصہ کم مجھ پر گزرے لمحوں ہے وہ ہے وہ سے کر دو ب سے ایک لمحہ کم بڑے بڑے شہروں ہے وہ ہے وہ کوئی کیسے کسی سے پیار کرے جتنے آ منا سامنے گھر ہے اتنا آنا جانا کم ا سے کے پسٹل سے ایک گولی کم ہونے کا زار ہے اپنے شہر ہے وہ ہے وہ اڑنے والے گول سے ایک پرندہ کم کل تو حقیقت اور ا سے کی کشتی ب سے جلنے ہی والے تھے دریا ا سے پر کافی گرم تھا لیکن آگ سے تھوڑا کم صدقے جاؤں ان چیزوں پر جن کو ا سے کے ہاتھ لگے غضب مکینک تھا حقیقت ج سے نے توڑا زیادہ جوڑا کم

Zia Mazkoor

15 likes

شاہ سے چھپکے قی گرا نے شہزا گرا کو پیغام لکھا جنگ سے بھاگنے والوں ہے وہ ہے وہ شہزادے کا بھی نام لکھا دوردراز سے آنے والے خط مری ہمسائی کے تھے اک دن ا سے نے ہمت کر کے اپنا اصلی نام لکھا ہم دونوں نے اپنے اپنے دین پہ قائم رہنا تھا گھر کی اک دیوار پہ اللہ اک دیوار پہ رام لکھا ایک محبت ختم ہوئی تو دوسری کی تیاری کی نئی کہانی کے آغاز ہے وہ ہے وہ پہلی کا انجام لکھا

Zia Mazkoor

17 likes

فون تو دور وہاں خط بھی نہیں پہنچیں گے اب کے یہ لوگ تمہیں ایسی جگہ بھیجیں گے زندگی دیکھ چکے تجھ کو بڑے پردے پر آج کے بعد کوئی فلم نہیں سر و ساماں مسئلہ یہ ہے ہے وہ ہے وہ دشمن کے قریں پہنچوں گا اور کبوتر مری تلوار پہ آ بیٹھیں گے ہم کو اک بار کناروں سے نکل جانے دو پھروں تو سیلاب کے پانی کی طرح پھیلیں گے تو حقیقت دریا ہے اگر جلدی نہیں کی تو نے خود سمندر تجھے ملنے کے لیے آئیں گے سیغا راز ہے وہ ہے وہ رکھیں گے نہیں عشق ترا ہم تری نام سے خوشبو کی دکان کھولیں گے

Zia Mazkoor

13 likes

یہ حوروں جاناں کو سننا چاہتا ہے وگر لگ شور ک سے کا مسئلہ ہے مجھے اب اور کتنا رونا ہوگا ترا کتنا بقایا رہ گیا تو ہے خوشی محسو سے کرنے والی اجازت تھی پرندوں کو ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کر کیا ملا ہے دریچے بند ہوتے جا رہے ہیں تماشا ٹھنڈا پڑتا جا رہا ہے تمہیں مضمون باندھو شاعری ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپن لہجہ بنانا مانگتا ہے یہ کاسے جلد بھرنے لگ گئے ہیں بھکاری بد دعا دینے لگا ہے تمہاری ایک دن کی سوچ ہے اور ہمارا عمر بھر کا غضب ہے

Zia Mazkoor

6 likes

زیادہ کچھ نہیں ہمت تو کر ہی سکتے ہیں اک اچھے کام کی نیت تو کر ہی سکتے ہیں خدا کے ہاتھ سے لکھا مقدر اپنی جگہ ہم ا سے کے بندے ہیں محنت تو کر ہی سکتے ہیں غریب لوگ مرمت لگ کر سکیں تو کیا شکستہ گھر کی حفاظت تو کر ہی سکتے ہیں ہمارے بچے اجازت طلب نہیں کرتے م گر بتانے کی زحمت تو کر ہی سکتے ہیں ہزاروں سال گزارے ہیں مقت گرا رہ کر اک آدھ بار طلسم یار تو کر ہی سکتے ہیں تو کیا ہوا جو شریک حیات بن لگ سکے تمہاری شا گرا ہے وہ ہے وہ شراکت تو کر ہی سکتے ہیں

Zia Mazkoor

25 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Zia Mazkoor.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Zia Mazkoor's ghazal.