ٹھہراؤ تو ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھا ہی نہیں رکتی تھی نکل لیا کرتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کپڑے بدلتے سوچتا تھا حقیقت مرد بدل لیا کرتی تھی مجھے اپنے بنائے راستوں پر بھی جوتے پہننا پڑتے تھے حقیقت لوگوں کے سینے پر بھی جوتے اتار کر چل لیا کرتی تھی مری ہاتھ خیرو ہوں جاتے تھے مری چشمے سیاہ ہوں جاتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اس کا کو نقاب کا کہتا تھا حقیقت کالکھ مل لیا کرتی تھی ا سے عورت نے بیزار کیا اک بار نہیں سو بار کیا گانوں پہ چھری اچھل نہیں پاتی تھی باتوں پہ چھری اچھل لیا کرتی تھی تاریک محل کو شہزا گرا نے روشن رکھا کنیزوں سے کبھی ان کو جلا لیا کرتی تھی کبھی ان سے جل لیا کرتی تھی آداب تجارت سے بھی نا واقف تھی شعر و ادب کی طرح مجھے ویسا پیار نہیں دیتی تھی جیسی غزل لیا کرتی تھی
Related Ghazal
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے
Khumar Barabankvi
95 likes
کیا غلط فہمی ہے وہ ہے وہ رہ جانے کا صدمہ کچھ نہیں حقیقت مجھے سمجھا تو سکتا تھا کہ ایسا کچھ نہيں عشق سے بچ کر بھی بندہ کچھ نہیں ہوتا مغر یہ بھی سچ ہے عشق ہے وہ ہے وہ بندے کا اختیار کچھ نہیں جانے کیسے راز سینے ہے وہ ہے وہ لیے بیٹھا ہے حقیقت زہر کھا لیتا ہے پر منا سے اگلتا کچھ نہیں شکر ہے کہ ا سے نے مجھ سے کہ دیا کہ کچھ تو ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے کہنے ہی والا تھا کہ اچھا کچھ نہیں
Tehzeeb Hafi
105 likes
نہیں تھا اپنا م گر پھروں بھی اپنا اپنا لگا کسی سے مل کے بے حد دیر بعد اچھا لگا تمہیں لگا تھا ہے وہ ہے وہ مر جاؤں گا تمہارے بغیر بتاؤ پھروں تمہیں میرا مزاق کیسا لگا تجوریوں پہ نظر اور لوگ رکھتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آسمان چرا لوں گا جب بھی موقع لگا مہ لقا ہے بھری الماریاں بڑے دل سے بتاتی ہے کہ محبت ہے وہ ہے وہ کس کا کتنا لگا
Tehzeeb Hafi
94 likes
More from Muzdum Khan
حقیقت جو مری تابکاری ہے وہ ہے وہ پگھلنے لگ گیا تو جو ستارہ بھی نہیں تھا حقیقت بھی جلنے لگ گیا تو خوبصورت عورتوں نے کر دی بینائی عطا آنکھ ملنے والا آخر ہاتھ ملنے لگ گیا تو دوسرا پاؤں نہیں رکھنے دیا ہے وہ ہے وہ نے اسے پہلا پاؤں رکھتے ہی چشمہ ابلنے لگ گیا تو
Muzdum Khan
8 likes
مجھے لگ مانگتی تو بولتی خدا دو مجھے بچا لیا ہے گناہ سے تمہیں دعا دو مجھے یہ لوگ دیکھ رہیں ہیں مری چمک ہے وہ ہے وہ تمہیں کہی اکیلے جلانا ابھی بجھا دو مجھے مجھے کسی سے محبت نہیں تمہارے سوا تمہیں کسی سے محبت ہے تو بتا دو مجھے
Muzdum Khan
11 likes
ہے وہ ہے وہ پریشان حقیقت دکھی ہوئی ہے یہ محبت ہے تو بڑی ہوئی ہے کچھ بھی اپنا نہیں ہے مری پا سے بد دعا بھی کسی کی دی ہوئی ہے ا سے نے پوچھی ہے آخری خواہش اور محبت بھی ہے وہ ہے وہ نے کی ہوئی ہے آج غصہ نہیں پیوںگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ہے وہ ہے وہ نے شراب پی ہوئی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں اتنی بار چاہتا ہوں جتنی عورت پہ شاعری ہوئی ہے بچہ گروہ کے کیا ملےگا تمہیں دنیا پہلے بے حد گری ہوئی ہے
Muzdum Khan
23 likes
تیری تصویر معطل نہیں ہوتی مری دوست ورنا دیوار تو پاگل نہیں ہوتی مری دوست عشق ہے وہ ہے وہ جیت مقدر سے ہے محنت سے نہیں ایسے کھیلوں ہے وہ ہے وہ ریہرسل نہیں ہوتی مری دوست ا سے نے بےچینی بھی بخشی ہے بڑی مشکل سے اور بےچینی مسلسل نہیں ہوتی مری دوست
Muzdum Khan
9 likes
ہمارا دل جب نہیں لگا تو سوال پیدا ہوا لگے گا جواب ہے وہ ہے وہ ہم نے کہ دیا ٹھیک ہے مغر اور کیا لگے گا یوں ہی کبھی تیر چوم کر حقیقت مری طرف چھوڑ دے کماں سے میرا مقدر تو ا سے طرح کا ہے تیر دشمن کو جا لگے گا کہ دوست ایسے معاشرے ہے وہ ہے وہ معاشقہ چاہتے ہیں مجھ سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے ہے وہ ہے وہ تھپڑ بھی خا لگ چا ہوں تو حقیقت بھی برقے ہے وہ ہے وہ آ لگے گا ہمارا نقشہ کرایہ محنت دماغ لگتا ہے راستوں پر تمہاری تو ان سے دوستی ہے تمہارا تو شکریہ لگے گا مشاعروں ہے وہ ہے وہ غزل نہیں لوگ صرف حلیوں کو دیکھتے ہیں میرا بھی ایک دوست ہے جو ہنسنے کے بعد جان ایلیا لگے گا
Muzdum Khan
11 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Muzdum Khan.
Similar Moods
More moods that pair well with Muzdum Khan's ghazal.







