لگ چلتی ہے لگ رکتی ہے فقیرا تری دنیا بھی اچھی ہے فقیرا تمہیں ہٹنا پڑےگا راستے سے یہ جھونپڑیوں کی سواری ہے فقیرا ہمارے نا توان کندھوں پہ مت رکھ آئی لگ دار بھاری گٹھری ہے فقیرا تری گ گرا کو لے کر اتنے جھگڑے ابھی تو پہلی پیڑھی ہے فقیرا فقط یہ سوچ کر خاموش ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہاری روزی روٹی ہے فقیرا ہم ا سے کے آستاں تک کیسے پہنچے بڑی لمبی کہانی ہے فقیرا ہمارے ماننے والوں ہے وہ ہے وہ ہوں جا ہمارا فیض جاری ہے فقیرا
Related Ghazal
بات ہے وہ ہے وہ بچھڑنا نہیں کرتا اور وضاحت کبھی نہیں کرتا ایک ہی بات مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اچھی ہے اور ہے وہ ہے وہ ب سے وہی نہیں کرتا مجھ کو کیسے ملے بھلا فرصت ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی کام ہی نہیں کرتا آپ ہی لوگ مار دیتے ہیں کوئی بھی خود کشی نہیں کرتا ایک جگنو ہے تیری یادوں کا جو کبھی روشنی نہیں کرتا
Ammar Iqbal
37 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں دبا دبا سا صحیح دل ہے وہ ہے وہ پیار ہے کہ نہیں تو اپنے دل کی جواں دھڑکنوں کو گن کے بتا مری طرح ترا دل بے قرار ہے کہ نہیں حقیقت پل کہ ج سے ہے وہ ہے وہ محبت جوان ہوتی ہے ا سے ایک پل کا تجھے انتظار ہے کہ نہیں تری امید پہ ٹھکرا رہا ہوں دنیا کو تجھے بھی اپنے پہ یہ اعتبار ہے کہ نہیں
Kaifi Azmi
33 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
More from Zia Mazkoor
ہمارے ساتھ کوئی مسئلہ فرات کا ہے وگر لگ علم اسے اپنی مشکلات کا ہے مری حساب سے مازوری حسن ہے میرا ا گر یہ عیب ہے تو بھی خدا کے ہاتھ کا ہے اک آدھے کام کے حق ہے وہ ہے وہ تو خیر ہے وہ ہے وہ بھی ہوں تمہارے پا سے تو دفترون سفارشات کا ہے ہماری بات کا جتنا وسیع پہلو ہے زبان پہ لانے ہے وہ ہے وہ نقصان کائنات کا ہے ہم ا سے کے ہونے نا ہونے پہ کتنا لڑ رہے ہیں کسی کے واسطے یہ کھیل نفسیات کا ہے
Zia Mazkoor
8 likes
شاہ سے چھپکے قی گرا نے شہزا گرا کو پیغام لکھا جنگ سے بھاگنے والوں ہے وہ ہے وہ شہزادے کا بھی نام لکھا دوردراز سے آنے والے خط مری ہمسائی کے تھے اک دن ا سے نے ہمت کر کے اپنا اصلی نام لکھا ہم دونوں نے اپنے اپنے دین پہ قائم رہنا تھا گھر کی اک دیوار پہ اللہ اک دیوار پہ رام لکھا ایک محبت ختم ہوئی تو دوسری کی تیاری کی نئی کہانی کے آغاز ہے وہ ہے وہ پہلی کا انجام لکھا
Zia Mazkoor
17 likes
زیادہ کچھ نہیں ہمت تو کر ہی سکتے ہیں اک اچھے کام کی نیت تو کر ہی سکتے ہیں خدا کے ہاتھ سے لکھا مقدر اپنی جگہ ہم ا سے کے بندے ہیں محنت تو کر ہی سکتے ہیں غریب لوگ مرمت لگ کر سکیں تو کیا شکستہ گھر کی حفاظت تو کر ہی سکتے ہیں ہمارے بچے اجازت طلب نہیں کرتے م گر بتانے کی زحمت تو کر ہی سکتے ہیں ہزاروں سال گزارے ہیں مقت گرا رہ کر اک آدھ بار طلسم یار تو کر ہی سکتے ہیں تو کیا ہوا جو شریک حیات بن لگ سکے تمہاری شا گرا ہے وہ ہے وہ شراکت تو کر ہی سکتے ہیں
Zia Mazkoor
25 likes
ہم تو آپ سے اچھی باتیں کرتے ہیں آپ ہی ہم سے ایسی باتیں کرتے ہیں ملنے پر چپ لگ جاتی ہے دونوں کو فون پر اچھی خاصی باتیں کرتے ہیں لوگ تو کرتے ہوں گے ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر جو شہر کے درزی باتیں کرتے ہیں بن دیکھے ایمان نہیں لا سکتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور حقیقت غیر یقینی باتیں کرتے ہیں پیر کانسا تو چپ ہی رہتے ہیں مذکور دنیا دار ہی دینی باتیں کرتے ہیں
Zia Mazkoor
23 likes
اسی ندامت سے اس کا کے کندھے جھکے ہوئے ہیں کہ ہم چھڑی کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے ہیں یہاں سے جانے کی جلدی کس کو ہے جاناں بتاؤ کہ سوٹکیسوں ہے وہ ہے وہ کپڑے کس نے رکھے ہوئے ہیں کرا تو لوں گا علاقہ خالی ہے وہ ہے وہ لڑ جھگڑ کر مگر جو اس کا نے دلوں پہ قبضے کیے ہوئے ہیں حقیقت خود پرندوں کا دانہ لینے گیا تو ہوا ہے اور اس کا کے بیٹے شکار کرنے گئے ہوئے ہیں تمہارے دل ہے وہ ہے وہ کھلی دکانوں سے لگ رہا ہے یہ گھر یہاں پر بہت پرانی بنے ہوئے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے ہوا شوق کراؤں جا کر یہ روشنی کو کہ ان چراغوں پہ میرے پیسے لگے ہوئے ہیں تمہاری دنیا ہے وہ ہے وہ کتنا مشکل ہے بچ کے چلنا قدم قدم پر تو آستانے بنے ہوئے ہیں جاناں ان کو چاہو تو چھوڑ سکتے ہوں راستے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ لوگ ویسے بھی زندگی سے کٹے ہوئے ہیں
Zia Mazkoor
15 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Zia Mazkoor.
Similar Moods
More moods that pair well with Zia Mazkoor's ghazal.







